ہم اور ہما را تشخص
11 نومبر 2018 2018-11-11

وطن میں بسنے وا لی مسلم امہ کی سرورِکائنا ت آنحضو رؐسے دلی عقید ت کو ئی ڈھکی چھپی با ت نہیں۔ ا لبتہ اِس کے اظہا ر کے طر یقے مختلف ہو سکتے ہیں۔ یہ اسی عقید ت کا ثمر ہے،کہ آپؐ کی تعلیما ت کی رو شنی میں یہا ں کے مکین شراب نو شی، جوئے با زی، اور دیگر اسی قسم کی لعنتو ں سے، اور کچھ نہیں تو کم از کم قا نو نی طو ر پہ محفو ظ ہیں۔ تا ہم یہا ں کا ایک طبقہ جو خو د کو لبر ل گر دا نتا ہے ، ان لعنتو ں کو قا نو نی طور پر جا ئز قرا ر دیئے جا نے کی تگ و دو میں مصر و ف رہتا ہے۔ یہی و ہ مقا م ہو تا ہے جہا ں ان کی کو ششو ں کو نا کا م بنا نے کے لیئے ایمان کی قو ت سے سر شا ر محبا نِ اسلا م سڑ کو ں پہ نکل آ تے ہیں۔ اِس کے مقا بلے میں ایک مثا ل د بئی کی دی جا سکتی ہے۔ قر یباً نصف صدی قبل تک دبئی تیل کی دولت سے بھی محروم تھا۔ اب بھی اس کی معیشت کا تیل پہ انحصارتین فیصد سے زیادہ نہیں۔ کہنے کو تو دبئی ایک اسلامی ریاست ہے، لیکن دولت کمانے کی ہوس نے اسے عملی طور پر ایک سیکولر ریاست میں بدل دیا ہے۔ خیال رہے کہ دبئی ائیرپورٹ یورپ، امریکہ اور افریقہ کے ممالک میں داخلے کیلئے ایک سٹاپ اوور کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ اس سٹاپ اوور کو پرکشش بنانے کیلئے وہاں ہر قسم کے تعیش کا سامان فراہم کیا جانے لگا۔ شراب غیر مسلموں کو لائنس کے نام پر آزادی سے دستیاب تو ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ سور کا گوشت آپ کو وہاں کے فائیوسٹار ہوٹلز میں نظر آئے گا۔ پھر بنکاک اورمنیلا کی طرز پر جنسی آسودگی فراہم کرنے کیلئے بھی دبئی خاص طور پر مشہور ہے۔ بلکہ یہ کہ عرب شیخ اسے بنکاک اور منیلا وغیرہ پہ ایک تو قربت کی بناء پر ترجیح دیتے ہیں، دوسرے یہ سڑیٹ کرائمز سے پاک ہے۔ یوں سیاح اسے صاف ستھرے نائٹ لائف مقام کے طور پر دیکھتے ہیں۔ دنیا کی اس پیشے سے وابستہ خواتین کو ایک ماہ کا ٹرانزٹ ویزا آسانی سے فراہم ہوتا ہے۔ چنانچہ ایشیائی ممالک کے علاوہ، روس کی ریا ستوں اور مشرقی یورپ سے خواتین بڑی تعداد میں دبئی کا رخ کرتی ہیں۔یہا ں یہ ا مر قا بلِ ذ کر ہے کہ دولت کمانے کا یہ طریقہ پاکستان کے ذہین وفطین وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی ذہنی اختراع تھی۔ تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ 1970ء کے عشرے کے اردگرد بھٹو صاحب نے عرب اسرائیل جنگ کے دوران عرب ممالک کی خاص مدد کی تھی۔ لہٰذا عرب سربراہ انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگے تھے۔ کراچی کا بین الاقوامی ہوائی اڈا بھی دبئی کی مانند مغربی ممالک کے سفر کیلئے ایک خاموش سا سٹاپ اوور ہی تھا۔ بھٹو صاحب نے خاموشی سے کراچی کو مسافروں کیلئے پرکشش بنانے کیلئے پر تعیش مقام بنانے کے منصوبے پہ کام شروع کردیا۔ سمندر کے کنارے ایک وسیع وعریض کسینو کی تعمیر کا آغاز اسی منصوبے کا ایک حصہ تھا۔ تاہم یہ منصوبہ بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکا۔ پھر بھارت نے دو کام کئے۔ ایک تو اس نے یہ خبر پاکستانی میڈیا کے نوٹس میں لاتے ہوئے پاکستانی کی اپوزیشن جماعتوں میں پھیلادی۔ دوسرے اس نے دبئی کے شیخوں کو سمجھایا کہ یہ منصوبہ آپ شروع کیوں نہیں کرتے؟ ان کی سمجھ میں فوراً یہ بات آگئی۔ نتیجتاً 1980ء سے پہلے کے دبئی کا ذرا آج کے دبئی سے توموازنہ تو کرکے دیکھیں۔

سچ کی کہو ں تو میں خدا کا شکر بجالاتا ہوں کہ بھٹو صاحب کے اس منصوبے پہ عمل نہ ہوسکا۔ اول تو عیاشی کے اڈوں کو کراچی کے کچھ علاقوں تک محدود رکھنا بھی ہماری مذہبی اور ثقافتی اقدار سے میل نہیں کھاتا، دوسرے فحاشی کوکراچی کے کچھ علاقوں تک محدود رکھنا ممکن بھی نہ ہوتا۔ دبئی کی طرز پہ کرائے کی خواتین دوسرے ممالک سے نہ منگواتا پڑتیں۔ بلکہ جو حال اس معاشرے کا ہوتا اس کا سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اور وطن عزیز کی سالمیت۔ اگر پاکستا ن کو بنانے کا مقصدہی فوت ہوجاتا تو پھر کہاں کا وطن اور کیسا وطن۔ تو کیا مقصدتھا پاکستان بنانے کا؟ یہی نا کہ ایک ایسا خطہ ارض جہاں ہم اپنی اسلامی اور ثقافتی اقدار کے مطابق زندگی گزارسکیں۔ کیا منہ دکھاتے روز محشر اپنی ان ماوءں بہنوں کو جنہوں نے47 کی تقسیم کے وقت کنووں میں کود کر عزت کو زندگی پہ ترجیح دی تھی؟رونا آتا ہے ان نام جہاد دانشوروں کی عقلوں پر جو معاشرے میں گھٹن کے نام پر ڈھکے چھپے لفظوں میں ام الخبائث یعنی شراب کی فراہمی کا مطالبہ کرتے، وہ اپنی حالت زار کاتذکرہ بڑے درد مندانہ انداز میں اس ملک میں شراب کے جائز نہ ہونے کی بناء پر کرتے ہیں۔ انہیں اس امر کی کوئی پرواہ نہیں کہ شراب کو جائز قرار دیئے جانے کے بعد اگلا قدم توہین رسالت (معاذاللہ) کے بدلے سزائے موت کو کالا قانون قرار دئیے جانا ہوگا۔ ایک باریک سا اشارہ کرتا ہوں۔ وہ یہ کہ کیا کبھی سنا کہ مغربی ممالک میں آنحضورؐ کے خاکے شائع ہونے کی بناء پر دبئی میں کبھی احتجاج کیا گیا ہو؟

ہما رے ملک کے ساہو کاروں نے لوٹ لوٹ کر ہمیں قرضوں میں جکڑدیا ہے۔ لیکن پھر بھی ہم تہی دامن نہیں۔ ہماری غیرت نہیں مری۔ آج بھی مسلم خواتین کے ساتھ ساتھ غیر مسلم خواتین بھی اذان کی آواز سن کر عقیدت سے اپنے سر دوپٹوں یا چادروں سے ڈھانپ لیتی ہیں۔ یہی ہمارا تشخص ہے۔ بے شک کراچی کو دوبئی کی طرز کی پورٹ بناکر پاکستان دولتمند تو ہوجاتا لیکن اس کی قیمت اپنی غیرت کی نیلامی کی صورت میں ادا کرنا پڑتی۔ اور پھر یہ دبا وئکراچی تک محدود نہ رہتا۔جیسا کہ اوپر لکھا ہے کہ ہمارے کچھ نام نہاد دانشور ڈھکے چھپے لفظوں میں معاشرے سے گھٹن دور کرنے کے نام پر پینے پلانے کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تاہم ایساکرنے ،میں وہ تنہا نہیں ہوتے۔ انہیں اس ملک میں سینکڑوں کی تعداد میں مصروف عمل این-جی-اوز کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ یہ این جی اوز بڑے منظم طریقے سے شخصی آزادی کے نام پر ملک میں فحاشی پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ ہفتے بھر میں ٹی وی پر زیادہ سے زیادہ دویا تین ڈرامے دیکھنے کو ملا کرتے تھے۔ لیکن اب تو ز یا د ہ تر ٹی وی چینلز وقف ہی ڈرامے دکھانے کیلئے ہیں۔ اعتراض چینلز یا ڈراموں کی بھر مار پر نہیں۔ اعتراض اس پر ہے جو یہ مناظر یہ ڈرامے دکھا رہے ہیں۔ سین کے تقاضے کے نام پر ہیرو اور ہیروئین کاایک دوسرے سے دیر تک لپٹے رہنا نہ صرف عام ہوچکا ہے، بلکہ چینلز ریٹنگ میں سبقت لے جانے کے نام پر ایک کے بعد دوسری حد سے تجاوز کئے جارہے ہیں۔ جنرل ضیاالحق کے دور حکومت سے آپ لاکھ اختلاف کرلیں، لیکن ان کے دور میں نیوز کاسٹر خاتون کے سر سے دوپٹہ سرکتا تک نہ تھا۔ ٹی وی ڈرامے ہماری اقدار کے پابند ہواکرتے تھے۔ لیکن آج کے ڈرامے میں بھی دیکھ رہا ہوں، اور آپ بھی دیکھ رہے ہیں۔ یہ سب اس ملک میں پلنے والی این جی اوز کی شے پر ہورہا ہے۔وقت ہے کہ اب ہاتھ سے نکلا جارہا ہے۔ اگر میڈیا پر پیش کئے جانے والے اس طرح کے ڈراموں اور دیگر پروگرام کا نوٹس نہ لیا گیا تو ہم ان اقدار کے جن پہ ہم فخر کرتے ہیں، قائم رہ جانے کی کوئی گارنٹی نہ دے سکیں گے۔


ای پیپر