ایک میان میں تین تلواریں
11 نومبر 2018 2018-11-11

یہ کا لم تبدیلی سرکار کی آمد کے 80 ویں دن لکھا جا رہا ہے۔ گویا جب یہ سطور آپ کے سامنے ہوں گی تو ان وعدوں کی تکمیل میں محض دو ہفتے باقی ہوں گے۔وہ سو دن جن کے دوران تبدیلی کیلئے ٹیم کپتان دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔اس محنت شاقہ کا نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ بات تو ناقدین اور ممدوحین کے درمیان وجہ نزاع بن سکتی ہے۔ لیکن اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ کپتان اپنے وژن کے مطابق دیکھے گئے خواب کی تعبیر حاصل کرنے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔اب ضروری نہیں کہ ہر خواب کی تعبیر بھی مل جائے۔ ان سو دنوں میں تکمیل کا مشن مکمل کرنے کیلئے ایک صوبے سے دوسرے صوبے تک کا سفر اگرچہ ایک مرتبہ تو مکمل ہو چکا۔ لیکن اصل ٹارگٹ پنجاب ہے۔ ہفتہ کے روز دارالحکومت سے دور جہاں خبریں برتن میں گنجائش سے زیادہ ڈالے گئے دودھ کی طرح ابل ابل کرباہر گر رہی ہیں۔لاہور کی مانند جہاں نئی نویلی حکومت نے چہرے کی تبدیلی کیلئے کچھ پرانے کھلاڑی پس پردہ واردات میں مصروف ہیں لیکن اس طرح بھی ہوتا ہے کبھی عین اس وقت اکھاڑے سے ہٹنا پڑتا ہے چاہے ذہنی طور پر اکھاڑے کے اندر محسوس کیا جا رہا ہو۔جسمانی طور پر بہرحال کہیں دور۔ خوشی غمی کشاکش حیات کیساتھ چلتی ہے۔ پھر یہ تو خوشی کا موقع ہے۔اپنی گود میں کھیلائے جن کی انگلی پکڑ کر ساتھ گلیوں میں لیکر گھومے۔ بھانجوں کی شادیاں ہوں کون ہے جو ناگزیر مصروفیات نہ چھوڑ دے۔ایسے مواقع روز روز نہیں آتے۔ بہر حال اطلاع یہ تھی کہ کپتان ہفتہ کے روز ایک مرتبہ پھر پنجاب کے دل لاہور میں اترا تھا۔وہی سو دن کی تکمیل سے پہلے کچھ کر دکھانے کاعزم۔کوئی سنگ بنیاد،کوئی افتتاح، آغاز سفر کی علامت کے طور پر شائد کوئی شیلٹر ہوم میں جوپنجاب حکومت کے تعان سے تعمیر کیے جارہے ہیں۔ اور پھر وہ تجاوزات کیخلاف آپریشن پر اس قلم کار کی نظر میں ضروری تھا۔ لیکن مخلوق خدا ہم ایسوں کی کہاں سنتی ہے۔ یہ آپریشن عوامی غصے کوجنم دے رہا ہے۔ عوامی غصے کی کوئی سمت نہیں ہوتی۔عوامی رد عمل بھی مظاہر فطرت کی مانند ہوتا ہے۔ ہوا پانی کی طرح جو بظاہر بہت نرم خو ہوتے ہیں۔ جن کی کوئی سمت نہیں ہوتی۔ لیکن جب بپھر جائیں تو اپنے ساتھ قہر لیکر آتے ہیں بستیاں تا راج ہو جاتی ہیں۔ مضبوطی سے زمین کے اندر پنجے گاڑے پیڑوں کو اکھاڑ کر دور پھینک دیتے ہیں۔جن کی دوکانیں،روزگار کے وسیلے اجڑ گئے ان کو متبادل کون دیگا۔کیا اب وہ چوری کریں،جیبیں کاٹیں،خودکشیاں کریں۔یہ فرض کون ادا کرے گا۔بہر حال کپتان کا فوکس پنجاب ہے۔جہاں آج بھی مسلم لیگ (ن) کا قلہ قائم ہے اور نواز شریف کا بیانیہ لشکرکے علم کی مانند سب سے اونچی ٹیکری لہراتا ہے۔ پی ٹی آئی کی صفوں میں اتحاد نہیں۔پاورکے تین مراکز ہیں۔ گورنر پنجاب چوہدری سرور کے جن پاس بظاہر تو کوئی اختیار نہیں۔ لیکن ان کا سکہ بہر حال مارکیٹ میں چلتا ہے۔ پھر پنجاب کی سیاست کا تناور درخت پرویز الٰہی جو توڑ جوڑ کا بادشاہ ہے۔ فی الحال وہ اپنے حسن تدبرسے ایک مشکل ترین صوبے کے ارکان اسمبلی کو متحد رکھے ہوئے ہیں۔ کچھ اور پس چلمن عناصر بھی ہیں جن کا بس ڈراوا ہی کافی ہوتا ہے۔ لیکن فی الحال اس کی ضرورت نہیں۔ بس نام ہی کافی ہے۔ علیم خان ہیں جو لاہور میں بیٹھ کر بیوروکریسی، روز مرہ کے امور دیکھتے ہیں۔ ہاں یاد آیا جناب عثمان بزدار بھی ہیں۔کیا اتنا لکھ دینا کافی نہیں کہ وہ موجود ہیں۔او ران کو چاہیے بھی کیا۔ ارکان قومی اسمبلی کی بے چینی دور کرنے کا نسخہ پرانی فائلوں سے بر آمد کیا گیا ہے۔ ترقیاتی سکیموں کا۔شنید ہے کہ دس کروڑ کی سکیموں کی دوائی نے کافی حد تک افاقہ کیا ہے۔ ترقیاتی سکیموں، مراعات نہ دینے کی باتیں افسانوی ہوا کرتی ہیں۔ کپتان نے سیکھ لیا تو اچھی بات ہے۔اگر کچھ دیر ہے تو وقت کا سخت گیر استاد سب کچھ باآسانی سکھا دے گا۔ بہر حال پنجاب میں جہاں اصل میدان لگا ہوا ہے کپتان کو جلد فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کب تک پراکسی وزیر اعلیٰ سے کام چلایا جائے گا۔اب وہ ہر ہفتہ تو لاہور آنے سے رہے۔ نیا گھر سکیم نے کچھ شہروں میں رسم سنگ بنیاد تک پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ گیا ہو گا۔ آخرکار گرفتاریوں کی مدد سے کب تک کام چلے گا۔شہباز شریف، حمزہ شہباز شریف،سعد رفیق یا کسی اور کی گرفتاری کا رد عمل ہو گا۔ پنجابیوں کی فطرت ہے مظلومیت کا تاثر ملتے ہی ان کے دل نرم پڑ جاتے ہیں۔ڈیروں، بیٹھکوں اور سیاسی تھڑوں پر مظلومیت اور ہمدردی کا چورن بکتا ہے۔ لہٰذا اصل چیز کارکردگی ہے۔ کپتان نے ساری زندگی کرکٹ کھیلی ہے۔ہمیشہ اپنی ٹیم کیلئے دستیاب بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے۔ کپتان کا کرکٹ کا ریکارڈ بتاتا ہے اس نے کبھی آل راؤنڈر پر بھروسہ نہیں کیا۔ بلکہ سپیشلسٹ کے ساتھ کھیلا ہے۔ سپیشلسٹ باؤلر، سپیشلسٹ وکٹ کیپر،مستند اوپنر کے انتخاب نے ہمیشہ اس کے درست فیصلوں پر مہر تصدیق لگا ئی ہے۔ سیاسی ٹیم کے انتخاب میں بھی بہترین سپیشلسٹ کا انتخاب کیوں نہیں۔بہترین کپتان بھی بیک وقت باؤلر، بیٹسمین،وکٹ کیپر کا کردار خود ادا نہیں کر سکتا۔ ایسا ممکن نہیں۔ جیسے جیسے حکومتی کشتی آگے بڑھے گی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ متنازعات کے بادل مزید گہرے ہوں گے۔پہلے بھی عرض کیا تھا کہ ماحول کو ٹھنڈا رکھنا ہی حکومت کی کامیابی شمار ہوتی ہے۔ گرما گرم ماحول الیکشن کیلئے تو آئیڈیل ہوتا ہے۔ لیکن گورننس کیلئے نہیں۔ابھی سطح آب کے نیچے بہت سے بحران انگڑائیاں لے رہے ہیں۔ ایسے میں مضبوط پارلیمنٹ ورکنگ ریلیشن شپ کے رشتے سے منسلک اپوزیشن حکومت وقت کو فائدہ دیگی،نقصان نہیں۔

قومی اسمبلی کو قائم ہوئے 80 روز گزر گئے۔ قوائد و ضوابط کے مطابق لازم ہے کہ تیس دن کے اند ر تمام قائم کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل مکمل ہو جائے۔قومی اسمبلی کی ورکنگ قائمہ کمیٹیوں کی عدم موجودگی سٹیرنگ کے بغیر گاڑی ہے۔ جو چل نہیں سکتی۔چو تھا اجلاس جمعہ کے روز ختم ہوا۔ قائمہ کمیٹیوں کا عمل پھر ادھورا رہ گیا۔ چالیس کمیٹیوں کی تشکیل ہوئی،نہ چیئر مین بن سکے۔کیوں؟ اس لئے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئر مین کی تقرری پر ڈیڈ لاک ہے۔ حکومت نے لچک نہ دکھائی تو یہ سٹار ٹ گاڑی ایک انچ بھی آگے چل نہ سکے گی۔ روایت کے مطابق اس سیٹ پر اپوزیشن کا حق ہے۔حکومت کا مسئلہ صرف شخصیت نہیں بلکہ سیٹ ہے۔ وہ یہ عہدہ اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن متحداور یک سو ہے کہ اگر یہ عہدہ نہ ملا تو پھر اسمبلی سے بائیکاٹ ہوگا۔ حکومتی پارٹی مشکل میں ہے۔ اس کا آسان حل ہے کہ اپوزیشن کوتقسیم کرنے میں نہیں بلکہ لچک دکھانے میں۔ ورنہ یہ اسمبلی ہی ڈیڈ لاک کا شکار رہے گی۔ جیسے پرویز مشرف کے زمانے کی اسمبلی۔

کالم مکمل ہوا تو سوشل میڈیا پرایک ویڈیو بریکنگ نیوز بن کر چھا گئی۔مسلم لیگ (ق) کے کچھ لیڈر گورنر پنجاب کی شکایت کرتے نظر آئے۔یہ ویڈیو کیسے لیک ہوئی اس سے غرض نہیں۔لگتا ہے کھیل وقت سے پہلے شروع ہو گیا۔ قانون قدرت ہے ایک میان میں دو تین تلواریں نہیں رہ سکتی۔


ای پیپر