فوبیا : بچو اے اہل سیاست و ایل حکومت!
11 نومبر 2018 2018-11-11

اور کیا کہوں؟ اب تو کہتا ہوں کہ جمہوریت اگر ریاست کا حسن ہے، تو اسٹبلشمنٹ اس کا رومانس! جبکہ اب ’’کہانی‘‘کو سنجیدہ لینا چھوڑ دیا ہے کیونکہ کسی سیانے نے کہا تھا :

جستہ جستہ پڑھ لیا کرنا مضامین وفا

پر کتاب عشق کا ہر باب مت دیکھا کرو

لیکن یاد آیا کہ، وہ خوبصورت شاعر ، جو رومان کی علامت اور مزاحمت کا استعارہ کہلایا . فراز کے رومان کا عالم کہ بس مت پوچھئے اور مزاحمت کی یہ بات کہ، جنرل مشرف کے دور میں ایک بہت بڑا قومی اعزاز ہلال امتیاز واپس کردیا. انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے دور آمریت میں خود ساختہ جلاوطنی بھی اختیار کئے رکھی. شبلی فراز کے دور سیاست کے موجودہ موسموں کا عالم یہ ہے کہ ذرا ڈھنگ کی بات کرو تو یار کیا، اخبار کیا، کردار تک بدل جاتے ہیں. مصلحتوں و منافقتوں کے ادوار اندھیری خوفناک شب کی طرح طویل ہوتے ہیں اور ان میں لوگوں کی بدقسمتی کی خوش قسمتی میں تبدیلی ناممکن ہے مگر نعرے کی اجازت ہے. ریاستی تبدیلیوں کیلئے حکومتی تبدیلیاں نہیں رویوں کی تبدیلیاں درکار ہوتی ہیں، اور اوپر والے رویے نہ بدلیں تو نچلے روپے بدلیں بھی تو بھاری بھرکم اوزان کے نیچے کچلے جاتے ہیں۔ڈی جی نیب لاہور کے انٹرویوز اور جعلی ڈگری کے معاملات نے جہاں دھوم مچائی وہاں صف ماتم بھی بچھادی. اگر حکومت کی دو باتیں مان بھی لی جائیں، تو اٹھنے والے سوالوں اور ٹوٹنے والے بھرموں سے کیسے کنی کترائی جاسکتی ہے؟ زندہ اقوام سوال اٹھاتی ہیں تو اس وقت تک بیٹھتی نہیں جب تک سر جوڑ کر جواب ڈھونڈ نہیں لیتیں۔

حکومت کی پہلی بات ہے کہ، ڈی جی نیب کے انٹرویوز کے حوالے سے اپوزیشن کا قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق لانا نیب کی تفتیش پر اثر انداز ہونے کیلئے ہے. اس بات کے دیگر جوابات دینے سے قبل یہ کہہ دینا غلط نہ ہوگا، کہ عمران خان بھی بہت جلد نیب سے حیران اور پریشان ہوجائیں گے. اپنی سمجھ سے باہر ہے کہ، اس نیب کو ہم بیوروکریٹک سنڈروم قرار دیں یا جوڈیشل سہولت کاری؟ دل چاہتا ہے اسے ہم ناصح اور عادل کہیں مگر یہ کہلوائیں تو ؟ ہمیں وہ یاد ہے ماضی میں سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے کہا تھا " ڈگری ، ڈگری ہوتی ہے جعلی ہو کہ اصلی ." متذکرہ ڈگری کا معاملہ 2003 سے 2015 اور اب 2018 پر محیط ہے، جسے ایچ ای سی پاکستان نے کبھی درست قرار دیا اور کبھی غلط تاہم فاضل ججز شہزاد سلیم کی الخیر یونیورسٹی کی ڈگری کو جعلی قرار دے چکی ہیں. حالات و واقعات کا عندیہ ہے کہ، موصوف تو اس دور طالب علمی میں کبھی اپنی ملازمت سے چھٹی پر نہ رہے، اور وہ ڈگری کسی چوڑ چپٹ یونیورسٹی کی بھی نہیں کہ، اسے فاصلاتی نظام تعلیم (ڈسٹینٹ لرننگ) کا حصہ مان لیا جائے. گویا ڈگری میں کچھ کالا کالا تو ہے. خیر سے "الخیر" کی ڈگریوں پر ماشاء اللہ و سبحان اللہ تو ازل سے کہنا پڑتا ہے. اب ایچ ای سی اپنی ساکھ کی خاطر اسے "اصلی " قرار دے کر اسلم رئیسانی کے محاورے یا ضرب المثل کو تقویت بخش بھی دے تو ساکھ اور راکھ کو "ہم جا" تو نہیں کہہ سکتے، ہم نہیں بھول سکتے کہ، ایچ ای سی کے ایک چئرمین نے ہمیں کہا کہ، فلاں ایسوسی ایٹ پروفیسر ٹینیور ٹریک سے ہے اور ٹرکی بھی، لہذا ہم لکھ چکے کہ وہ اس تجربہ وائس چانسلر شپ کیلئے کوالیفائی نہیں کرتا مگر جب اسی محترم و مکرم کی وائس چانسلرشپ عدالت میں چیلنج ہوئی تو عزت مآب ایچ ای سی چیئرمین اور ماتحتوں نے فاضل عدالت کے سامنے پینترا بدل لیا! خیر اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں. اگر آپ کسی ترقی یافتہ ملک میں ہوں اور آپ کی گاڑی کسی گمنام سٹریٹ میں کسی باڑ یا جنگلے سے لگ جائے، اور وہ جنگلہ یا گاڑی کا کوئی حصہ ٹوٹ جائے تو وہ آپ اور آپ کی گاڑی کی مسلسل آنیاں جانیاں نوٹ کریں گے، دیکھیں گے آپ کس طرح کے ہیں اور کیوں ہیں، آخر چند دن بعد آپ کے گھر کی گھنٹی بجے گی، نہایت احترام کے ساتھ کچا چٹھا سامنے رکھ دیا جائے گا، آپ ایک فیصد بھی جھوٹ بولنے سے قاصر ہوں گے، رپورٹس سامنے پڑی ہوں گی اور آپ کے ساتھ آفیسر کا رویہ بھی عزت دینے والا ہوگا. اسی طرز اور فلاسفی پر پاکستان میں بنیاد رکھی گئی تھی کہ وائٹ کالرڈ کرائمز یا اشرافیہ کو پرکھا جسکے مگر یہاں نیب اگر پرانے فارمولے کے تحت پکڑ کر پولیس کی طرح اگلوانے بیٹھ جائے، نیب کے اہلکاروں کا اپنا کریکٹر ڈھیلا، تجربہ کی کمی اور عقل میں آئیوڈین کی کمی ہوگی تو کیا ہوگا؟ حالیہ معاملات و واقعات میں سپریم کورٹ کئی دفعہ نیب اقدامات پر برہم ہوچکی. کیا کہیں گے اس کریڈیبلٹی کو؟ ہم نے مانا کہ، نیب کامیاب چھاپوں میں کروڑوں روپے بیوروکریٹس، سیاست دان اور منی لانڈرز کے گھر سے برآمد کرلیتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ، گھوڑے اور گدھے میں تمیز ہی نہ ہو. جرم استاد کرے یا دلشاد وہ جرم ہی ہے اور دلشاد و استاد مجرم لیکن بیک گراؤنڈ، عادی مجرم، اتفاقیہ جرم، مالی بدعنوانی ، پروسیجرل غلطی، کلیریکل مس ٹیک، خرم سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق جیسی باریکیوں اور نزاکتوں کو تفتیشی افسر نہیں دیکھتا یا جرم کی صحت اور صحبت سے آشنا ہے، تو وہ فروٹ کی ریڑھی لگانے کے قابل بھی نہیں. اگر زاویہ سیاست و ریاست اور آئین کو دیکھیں تو نیب ہو یا بیوروکریسی آن سب کو سیاست نہ سہی مگر ریاست اور اس کے اداروں اور بالخصوص ووٹ کی صداقت اور پارلیمان کی عزت کو ہر صورت مدنظر رکھنا ہوگا. کرپشن اس طرح ختم نہیں ہوگی کہ ریاست کے دیگر کاروبار ٹھپ کرلیں. تفویض کار میں بندھے سب لوگ نیب کے خوف سے قلم چھوڑ ہڑتال کا منظر نامہ بن جائیں. یہ تو پھر نیب فوبیا افعال پر آکاس بیل بن گیا ! اتراتے کیا پھریں کہ، پاناما لیکن میں 444 پاکستانیوں کا نام ہماری ایجنسیوں یا نیب کی بدولت تو سامنے نہیں آیا. آپ نے تو محض 294 کو نوٹس جاری کئے ہیں اور تاحال 150 کا سراغ بھی نہیں لگا سکے۔ دوسری بات کا تزکرہ اختصار کے ساتھ یہ ہے کہ، حکومت کہتی ہے ہم نے بلاول بھٹو زرداری کو چئرمین برائے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی پیشکش ہی نہیں کی جبکہ بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سے میری ازخود بات ہوئی سینیٹر مصطفےٰ نواز کھوکھر پورے اعتماد سے کہتے ہیں کہ، پیشکش ہوئی. اب پیشکش کی سائنس حکومت "سیاسی" نوعیت کی بنانے تو کوئی کیا کہے ورنہ بلاول بھٹو زرداری ٹریک شہادتوں کے تناظر میں غلط بیانی نہیں کرسکتے ، اور حکومتی اہلکار کے بیان پر ہم کچھ کہہ نہیں سکتے. یقیناً یہ اپوزیشن کو تقسیم کرنے کی حکومتی پولیٹیکل سائنس ہے جس جرم تو قرار نہیں دیا جاسکتا مگر مہزب معاشرے میں قومی سطح پر جھوٹ بولنا بہرحال ناپسندیدہ عمل ہے جو جرم سے کم نہیں. افسوس سے کہنا پڑتا ہے روایتی اور سیاسی طور پر شہباز شریف کا حق ہے کہ انہیں چئرمین پی اے سی کا عہدہ دیا جائے جب وہ قومی اسمبلی میں ممبر ہیں. حلف اٹھا رکھا ہے، سزایافتہ ابھی ہوئے نہیں تو پھر تعصب کی علاوہ اور ہے کیا؟ سوئس اکاؤنٹس ہوں یا کوئی میمو گیٹ سکینڈل، اسی طرح قومی اسمبلی کے مٹر یا اسمبلی کے وقار کا مسئلہ ہو یہاں قومی معاملات ہیں جن پر سیاست نہیں، قومی فہم سے قومی سطح پر اس پر غور کی ضرورت ہے، تشہیر کی نہیں. اور نہ ہمیں باہر جاکر اپنی برائیوں کی تشہیر کرنی چاہیے. برائی تو چھپائی جانی چاہیے. آخر گھوم گھما کر پھر احسن انداز معاملات کو عدالت عظمیٰ ہی نے دیکھا ہے جو نیب معاملات سے سوئس معاملات میں کہا کہ، آئین اور قانون کو مدنظر رکھیں ، سابق صدور کے اثاثوں کو اخفا میں رکھیں مطلب یہ ہوا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا ضروری ہے. ایویں نہ زلف یار کے قصے سر بازار رکھیں کہ، فوبیا ہی فوبیا ہو. جمہوریت کے حسن اور اسٹیبلشمنٹ کے رومانس کو رہنے دیں ۔۔۔ خدارا یہ نہ ہو کہ سب سفید دالیں بھی پوری کالی کردیں۔ فوبیا جمہوری حسن اور مقتدرہ قوتوں کے رومانس کو نیست و نابود نہ کردے. سیاستدانو و حکمرانو بچو !


ای پیپر