سب سے اعلیٰ ،سب سے اجمل ،سب سے افضل ہمارے نبیﷺ
11 نومبر 2019 (23:27) 2019-11-11

رانا اعجاز حسین :

خالقِ کائنات مالک ارض وسماءاللہ ربّ العزت کی طرف سے نبی کریمکو پوری کائنات کے لیے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا گیا۔ اللہ ربّ العزت نے آپکو ایسا بنایا ہے کہ نہ اس سے پہلے ایسا کوئی بنایا نہ بعد میں کوئی بنائے گا۔ سب سے اعلیٰ، سب سے اجمل، سب سے افضل، سب سے اکمل، سب سے ارفع، سب سے انور، سب سے انسب، تمام کلمات مل کر بھی آپ کی شان کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ اگر سارے جہاں کے جن و انس مل کر بھی خاتم النبین حضرت محمدکی شان اقدس اور سیرت طیبہ کے بارے میں لکھنا شروع کریں تو زندگیاں ختم ہو جائیں مگر رسالت مآبکی شان کا کوئی ایک باب بھی مکمل نہیں ہو سکے گا۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے ”اے محبوب(ﷺ)ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کر دیا ہے۔ جس ہستی کا ذکر مولائے کائنات بلند کرے، جس ہستی پر اللہ تعالیٰ کی ذات درودوسلام بھیجے، جس ہستی کا ذکر اللہ رحمن ورحیم ساری آسمانی کتابوں میں کرے، جس ہستی کا، چلنا، پھرنا، اٹھنا، بیٹھنا، سونا، جاگنا، کروٹ بدلنا، کھانا، پینا۔ مومنین کے لئے باعث نجات، باعث شفائ، باعث رحمت، باعث ثواب، باعث حکمت، باعث دانائی ہو، اور اللہ رب العزت کی ذات نے آپ کی ذات کبریا کو مومنین کے لئے باعث شفاعت بنا دیا ہو، اس ہستی کا مقام اللہ اور اللہ کا نبیہی جانتے ہیں۔ پھر اس ہستی کے مطلق سب کچھ لکھنا انسانوں اور جنوں کے بس کی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرمکو بے شمار خصوصیات عطافرمائی ہیں جن کو لکھنا تو درکنار سارے جہان کے آدمی اور جن مل کر گن بھی نہیں سکتے۔ آپکی ذات اقدس الفاظ اور ان کی تعبیرات سے بہت بلند وبالا تر ہے۔ آپ کا ئنات کا مجموعہ حسن ہیں، آپ کا قد نہ زیادہ لمبا تھا نہ پست، ماتھا کشادہ تھا، سر بہت خوبصورتی کے ساتھ بڑا تھا، آپ کے بال نیم گھنگریالے تھے، آپ کی بھوئیں گول خوبصورت تھیں جہاں وہ ملتی ہیں وہاں بال نہ تھے وہاں ایک رگ تھی جو کہ غصے میں پھڑکتی تھی، آنکھ مبارک کے بارے میں ہے کہ آپ کی آنکھیں لمبی، خوبصورت، سرخ ڈوروں سے مزین تھیں، موٹی اور سیاہ، سفیدی انتہائی سفید، آپ کی پلکیں بڑی دراز، آپ کی ناک مبارک آگے سے تھوڑی اٹھی ہوئی اور نتھنوں سے باریک، ایک نور کا ہالہ تھا جو ناک پر چھایا رہتا تھا۔ آپ کے ہونٹ انتہائی خوبصورت تراشیدہ، تھوڑے دہانے کی چوڑائی کے ساتھ، دانت بڑے خوبصورت اور متوازی اور ان میں کسی قسم کی کوئی بے ربطگی نہ تھی، انتہائی باہم مربوط، پہلے چار دانتوں میں خلاءتھا، جب آپ مسکراتے تو دانتوں سے نور نکلتا ہوا سامنے پڑتا تھا، گال مبارک نہ پچکے ہوئے نہ ابھرئے ہوئے، چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہوا گول تھا، داڑھی مبارک گھنی تھی۔

ام مبارکؓ فرماتی ہیں ”میں نے ایک نوجوان دیکھا بڑا صاف ستھرا، حسین سفید چمکتا چہرہ، جیسے کلیوں میں ایک تازگی ہوتی ہے۔ رسول کریم کا رنگ چمکتا تھا نوخیز کلیوں کی طرح، اور فرماتی ہیں نہ آپ ایسے موٹے تھے کہ نظروں میں جچیں نہیں اور نہ ایسے دبلے اور کمزور تھے کہ بے ر عب ہو جائیں۔ آپ وسیم وقسیم تھے (عربی زبان میں وسیم بھی خوبصورت کو کہتے ہیں اور قسیم بھی خوبصورت کو کہتے ہیں، وسیم وہ خوبصورت ہوتا ہے جسے جتنا دیکھیں اس کا حسن اتنا بڑھتا ہے جیسے دیکھتے ہوئے آنکھ نہ بھرے، قسیم اسے کہتے ہیں جس کا ہر عضو الگ الگ حسن کی ترجمانی کرتا ہو، جس کا ہر عضو حسن میں کامل اور اکمل ہو )۔ اللہ تعالیٰ نے حضورکو سراج منیرکا لقب دیا یہ لقب صرف آپ کو ہی دیا گیا، جس کا مطلب ہے ”روشن چراغ “ آپ نبوت کا روشن آفتاب ہیں۔ آپ کے آفتاب کی کرنیں سب سے پہلے اصحابؓ پر پڑیں پھر تمام دنیا پر پھیل گئیں۔اور انہی کرنوں کی بدولت دنیا میں اسلام پھیل گیا۔ اور ان کرنوں نے چپہ چپہ پر ہدایت کا نور پھیلایا۔

علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت محمد کے حسن وجمال میں سے بہت تھوڑا سا ظاہر فرمایا۔ اگر سارا ظاہر فرماتے تو آنکھیں اس کو برداشت نہ کر سکتیں۔ حضرت یوسفؑ کا سارا حسن ظاہر کیا لیکن رسول کریمکے حسن کی چند جھلکیاں دکھائی گئیں اور باقی سب مستور رہیں، کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو اس جمال کی تاب لا سکتی، اس لئے ہم وہی کچھ کہتے ہیں جو صحابہ کرامؓ نے آپکو دیکھ کر ہم تک پہنچایا۔ براءبن عازبؓکی اس بات کو حضرت حسان بن ثابتؓ نے ان الفاظ میں بیان کیا” آپ جیسا حسین میری آنکھ نے نہیں دیکھا، آپ جیسے جمال والا کسی ماں نے نہیں جنا ، آپ ہر عیب سے پاک پیدا ہوئے ، آپ ایسے پیدا ہوئے جیسے آپ نے خود اپنے آپ کو چاہا ہو۔“ یہاں شاعر کا تخیل اتنی بلندی پر گیا ہے کہ قیامت تک آنے والے نعت خواں وہاں تک نہیں پہنچ سکتے، ساری دنیا کا نعتیہ کلام ایک پلڑے میں اور یہ ایک مصرع دوسرے پلڑے میں ہوتو اس کا وزن زیادہ ہے۔ غرضیکہ آپ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں سب سے زیادہ رحمت اللعالمین حضرت محمد کی محبت پیدا فرمائے، اور ہمیں نبی کریم کی سیرت و کردا رکو اپنا کر دین اسلام کی تبلیغ و ترویج اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنائے۔آمین۔

٭٭٭


ای پیپر