تیری بکل دے وچ چور
11 نومبر 2018 2018-11-11

پورا ملک چور چور کے شور سے گونج رہا ہے اپنی بکل (چادر) میں چور گھسے ہوئے ہیں لیکن کسی کو احساس نہیں، حضرت بلھے شاہ نے اسی بات کا تو احساس دلایا تھا کہ دوسروں کی عیب جوئی کی بجائے اپنے اندر کے چور ڈاکو کو تلاش کرو، یہاں قومی اسمبلی، سینیٹ، ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز، خبروں اور اخبارات میں چورچور کی تکرار قومی اسمبلی میں جہاں عوام کی بھلائی اور ملکی ترقی کے لیے قانون سازی ہونی چاہیے کہ معزز ارکان کو اسی بات کے لیے لاکھوں کی تنخواہ اور کروڑوں کی مراعات مل رہی ہیں قومی خزانہ ان ہی تنخواہوں اورمراعات سے خالی ہوتا جا رہا ہے، کارکردگی کیا ہے اپوزیشن پر لفظی گولہ باری، اپوزیشن بینچوں پر اسٹرٹیجک حملے، تقریر کے آغاز سے ہی چور چور کی گردان، نہیں چھوڑیں گے کی دھمکیاں، اپوزیشن نے بھی غالب کے بقول ٹھان لی ہے کہ ’’وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم ا پنی وضع کیوں بدلیں‘‘ ترکی بہ ترکی جواب دینا شروع کردیا، تنگ آمد بجنگ آمد کے مقولے پر عملدرآمد،طبل جنگ بجا دیا ،حکمران پارٹی کے’’ انڈر 14 ‘‘کھلاڑیوں کی ٹیم کے ایک بیسٹمین نے خطاب کے دوران چور چور کی دھن چھیڑی تو ن لیگ کے’’ انڈر 50 ‘‘کھلاڑی اور انتہائی سنجیدہ لیڈر شاہد خان عباسی تڑپ کر اٹھے اور کہا کہ آپ ہمیں چور چور کہیں گے تو ہم آپ کو اور آپ کے باپ کو چور کہیں گے، وفاقی وزیر پسپا ہوگئے، بعد میں ایک نجی چینل پر شکایت کرتے پائے گئے کہ سابق وزیر اعظم نے میرے والد کو بھی نہ بخشا اس پر ن لیگی ارکان کا کہنا تھا کہ ’’ہم آدمی ہیں تمہارے جیسے جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے‘‘ جیسے کو تیسا، اینٹ کا جواب پتھر، کیا مقدس اور معزز ایوان پتھراؤ کے لیے مخصوص ہوگئے ہیں، چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں بڑے میاں سبحان اللہ انہوں نے بھی کہہ دیا کہ ابھی تو نمک کے برابر احتساب ہو رہا ہے بڑی مچھلیاں باقی ہیں جنہیں پکڑا ان کیخلاف بھی ثبوت کہاں ہیں کنٹینر پر چڑھ کر کہہ دینا انتہائی آسان کہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے دولت کا سراغ مشکل واپسی اس سے زیادہ مشکل کسی ملک سے معاہدے نہیں واپسی کیسے ہوگی واپسی بہت بعد کی بات ہے پہلے دولت کے لٹنے اور لوٹنے والے کا تعین ضروری، ثبوت کہاں ہیں اب تک کرپشن کا کوئی ثبوت فراہم نہ کیا جاسکا، پتا نہیں ٹرالیوں کے ذریعے جو کچھ لایا گیا تھا اس میں کیا تھا جنہیں پکڑا وہ چیلنج کر رہے ہیں کہ ایک روپے کی کرپشن ثابت کردو، سیاست چھوڑ جائیں گے، ثبوتوں اور شواہد کے بغیر قومی اسمبلی اور سینیٹ کو مچھلی بازار بنانا کون سی سیاست اور کون سا طرز حکمرانی ہے، راہ چلتے کسی کو بھی چور کہہ دینا انتہائی آسان لیکن چور ثابت کرنا انتہائی مشکل، چور اپنے آپ کو سعد کیسے ثابت کرے گا، عجیب فارمولا ہے کہیں دیکھا نہ سنا کہ کسی بھی راہگیر کوگریبان سے پکڑ کر چور کہہ دیں اور مجمع اکٹھا ہونے پر اس سے کہیں کہ ثابت کرو تم چور نہیں ہو کیسے ثابت کرے گا جو ثبوت دے گا وہ مسترد کرتے جائیں، آنکھوں کا تارا دل کا سہارا نہ رہا ثبوت کیسے درست مان لیا جائے، حکومت چلانی ہے حکمرانی کے لیے چور چور کی گردان اور ڈاکو ڈاکو کی رٹ ضروری ہے، اگر سارے سیاستدان پاک صاف ثابت ہوگئے تو شور مچانے کے لیے کیا کرائے کے چور اور ڈاکو درآمد کرنے پڑیں گے، درآمدات پہلے ہی حد سے زیادہ ہیں زر مبادلہ کے ذخائر نہ ہونے کے برابر، اپنے’’ انڈر 14 ‘‘کھلاڑیوں کو لگام دی جائے یا زبان بندی کا فرمان جاری کیا جائے چوری کا کھرا (سراغ) باپوں تک پہنچنے لگا تو فرمان شاہی جاری ہوا، سوچ سمجھ کر تقریر کریں الفاظ کا انتخاب ضروری ہے جسے تقریر کرنی ہے وہ پرویز خٹک سے اجازت لے کر تقریر کرے، پرویز خٹک سے کون پوچھے گا انڈر 14 کھلاڑی اپنے آپ کو پرویز خٹک سے بالا تر سمجھتے ہیں، تب انہیں میدان میں اترنے کے آداب سکھائے جائیں بالنگ اور بیٹنگ کی تربیت دی جائے، نوبال کے ضابطوں سے آگاہ کیا جائے، سکسر لگائیں لیکن مخالفین کی لابی میں بیٹھے ہوؤں کے سر نہ کھولیں ’’جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا‘‘ بات کرنے کا سلیقہ ہیں نادانوں کو ایک معزز رکن نے وفاقی وزیر کو بھانڈ کہہ دیا جواب میں اسے مولا جٹ کا خطاب ملا قومی اسمبلی ہے یا ایورنیو اسٹوڈیو ،کالم کے شروع میں عرض کیا تھا کہ بکل میں چور گھسے ہوئے ہیں لیکن کرپشن بدعنوانیل اور دولت کی لوٹ مار کے خلاف شاہی خطابت اور تقریروں کے باوجود بکل جھاڑ کر اپنے چوروں ڈاکوؤں کو مار بھگانے کی جرات نہ حوصلہ، اپنے پاؤں پر کیسے کلہاڑی مار لیں، چار پانچ ارکان کی تو اکثریت ہے اکٹھے 35 ارکان کو نیب کے حوالے کردیا تو حکمرانی کا خواب دراؤنے سپنے میں بدل جائے گا اسی لیے تو سینے سے لگا رکھا ہے دل میں بسا رکھا ہے، چوروں ڈاکوؤں کو ڈھونڈتے پانچ سال گزر گئے شور شرابے سے اقتدار تو مل گیا چور ڈاکو نہ مل سکے بکل جھاڑیں تو پتا چلے احساس دلانے حضرت بلھے شاہ تو آئیں گے نہیں، تین چار کے کیس تو نیب میں ہیں ایک تاحیات نا اہل مگر اب بھی دل کاجانی ،دیگر وزیروں، مشیروں کے خلاف بھی تحقیقات کے دفتر پائپ لائنوں میں محفوظ، جس دن پائپ لائنوں میں کرنٹ دوڑ گیا سارے دفتر مقدمات کی شکل میں باہر آجائیں گے، کچھ ثابت ہو نہ ہو حکمران پارٹی کی روایات کے مطابق چور چور کے نعروں کی گونج تو سنائی دینے لگے گی تب پارلیمنٹ کا احترام کہاں باقی رہے گا ،ایک فارمولا بنا دیا گیا آمدنی سے زیادہ اثاثے، 337 ارکان میں سے دو چار کو چھوڑ کر باقی سارے کروڑوں اربوں کے مالک، اپنی اپنی راجدھانی کے بادشاہ، آمدنی نا معلوم، ذرائع معلوم کرنے کی کس میں جرأت لیکن اثاثے سب کو معلوم، زمیندار، وڈیرے، صنعتکار سب کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے، انشاء اللہ ایوان خالی ہوجائیں گے ایک فیملیکے سارے جوان اور بوڑھے چور ڈاکو قرار پائے، روز پیشیاں روزانہ فیصلے، اپنی بکل کے چور نیک پاک کیسے ہوگئے کسی دھوبی کی بھٹی میں ڈالے گئے یا ڈرائی کلین مشینوں سے نیک پاک ہو کر باہر نکل آئے’’ دھوئے گئے ہم ایسے کہ بس پاک ہوگئے‘‘ کوئی اخلاقی، غیر اخلاقی، مالیاتی جرم سرزد نہیں ہوا جو 62 63 کی زد میں آتا ہو پاک صاف تھے پاک صاف ہیں اور جب تک پاک صاف حکمرانوں کے دامن سے بندھے رہیں گے پاک صاف رہیں گے واپس ن لیگ میں آئے تو پھر سے چور ڈاکو بن جائیں گے’’ جمال ہم نشیں در من اثر کرد، وگرنہ من ہما خاکمکہ ہستم‘‘ ابھی تو اپنی پاکی کی قسم کھا سکتے ہیں کہ

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو

دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

ان ارکان سے کسی نے نہیں پوچھا (نیب کو فی الحال فرصت نہیں) کہ آپ کا کاروبار کیا ہے ذرائع آمدنی کیا ہیں کتنے ہیں کوئی انڈسٹری نہیں کاروبار نہیں زرعی ٹیکس نہیں دیتے تو عیش و عشرت کی زندگی کیسے گزار رہے ہیں اخراجات کروڑوں میں آمدنی اربوں میں ہوگی کیا عربوں نے اربوں میں امداد دے دی ہے، چھوٹے سے شہر گاؤں دیہات کا بندہ اور کھرب پتی مگر ایسی سخت باتیں کون پوچھے گا چڑھتے سورج کی پرستش کی روایت چل پڑی ہے چل رہی ہے لاہور کے ایک افسر نے تو ٹی وی چینلوں پر بندگی کا اظہار کر دیا یہ الگ بات کہ ’’جو چڑھتے سورج کو پوجتے ہیں انہیں بتاؤ زوال کیا ہے۔‘‘


ای پیپر