علامہ اقبال کے مزار پر خوشی
11 نومبر 2018 2018-11-11

شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ محمد اقبال کی شاعری اور فکر کو سمجھنے کے تین درجے ہیں۔ پہلا درجہ نصابی نوعیت کا ہے یعنی ہم سب مختلف جماعتوں میں علامہ اقبال کا کلام عقیدت اور احترام کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ یہ کام ’ لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری، زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری‘ سے شروع ہوتا ہے اور کم از کم ’ کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں، یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں‘ سے ہوتا ہوا شکوہ، جواب شکوہ، والدہ محترمہ کی یاد میں جیسے دیگر اردو کلام تک پہنچتا ہے۔ ہم میں سے بہت سارے علامہ اقبال کے شعروں اورنظموں کو اس یقین کے ساتھ لہک لہک کر پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں اس سے ثواب بھی ملے گا، واللہ اعلم،ملتا بھی ہو کہ میری ثواب اور گناہ لکھنے والے فرشتو ں کے ساتھ فرینک نیس نہیں ہے کہ ان سے پوچھ سکوں۔

علامہ اقبال کو پڑھنے اور سمجھنے کا دوسرا درجہ زیادہ سب سے زیادہ دلچسپ ہے جب ہم سیانوں کے اس قول کے ساتھ جاتے ہیں کہ سوال کرو اور ہر شے پر سوال کرو کہ سوال ہی علم اور عقل کے دروازے کھولتا ہے۔پڑھائی اور سمجھائی کے اس عمل میں اقبال کی کہی ہوئی بہت ساری باتوں کی نفی ہوتی ہے اور ہم پر اقبال کی شاعری کے تضادات کھلتے ہیں۔ وطنیت کے تصور کے ارتقا میں کہی ہوئی نظموں سے شروع ہوا جاتا ہے اور امت کے تصور کے ساتھ تقابل میں قہقہے لگتے ہیں۔ اقبال کی تضحیک اور تردیدبھی اسی طرح فیشن میں شامل ہے جس طرح بہت سارے گلی ، محلے کی سطح پر بھی نامعلوم رہ جانے والے شاعر غالب کے اشعار میں سے بحر، ردیف اور اوزان کی غلطیاں نکالتے ہیں۔ ایسے ہی ایک شاعر سے میری زمانہ طالب علمی میں ملاقات ہو ئی تھی جنہوں نے اپنی تنقید سے مجھے بہت متاثر کیا مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ غالب کانام تو آج بھی دنیا میں ڈنکے کے طور پر بجتا ہے مگر ان شاعر صاحب اور ان کے مجموعے کا نام ذہن پر بار بار زور دینے کے باوجود یاد نہیں آ رہا۔

اقبال فہمی کا تیسرا درجہ بہت مختلف ہے۔ یہ نصاب ،عقل اور منطق سب سے الگ ہے، یہ درجہ عشق کا ہے، اسے سمجھنا اسلام کو سمجھنے جیساہے یعنی سرِتسلیم خم کئے جانے کے بعد سمجھنا، بھلا عشق کو عقل اور منطق کے ساتھ کیسے سمجھا جاسکتا ہے، ہرگز نہیں سمجھا جا سکتا۔عشق اپنے اندر ایک مختلف مضمون ہے جو موخرالذکر دونوں سے بہت مختلف ہے۔ عشق کو عقل کے ساتھ رکھ کے سمجھنا ایسے ہی ہے جیسے آپ الجبرے کے فارمولے سے کسی کار کی ولاسٹی معلوم کر رہے ہوں۔ریاضی میں الجبرے کے فارمولے اپنی جگہ درست ہیں اور کار کی ولاسٹی معلوم کرنے کا طریقہ فزکس میں موجود ہے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں مگر آپ جب ان دونوں کوایک ساتھ لاگو کرنے کی کوشش کریں گے تو منہ کی کھائیں گے۔ مادی ترقی کے راستے اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں، ایک علم ہیں، ایک جہان ہیں جبکہ اقبال کی خودی مادیت سے بالاتر کر دیتی ہے۔ جامعہ پنجاب میں شعبہ اسلامیات کے ایک سابق سربراہ نے مجھے روشنی دکھائی، کہا، تم قرآنی آیات کا انطباق کسی بھی وقتی، دنیاوی اور سیاسی کامیابیوں پر مت کیا کرو جیسے ہم کسی پسندیدہ شخص کی حکومت بننے پر کہہ دیتے ہیں کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے کے لئے ہی ہے یا انتخابی معرکوں کو سورة نصر سے ملا دیتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ اقبال کاکلام بھی دنیاوی مقابلوں اور سیاسی معرکوں کی خاطر ہرگز نہیں ہے۔ یہ تو انسان کے اندر کی دنیا کو بدلنے کے لئے ہے اور جب ہم اندر سے بدل جاتے ہیں تو پھر واقعی پوری دنیا ہی بدل جاتی ہے ۔

اقبال نے کہا، اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی، تو میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن‘۔ اقبا ل کے کلام کے ساتھ بھی وہی مسئلہ ہے جو مذہب کے ساتھ ہے کہ ہم اسے ہمیشہ دوسروں پر منطبق کر کے دیکھتے ہیں حالانکہ یہ چیزیں خود اپنے اندرلاگو کرنے والی ہیں۔ہم میں سے بہت سارے شاطر اقبال کے کلام کو اسی طرح اوڑھ لیتے ہیں جیسے ایک طوائف خودکو دنیا والوں کی نظروں سے چھپانے کے لئے برقعہ اوڑھ لیتی ہے اور ایک طوائفوں جیسا مرد دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے داڑھی رکھ لیتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بہت ساروں نے اقبال اوڑھا ہوا ہے مگر ان کے اندر کچھ اور ہے۔ اقبال نے ملا اور مجاہد کے درمیان واضح تقریق رکھی ہے مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ اقبال کے شعروں کا سب سے زیادہ استعمال مُلا ہی کرتا ہے کیونکہ یہ سمجھاجاتا ہے کہ دین کی ٹھیکیداری صرف اور صرف مُلاکے پاس ہے۔ مُلاکو یہ ٹھیکیداری اس لئے مل جاتی ہے کہ دنیاوی اور سیاسی رہنماو¿ں کو جب سورة اخلاص بھی سنانی پڑ جائے تو انہیں موت پڑجاتی ہے، ایمان کی بنیاد کلمے، دعائے قنوت اور جنازے کا درود او ر دعا تو بہت دور کی باتیں ہیں۔ جہاں اقبال کی شاعری سے مُلا نے خُود کش حملہ آور تک نکالے ہیں اور بہت کامیابی سے کلمہ گووں پر ہی پھاڑے ہیں وہاں خوشامدیوں نے اپنے اپنے پسندیدہ حکمرانوں کوقائداعظم ثانی اور اقبال کا مرد مومن قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا، کاسہ لیسوں نے اقبال کے شعروں کو مخالفین کے لئے ڈنڈے کی طرح بھی استعمال کیا ہے۔

میں جانتا ہوں کہ بہت ساروںمیں کلیات اقبال کے سرسری مطالعے کی اہلیت بھی نہیں کہ ہم اردو زبان کے معمول میں مستعمل الفاظ کی درست ادائیگی سے بھی محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ انگلش میڈیم سے تیار ہونے والی نئی نسل کوحقیقت میں نہ اردو آتی ہے اور نہ ہی انگریزی، ایسے میںفارسی کے الفاظ و اصطلاحات سے بھرے اقبال کے کلام کو کون سمجھ سکتا ہے،ہم شکوہ او رجواب شکوہ پر ہی گر پڑتے ہیں جب ا س کا آغاز ہوتا ہے ،’ کیوں زیاں کار بنوں سُود فراموش رہوں، فکرِ فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں، نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں، ہمنوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں، جرات آموز مری تاب سخن ہے مجھ کو، شکوہ اللہ خاکم بدہن ہے مجھ کو۔۔‘ ، فارسی کلام تو یہاں سے بہت دور پرے کی بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر برس نونومبر کو کچھ زیادہ اور اکیس اپریل کو کچھ کم، ہمارے سامنے اقبال کی دکان لگتی ہے۔ کچھ دکاندار اس سودے سے دکان کیا خوب سجاتے ہیں کہ دل موہ لیتے ہیں اور چونکہ ہم سب اقبال کے نصابی فین ہیں، ہمیں بتایا گیا ہے کہ علامہ اقبال حکیم الامت ہیں لہٰذا ہم ان کی فکر کو حکمت کے مشکل نسخے سمجھ لیتے ہیں۔ جب اقبال نے خود کہہ دیا، ’ اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے، کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے‘ ، تو پھر ہمیں اقبال کی فہم رکھنے کی خواہش میں کچھ زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہئے اور اقبال فہمی کے لئے اوپر بیان کر دہ تینوں درجوں کو نظرانداز کرتے ہوئے آدھے سے کچھ زیادہ پاکستانیوں کے لئے اسی قیادت کو عین نعمت سمجھنا چاہئے جو مزار اقبال پر حاضری دینے کے بعد وی آئی پی وزیٹرز بک میں یہ لکھ کر بری الذمہ ہوجائے کہ اسے علامہ اقبال کے مزار پر آکے بہت خوشی ہوئی ہے۔


ای پیپر