درانتی کی ایک دنیا کے دونوں طرف دندانے
11 نومبر 2019 2019-11-11

سکول کے دنوں میں ایک کہانی کچھ اس طرح کی تھی کہ دو بیٹے ایک اُن کا باپ گدھے پہ تینوں سوار کہیں جا رہے ہیں۔ راستے میں دیکھنے والے لوگ اُنہیں پاگل قرار دیتے ہوئے حقارت سے دیکھتے ہیں کہ کتنے ظالم ہیں جو بے زبان پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں ایک بیٹا نیچے اتر جاتا ہے تو باپ پہ باتیں ہوتی ہیں کہ کتنا بے انصاف ہے ایک بیٹے کو ساتھ اور دوسرے کو پیدال چلا رہا ہے ۔ آگے چل کر ایک دوسرا بیٹا بھی اتر جاتا ہے تو باپ کے ظالم ررہنے کی انتہا نہیں رہتی کہ بیٹوں کو تو پیدا اور خود گدھے پر سوار ہے پھر باپ اتر جاتا ہے اور بیٹوں کو بٹھا دیتا ہے اب آگے دیکھنے والے کہتے ہیں کیسے ناہنجار بیٹے ہیں کہ دونوں گدھے پر اور باپ پیدال اب وہ تنگ آ کر تینوں پیدل چل پڑتے ہیں لوگ کہتے ہیں کیسے بیوقوف ہیں کہ گدھا ساتھ ہے اور پیدل ہیں وہ تنگ آ کر گدھے کو کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں لوگ کہتے ہیں کیسے بیوقوف ہیں کہ گدھے پر بیٹھنے کی بجائے اس کو کندھوں پر بٹھایا ہوا ہے ایسا ہی حال ہمارے دانشوروں، سٹیک ہولڈر اور حکمران طبقوں کے علاوہ عوام کا ہے۔

میاں محمد نواز شریف کے مخالفین کی بھی عجیب کہانیاں ہیں ان کو کسی تو کیا اپنی عزت کا خیال بھی نہیں رہتا کہ آج ہم جو کہہ رہے اس کا کچھ جواب ہے؟ بیگم کلثوم نواز بیماری کو بیمار ثابت کرنے کے لیے موت دلیل بن کر آ گئی کہ یہ بیمار تھیں۔ میاں صاحب وزیراعظم تھے موٹر سائیکل غلط کھڑی کرنے پر وارڈن نہیں چھوڑتا، 126 دن کے دھرنے میں کیا کیا نہ ہوا مگر قانون کے دھرنا والوں کی طرف حرکت میں آتے ہوئے پر جلتے تھے۔ عدالت عالیہ اور دیگر عدالتوں سے اشتہاری عمران خان سپریم کورٹ سے ریلیف لے آئے اور وزیراعظم نا اہل ہوئے۔ جب اس نے کیوں نکالا تو اس کا جواب سب سے پہلے چوہدری نثار نے دیا کہ اگر میری بات مان لی جاتی تو آج بھی (ن) لیگ کی حکومت ہوتی جس پر مہر تصدیق موجودہ وزیر داخلہ نے لگا دی کہ تین چار لوگ نہ ہوتے تو آج بھی نواز شریف کی حکومت ہوتی اور تو اور شیخ رشید نے بھی متعدد دفعہ کہا کہ مریم بی بی نے نواز شریف اور (ن) لیگ کا بیڑہ غرق کر دیا۔ دراصل یہ حکومتوں میں رہنے والوں کی سوچ ہے۔ آج عوامی سطح پر (ن) لیگ جتنی مقبول ہے اتنی کبھی پہلے نہ تھی مگر بعض کی نظر میں نواز شریف صرف شناختی کارڈ ہے؟

کیوں نکالا کا جواب تو ساری قوم کو علم ہے لہٰذا اس میں اب کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔ میاں صاحب کی نا اہلی کا واقعہ تو ان کی موجودگی میں تھا۔ سزا کے وقت انگلینڈ میں تھے جن فلیٹس کی ملکیت کا قصہ تھا انہیں سمجھتے تھے کہ ادھر 5 گھنٹے فیصلہ تاخیر سے آیا اس کی وجہ بتانا ضروری نہیں البتہ میاں صاحب نے ”دوستوں“ کے کہنے پر سیاست نہ چھوڑنے کی بات نہ مانی تو قید سنا دی گئی۔ واپس آئے تو ابو ظہبی پرواز میں تاخیر ہو گئی مگر وہ لینڈ کرتے ہی بیل پر جانے کی بجائے جیل چلے گئے اور بیٹی بھی۔ جیل میں اُن کی والدہ صاحبہ بھی مناتی رہیں کہ آپ باہر چلے جائیں یہ بیماری سے پہلے کی باتیں ہیں۔ پھر آن کی آن نیب کی حولالاتوں میں بیماری نے زور پکڑا اور ہسپتال لے آئے۔ میاں صاحب بقول شخص ٹائم بم بن گئے۔ حکومت، عدالت، نیب کوئی بھی اپنے حکم کے تابع کسی قید میں رکھنا نہیں چاہتا تھا کہ بیل مل گئی۔ اب حکومتی ڈاکٹروں کے بورڈ بھی ہاتھ کھڑے کر گئے اور شوکت خانم کے ماہر بھی بیماری کی تشویش ناک حالت بتا گئے۔ اگر مریم باپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر سیاست کرتی ہے تو کیسے کیسے طعنے سننے کو جو باپ کو چھوڑ کر سیاست کر رہی ہے وہ قوم کا کیا کرے گی اگر وہ باپ کے تیمار دار کے طور پر ساتھ رہنا چاہتی ہے تو پنچھی اکیلا جاتا ہے یا پنجرے کے ساتھ والی درفنطنی چھوڑی جاتی اور اگر کہیں خدانخواستہ لندن امریکہ یا راستے میں زندگی کا قصہ تمام ہوتا ہے تو حضرت سلیمان والا واقعہ پیش بندی کے طور پر جڑ دیا گیا۔ عمران خان کے فالورز اُن پر بات کو حرف آخر سمجھتے ہیں مگر میاں صاحب کے متعلق فیصلوں کو ڈیل نہیں کہتے مگر اس پر یقین نہیں کرتے۔ ایک طرف جاتی امرا جانے سے پہلے ساری حکومت کے ہاتھ پاو¿ں پھولے ہوئے تھے دوسری جانب غلام سرور حکومت کے ترجمانوں وہ ”وزیراعظم“ سب کی نفی کر رہے ہیں۔ کرتار پور راہداری کھلنا انتہائی احسن اقدام ہے انسانی ، مذہبی ہمسائیگی کسی بھی طور اس کی تعریف کی جا سکتی ہے مگر جب باجپائی اور نواز شریف کے درمیان یہ معاملہ تھا تو نواز شریف کا اقتدار گرا دیا گیا۔ نواز شریف بھارت سے ٹریڈ چاہتا تھا تو مودی کا یار قرار پایا اب مودی کو یکطرفہ پیشکش کی جا رہی ہے وہ کشمیریوں کے گھروں کو قبروں میں بدلتے ہوئے دیکھ کر بھی! اللہ کریم ہماری مدد فرما سکے ہمیں سیدھا راستہ دکھا دے یاد کرتاپور راہدی پر وزیراعظم کا بیان زبردست یوٹرن نہیں مزاحیہ بھی لگا کہ انتشار ، نفرتیں پھیلا کر ووٹ لینے والا لیڈر نہیں ہوتا“۔ سبحان اللہ کہہ کون رہا ہے بہر حال وہ اشارہ ان کا مودی کی طرف ہو گا لیکن چشم دیدوں کی گواہی سے فرار ممکن نہیں۔

بہت پرانا واقعہ ہے کہ ایک وکیل کے پاس ایک قتل کا ملزم آیا کہ میرا مقدمہ لڑیں اس نے حامی بھر لی فیس پر وکیل نے کہا 5 ہزار روپے ملزم نے سوچا کہ یہ بھی کیا وکیل ہے مروا ہی نہ دے دوسرے کے پاس چلا گیا اس نے 50 ہزار روپے مانگے اور سزائے موت ہو گئی ایسی سزا والے دن 5 ہزار والے سے ملاقات ہوئی اس نے پوچھا کیا بنا وہ کہنے لگا سر! سزائے موت ہو گئی ہے اس نے کہا کہ 5 ہزار میں مہنگی تھی اگر انڈیا سے دوستی تجارت، رواداری، بردباری ، ہم آہنگی، باچیت ہی چاہی اور یقینی حل تھا تو پھر یہ دھرنوں، سیاسی جماعتوں کی توڑ پھوڑ اور کسی بنانا کسی کو توڑنا کسی کو دبانا کسی اٹھانا یہ بھونچال اس دھرتی یا ملک کیوں بنا دیا گیا یہ فیصلہ اور پالیسی تو بےنظیر صاحبہ کی بھی تھی اور نوازشریف کی بھی تھی انتہا خرچہ اور انوسٹمنٹ کی کیا ضرورت تھی مگر درانتی سے تو پورا اترلے کوئی پر دنیا سے کون پورا اترے جس کے دونوں جانب دندان ۔


ای پیپر