کرتار پور۔ اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول
11 نومبر 2019 2019-11-11

پنجاب کی تاریخ ہمیشہ سے جنگ و جدل اور معرکہ آرائی سے لبریز رہی ہے لیکن اس میں امید کا پہلو یہ ہے کہ پنجاب کے شاعروں ادیبوں اور اہلِ دانش نے ہر دور میں جنگ کے شعلوں کو محبت کی ٹھنڈک سے سرد کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ پنجاب جب ٹکڑے ٹکڑے ہو کر طوائف الملوکی اور بیرونی حمہ آوروں کا میدان جنگ بنا ہوا تھا تو عظیم شاعر وارث شاہ (1722-1708 ئ) نے ہیر رانجھا کے عشق و محبت کی داستان لکھ کر اسے لافانی بنا دیا ۔ وارث شاہ کے بعد کا 50 سالہ دور پنجاب میں راجہ رنجیت سنگھ کے عروج و زوال کا دور ہے جس کے ساتھ ہی رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد پنجاب پر انگریزوں کا قبضہ مکمل ہو گیا جو 1947 ءتک جاری رہا۔ 1947 ءمیں پنجاب میں خون ریزی کی نئی تاریخ رقم ہوئی جب محلاتی سازشوں کے نتیجے میں ایک سازش کے تحت ایسے حالات پیدا کیے گئے جس میں پنجابیوں نے پنجابیوں کا خون پانی کی طرح بہایا اور پنجاب ایک بار پھر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ۔ ایسٹ پنجاب انڈیا کے پاس رہا مگر ویسٹ پنجاب پاکستان کا حصہ بنا۔ پنجاب کا جغرافیہ تبدیل ہوا مگر تاریخ نہیں بدلی۔ سکھوں کو یہ سمجھنے میں نصف صدی کا عرصہ لگ گیا کہ ہندوستان نے ان کے ساتھ کیسے کیسے نا انصافیاں اور ظلم و استحصال کا بازار گرم کیا۔ ان کے مقدس مقامات کو اندرا گاندھی کے دور میں فوجی بوٹوں تلے روندا گیا۔ اس بے حرمتی پر اندرا گاندھی کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ 1947 ءمیں ہونے والے قتل عام پر پنجابی کی مشہور شاعرہ امرتا پریتم نے ایک ایسی نظم لکھی جس نے انہیں پنجابی کی اپنے وقت کی سب سے بڑی شاعرہ کے مقام پر کھڑا کر دیا ۔ گوجرانوالہ میں 1919 ءمیں پیدا ہونے والی امرتا پریتم نے تقسیم ہند پر پنجاب میں ہونے واے قتل و غارت گری پر نظم لکھی۔

اج آکھاں وارث شاہ نوں کِتوں قبراں وچوں بول

تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول

اک روئی سی دھی پنجاب دی تو لکھ لکھ مارے ویٹن

اج لکھاں دھیاں روندیاں تینوں وارث شاہ نوں کہٹن

اٹھ درد منداں دیا دردیا! اٹھ تک اپنا پنجاب

وچ بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب

دھرتی تے لہو وسیا قبراں پٹیاں چوں

پریت دیاں شہزادیاں وچ مزاراں رون

اج سبھے کیدو بن گئے حسن عشق دے چور

کتھوں لیائیے لبھ کے وارث شاہ اک ہور

یہ نظم پنجاب سے محبت کرنے والوں کو گزشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے خون کے آنسو رہا رہی ہے۔ بالآخر 72 سال کے بعد ایک نئی تاریخ لکھی جا رہی ہے ۔ سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک دیو جی کے 550 ویں یوم پیدائش کے موقع پر حکومت پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں کرتار پور کو ریڈور کو سکھ عقیدت مندوں کے لیے کھولا جا رہا ہے۔ جہاں انڈین پنجاب سے آنے والے سکھ یاتری ایک روز کی یاترا کے بعد شام کو واپس لوٹ جایا کریں گے ۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کی جانب سے اس طرح کے اقدام کو دیوار برلن گرائے جانے کے واقعہ سے بڑا قرار دیا جا سکتا ہے۔ جس سے سکھوں کے لیے پاکستان کے بارے میں محبت کے جذبات میں اضافہ ہو گا۔ امریکی صدر رونالڈ ریگن کے دور میں جب 1989 میں جرمن شہر برلن کو دو ٹکڑے کرنے والی اس دیوار کو گرایا گیا تو اس کے سیمنٹ کے بلاک کا ایک ٹکڑا وائٹ ہاﺅس میں بطور یاد گار رکھ دیا گیا کیونکہ یہ امن اور بھائی چارے کی ایک تاریخی فتح تھی۔ مگر بد قسمتی سے تاریخ جب برصغیر کی طرف متوجہ ہوئی ہے تو انصاف سے کام نہیں لیا جاتا اور عالمی بد دیانتی اور جانبداری صاف نظر آ رہی ہوتی ہے ۔

پاکستان نے سکھوں کے مذہبی جذبات کے احترام میں جو کرتار پور بارڈر کھولنے کا فیصلہ کیا یہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ مگر انڈین میڈیا میں اس پر تنقید کی جا رہی ہے۔ بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن ریٹائرڈ ہرویندر سنگھ نے اپنے بیان میں اسے پاکستان آرمی کا ایک منصوبہ قرار دے دیا ہے جس سے سکھوں کو تکلیف اور صدمہ پہنچا ہے۔ حالانکہ وہ خود سکھ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں مگر سیاست ان کے دھرم پر غالب آ گئی ہے۔

پاکستان کے اندر بہت سے سیاسی عناصر انڈین پراپیگنڈا کا شکار ہو کر اس کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں اور کشمیر میں انڈین مظالم کے جواب میں اس طرح کے اقدام پر تنقید کر رہے ہیں۔ جو کہ بالکل بے جا اور غلط ہے ۔ اس اقدام سے سکھ برادری پاکستان کے زیادہ قریب آ گئی ہے ۔ یہ کاریڈور ایک ایسے وقت کھلنے جا رہا ہے ۔ جب اگلے سال 2020 ءکو سکھوں نے دنیا بھر میں خالصتان کے قیام کے لیے ایک ریفرنڈم کا سال قرار دے رکھا ہے اور اگر ریفرنڈم میں سکھ اپنے الگ وطن کے قیام کا مطالبہ لے کر اٹھ کھڑے ہوئے تو انڈیا کے لیے اس کی وہی پوزیشن ہو گی جو مشرق پاکستان میں اس وقت ہماری تھی۔ انڈین نے اس موقع سے سیاسی فائدہ اٹھا کر بنگلہ دیش والوں کے ساتھ دوستی کا ڈرامہ رچایا لگتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے ۔ 1469 ءمیں شیخوپورہ کے ایک گاﺅں تلونڈی میں کالو کھتری کے گھر پیدا ہوانے والے نانک جس نے آگے چل کر انسانیت سے محبت کا درس دیا اسے خبر نہیں تھی کہ اس کے بعد آنے والی نسلیں اس کے آفاق پیغام کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیں گی۔

مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد دھرنے میں اپنے بیان میں کہا کہ مجمع5 لاکھ کا ہو گیا ہے جبکہ سکھوں کو ویزا کے بغیر کرتار پور لایا جا رہا ہے ۔ دوسری بات انہوں نے یہ کہی کہ علامہ اقبال کے جنم دن کے موقع پر کرتار پور کا افتتاح کرنا تاریخی طور پر کنفیوز کر رہا ہے کہ ہم گورو نانک کا یوم پیدائش منائیں گے یا علامہ اقبال کا۔ مولانا صاحب کی یہ دونوں باتیں سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہے جو حقائق سے بعید ہیں۔ اولاً تو مولانا کو کرتارپور یاترا اور حج کے اخراجات کا غیر منطقی موازنہ کرنا ہی نہیں چاہیے تھا وہ ایک عالم دین ہیں یہ مناسب نہیں تھا البتہ اگر یہ موازنہ ضروری ہے تو انہیں انصاف سے کام لینا چاہیے تھا۔ انڈین بارڈر سے کرتار پور کا فاصلہ 600 میٹر ہے جس پر 3110 روپے یعنی 20 ڈالر فیس ہے یہ فی کلو میٹر خرچہ 5000 روپ سے زیادہ بنتا ہے اسی طرح پاکستان سے مکہ جانے کا فاصلہ 5200 کلو میٹر ہے فی کلو میٹر خرچہ نکالیں تو 96 روپے کلو میٹر لاگت بنتی ہے پھر کون سا سفر زیادہ مہنگا ہے ؟ یہ ایک Simple Math ہے جس کو مولانا نے سیاسی رنگ دیا ہے۔

جہاں تک علامہ اقبال اور گورو نانک کا تقابلی جائزہ ہے تو علامہ صاحب خود گورو نانک کے مداح تھے اور ان کی شان میں شاعری کرتے تھے مثلاً نانک نے جس زمیں پر وحدت کا گیت گایا یہ علامہ صاحب کے الفاظ ہیں جہاں وحدت سے مراد عقیدہ توحید ہے ۔ گورو نانک کے بارے میں اختلافات ہیں کہ وہ سکھ تھے یا مسلمان کیونکہ انہوں نے مکہ کا سفر بھی کیا تھا۔ گورو نانک کی وفات پر سکھ انہیں عقیدے کے مطابق آخری رسومات میں نذر آتش کرنا چاہتے تھے اور مسلمان انہیں دفن کرنا چاہتے تھے مگر ان کا جسدِ خاکی کسی کو بھی نہ مل سکا وہ پر اسرار طور پر سب کی نظر سے اوجھل ہو گیا ۔

کرتار پور کوریڈور نے انڈیا والوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں آنے والے وقت میں اس فیصلے کے سیاسی اثرات پاک انڈیا بارڈر کے دونوں جانب ارتعاش کا باعث ہوں گے اس کا اندازہ ابھی سے لگایا جا سکتا ہے۔


ای پیپر