چیف جسٹس نے نعلین مبارکﷺ کی چوری سے متعلق کیس پر ایکشن لے لیا
کیپشن:   فوٹو بشکریہ فیس بک
11 نومبر 2018 (17:00) 2018-11-11

لاہور: نعلین مبارکﷺ کی چوری سے متعلق کیس میں عدالت نے بنائی گئی جے آئی ٹی کے تمام نمائندوں کو طلب کر لیا۔

ذرائع کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مختلف کیسوں کی سماعت کی۔ نعلین مبارکﷺکی چوری سے متعلق کیس پر ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہا کہ نعلین مبارکﷺ کی چوری عقیدے کا کیس ہے، کوئی عام کیس نہیں ، سولہ سال گزر چکے ہیں اس چوری کو ہوئے اور ہمیں پتہ ہی نہیں۔

محکمہ اوقاف کے تحت مسجدوں میں چندہ اکٹھا کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ کروڑوں روپیہ آپ تنخواہوں کی مد میں اڑا دیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا چیف سیکرٹری پنجاب کہاں ہیں؟ سیکرٹری اوقاف سے کام نہیں ہوتا تو عہدہ چھوڑ دیں۔

محکمہ اوقاف سے مسجدوں کے غلوں میں جمع ہونیوالے چندے سے متعلق چیف جسٹس نے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

چیف جسٹس نے گریٹر لاہور سوسائٹی کا ریکارڈ اگلے ہفتے طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ لوگ سوسائٹیوں پر سانپ بن کر بیٹھے ہوئے تھے، ان کی ٹرانسفرز کرائی گئی تو سیاسی لوگوں کی سفارشیں ڈھونڈنے لگ گئے جبکہ عدالت نے نیب کو 1ہفتے میں تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

ڈیم کی تعمیر کیلئے پلاٹ دینے کے معاملہ پر شیخ شاہد کے اہل خانہ پلاٹ واپس لینے چیف جسٹس کے پاس پہنچ گئے۔ شیخ شاہد کی اہلیہ نے اپیل کی کہ شوہر نے ہمارے حصے کے پلاٹ ڈیم کیلئے دے دیئے، یہ پلاٹ ڈیم کیلئے نہیں دینا چاہتے۔ اہلیہ نے کہا کہ شوہر کا ذہنی توازن درست نہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے شہری کے ذہنی معائنہ کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ فکر نہ کریں ڈیم فنڈز میں کافی رقم جمع ہوگئی ہے، آپ کی پراپرٹی واپس کر دیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان نے شہری کی جائیداد سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے یونائیٹڈ کرسچن ہاسپٹل لاہور کی بحالی کا حکم دیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب سے ایک ہفتے کے اندر رپورٹ طلب کر لی جبکہ چیف جسٹس نے یو سی ایچ ٹرسٹ کو بھی چیف سیکرٹری سے تعاون کا حکم دے دیا۔


ای پیپر