خوفناک تصادم کا خطرہ
11 نومبر 2019 2019-11-11

مولانا فضل الرحمان دھرنے کے پکے کھلاڑی، ڈھیل سے متاثر نہ ڈیل پر آمادہ، دس دنوں سے ایک ہی رٹ ”استعفیٰ دیں“ کیسے دے دیں؟ دے دیا تو کیا کریں گے۔ ”انہیں تو اور کوئی کام بھی نہیںآ تا“ حکومت نے مذاکرات کے ذریعہ سمجھانے کی کوششیں کر دیکھیں، یکے بعد دیگرے سارے مہرے آزما لیے شاید کوئی نسخہ کار آمد ہوسکے۔ سمجھانے بجھانے کا عمل پرویز خٹک سے شروع ہو کر ان ہی پر ختم ہوگیا۔ ”مٹی پاﺅ“ فیم چوہدری شجاعت نے لبھانے کی کوشش کی۔ کہا آپ نے تو میلہ لوٹ لیا۔ جواب آیا یہ میلہ نہیں آزادی مارچ ہے۔ کسی نے مولانا کے کان میں پھونک دیا کہ چوہدری شجاعت کا مذاکرات کا ریکارڈ اچھا نہیں، جس سے مذاکرات کیے وہ مارا گیا۔ اکبر بگٹی، جامعہ حفصہ، لال مسجد کے معاملات، حضرت اچھی شہرت نہیں رکھتے۔ پہلے تباہ و برباد ہونے دیتے ہیں۔ 5 سال بعد اس کی مذمت کرتے ہیں، مولانا نے چوہدری شجاعت کے گھر روٹی شوٹی اور شوگر فری حلوہ تناول فرما کر اپنے رب کا شکر ادا کیا۔ جو چوہدری سمیت سب کو رزق دیتا ہے اور واپس چلے آئے۔ بات نہ بنی تو پرویز الٰہی کو ٹاسک ملا وہ بھی پانچ ملاقاتیں کرچکے بالآخر ہاتھ اٹھا دیے۔ مولانا عجیب مٹی کے بنے ہوئے ہیں ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ مذاکرات کی ابتدا استعفیٰ انتہا استعفیٰ مراعات کا پیکج، دیگر تمام مطالبات منظور کرنے کا لولی پاپ مولانا ایک ہی بات پر اڑے ہوئے ہیں۔ ”استعفیٰ دو گھر جاﺅ“ پرویز خٹک بڑے طمطراق سے مذاکرات کرنے آئے تھے۔ ہم زبان ضرور ہیں۔ مزاج شناس نہیں، دو تین ادوار ہی میں تھک ہار کر بیٹھ گئے۔ مولانا کا ایک ہی جواب ”وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں“ حالانکہ ٹی وی پر آنے والے ”ماہرین ٹاک“ نے انکشاف کیا کہ وزیر اعظم نے اپنی خو بدل لی، جب سے دھرنا یا آزادی مارچ شروع ہوا۔ اتنی زیادہ خلق خدا دیکھ کر لہجہ میں تبدیلی آ گئی۔ کاش یہ تبدیلی روز اول سے ہوتی تو شاید مولانا کو دھرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی، اپوزیشن کے خلاف تلخ ترش بیانات سے منع کردیا گیا لیکن سارے ترجمان (آج کل سارے وزیر مشیر ترجمان بنے ہوئے ہیں، جو قلمدان سونپے گئے تھے ان پر معدودے چندکے سوا کسی کا دھیان نہیں) رٹے رٹائے بیانات دہرا رہے ہیں۔ بیانات کیا ہیں۔ جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف، مٹی کا تیل اور پیٹرول اتنا مہنگا لیکن اس کا بے دریغ استعمال خزانہ پر بوجھ، معیشت کی حالت پہلے ہی تباہ ہے۔ آئی سی یو میں پہنچ گئی۔ آئی ایم ایف کے سود خوروں کو اپنے قرضوں کی وصولی سے مطلب، پاکستان روپیہ ٹکے سیر بکے یا عوام مہنگائی سے چیختے چلاتے رہیں ان کی بلا سے، اعداد و شمار جھوٹے ہیں یا ہمارے وزیر مشیر جو یہ کہتے نہیں تھکتے کہ گزشتہ دور میں ہمارے دور سے زیادہ مہنگائی تھی۔ پتا نہیں ان باتوں پر کون یقین کرتا ہے۔ گزشتہ دور میں میاں بیوی سے لڑ کر خود کشی کرتا تھا۔ اس دور میں بیوی بچوں کو روٹی نہ ملنے پر رسی کا پھندا گلے میں ڈال لیتی ہے۔ تلخ موضوع لے بیٹھے۔ عرض کر رہے تھے مولانا ٹس سے مس نہیں، وزیرا عظم استعفیٰ پر آمادہ نہیں، راج پاٹ کیسے چھوڑ دیں۔ رسم دنیا تو ہے لیکن اپنے یہاں موقع و دستور نہیں۔ پرویز خٹک نے وزیر اعظم کو مذاکرات کی ناکامی کی رپورٹ دے دی۔ ادھر سے مایوسی کا اظہار کیا گیا” استعفیٰ کی ضد ہے تو مذاکرات ختم “پھر کیا کریں؟ روزانہ سر جوڑ کر بیٹھ رہے ہیں۔” کوئی صورت نظر نہیں آتی“ سر توڑ کوششیں کر دیکھیں مولانا ”زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد“ کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ اس پر دھمکی کہ 12 نومبر کو دھرنا نیا رخ اختیار کرلے گا۔ مولانا بھید نہیں کھولتے۔ بی سی ڈی منصوبے سینے میں دفن، حکومت کو اسی پر اسراریت سے خطرہ ہے۔ ہزاروں لاکھوں شرکاءحکم کے تابع یہاں سے نکلے تو کدھر جائیں گے۔ ڈی چوک، شاہراہ دستور، فیض آباد یا پھر پورے ملک میں پھیل جائیں گے۔ شاہراہیں بند، سڑکیں بلاک، حکومت کی اپنی بھی ایک رٹ ہے۔ جسے قائم کرنے کے لیے وزیر داخلہ بنایا جاتا ہے۔ ایکشن ہوگا ری ایکشن اس سے زیادہ، اللہ نہ کرے تصادم کی نوبت آئے۔ ملک کے لیے خطرناک ہوگا۔ پہلے ہی عدم استحکام کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ ہنگاموں کی نوبت آئی تو استعفیٰ آئے نہ آئے تباہی ضرور آئے گی۔ کسی نے کہا مولانا بند گلی میں داخل ہوگئے۔ جواب ملا حکومت کون سی موٹر وے پر مٹر گشت کر رہی ہے، گھر سے گرفتاری کی ہوائی دھمکی پر ہوائیاں اڑنے لگی تھیں۔ 2014ءکے دھرنے کی طرح سول نافرمانی کا حکم دے دیا گیا تو کیا ہوگا۔ وقت گزر گیا تو قومی ڈائیلاگ کی پیشکشیں بے معنی ہوجائیں گی۔ مولانا پکے کھلاڑی اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں انہیں بخوبی علم ہے کہ سیدھی انگلیوں سے گھی نہیں نکلے گا۔ مگر انگلیاں ٹیڑھی کرنے سے دونوں کا نقصان ہوگا۔ انسانی جان قیمتی لاشیں گریں تو خونی انقلاب کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ دونوں جانب احساس موجود ہے۔ لیکن مولانا حکمرانوں کو ”راہ راست“ پر لانے کے لیے دباﺅ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ موسم بدلتا دیکھ کر لہجہ میں تبدیلی آئی ہے۔ غرور اور تکبر برقرار ہے کسی ”بابے“ کا قول ہے کہ انسان اپنا مکان بدلتا ہے رشتے بدلتا ہے۔ دوست بدلتا ہے اور پھر بھی دکھی رہتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنا رویہ نہیں بدلتا۔ حالانکہ اس کے بغیر اپنا بھلا ہوتا ہے نہ دوسروں کی خیر خواہی، سوچنا ہوگا کہ کہاں کھڑے ہیں۔ شیخ رشید نے مولانا کے بارے میں کہا تھا کہ ان کے پیچھے کنواں آگے کھائی۔ انقلابات ہیں زمانے کے کہ مولانا شیخ رشید اور ان کے پورے ”قبیلہ“ کو اسی موڑ پر لے آئے ہیں، مولانا کی ضد یا اچھے لفظوں میں اصول پرستی برقرار رہی تو حضرات ”اور کھل جائیں گے دوچار ملاقاتوں میں“ گزشتہ دس دنوں میں ”موسم بدلا رت گدرائی“ ہے۔ وزیر اعظم کا رویہ بدلے نہ بدلے۔ ارد گرد کے لوگ متوجہ ہوئے ہیں۔ لوگ کہیں تو سر جوڑ کر بیٹھے ہیں ڈیل کے بعد ڈھیل دی گئی۔ یا عدالتوں کی ڈھیل کے بعد ڈیل کی نوبت آئی، وفاقی وزیر غلام سرور خان نے ڈھیل اور ڈیل کے سوال پر ہلکا سا سر ہلا کر جواب دیا۔ کہیں کچھ ہوا ہے۔ بقول مومن خان مومن ”جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا“ شکنجہ ایسا کسا گیا تھا کہ جینا مشکل ہوگیا پھر اچانک کسی بابے نے بیک ڈور رابطہ بحال کرا دیا۔ بابوں سے دنیا خالی نہیں ہر دور میں موجود ہوتے ہیں لیکن بابے اور رابطہ کار اول آخر دھرنے میں بیٹھے 5 لاکھ فدائین سے متاثر ہوئے۔ سمجھایا کہ جھکنے سے کامیابی ملتی ہے۔ غرور اور تکبر انسان کو بے نشان کردیتا ہے۔ پہلے شریف خاندان کی باری، وزیر مشیر حیران، ترجمان انگشت بدنداں یا الٰہی یہ ماجرا کیاہے۔ کیا ابر رحمت برسا ہے کہ جنگل کا جنگل ہرا ہوگیا۔ کتنے عرصہ بعد کوٹ لکھپت جیل کی وی وی آئی پی قیدی نے گھر کی شکل دیکھی، وہی گھر جہاں ان کی اہلیہ دفن ہیں۔ جاتے ہی فاتحہ پڑھی۔ ابا کی قبر پر سلام کیا۔ صدمہ ناقابل برداشت لیکن اعصاب مضبوط، 70 سالہ نواز شریف سب کچھ برداشت کر گیا۔ پلیٹ لیٹس آج ٹوٹنے شروع نہیں ہوئے اسی دن ٹوٹنے لگے تھے جب بستر مرگ پر آنکھیں بند کیے محترمہ کلثوم نواز نے آنکھیں کھول کر اپنے ”باﺅ جی“ سے بات تک نہ کی تھی۔ آنکھیں ایسی بند ہوئیں کہ پھر نہ کھل سکیں۔ نواز شریف کی حالت اتنی تشویشناک کہ بیرون ملک جانے پر مجبور اللہ انہیں صحت کاملہ شفائے عاجلہ عطا فرمائے باہر جانے پر آمادہ نہیں تھے۔ شہباز شریف نے کان میں کہا۔

یہ سماں بدلنا ہے آخرش ذرا آندھیوں کو تو رکنے دو

کہ ہوا ہے تیز بہت ابھی سو دیا جلانے کی ضد نہ کر

میاں صاحب باہر جانے پر رضا مند ہوگئے، کہتے ہیں انسان کی زندگی میں ایسے لمحات آجاتے ہیں۔ جو وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے اچھا یہی ہے کہ ان کو گزر جانے دیا جائے۔ ویسے بھی آئندہ دن انتہائی ہنگامہ خیز ہونے کے خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں۔ اتھل پتھل جاری ہے ،کلیدی شخصیت کی مخالفت میں شدت پیدا ہو رہی ہے۔ غیر متوقع واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔ دسمبر میں اسمبلیوں کے حالات بدلنے اور جنوری میں نظام کی تبدیلی کی پیشگوئیاں کی جا رہی ہیں۔ اللہ کرے سب کچھ جھوٹ ہو، ملک قائم دائم اور عوام خوش حال ہوں لیکن ستاروں پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ نومبر عوام کے لیے مشکلات لے کر آرہا ہے، آگیا ہے، اللہ اپنا کرم کرے۔


ای پیپر