فردوس عاشق اعوان نے غیر مشروط معافی مانگ لی
11 نومبر 2019 (12:54) 2019-11-11

اسلام آباد: وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے توہین عدلت کیس میں اپنا تحریری جواب عدالت میں جمع کراتے ہوئے ایک بار پھر معافی مانگ لی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے توہین عدالت کیس کی سماعت کی ۔ فردوس عاشق اعوان کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب میں ایک بار پھر غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے کہا گیا کہ عدالت اور ججز سے متعلق 29 اکتوبر کے اپنے ریمارکس غیر مشروط طور پر واپس لیتی ہوں اور غیر مشروط معافی مانگ کر خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتی ہوں۔ جواب کے متن میں فردوس عاشق اعوان نے شوکاز نوٹس واپس لینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ پریس کانفرنس کے دوران مجھ سے ٹارگٹڈ سوال کیا گیا، جواب دیتے ہوئے میں نے کہا ہفتے کے دن سماعت کا دیگر سائلین کو بھی فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہفتے کے دن سماعت سے زیر التوا کیسز میں عام سائلین بھی مستفید ہوسکیں گے۔

جواب میں وضاحت دیتے ہوئے کہا گیا کہ پریس کانفرنس صرف نواز شریف کے زیر التوا کیس سے متعلق نہیں تھی، پریس کانفرنس نواز شریف کے فئیر ٹرائل کا حق متاثر کرنے کے لیے بھی نہیں تھی، میرا کہنے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ عدالت نواز شریف کو خصوصی ریلیف دے رہی ہے، عدالت سمجھتی ہے کہ کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تو غیر مشروط معافی مانگتی ہوں۔دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں وفاقی وزیر غلام سرور خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی اور اس موقع پر فردوس عاشق اعوان بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئیں۔


ای پیپر