Palestine, air strikes on unarmed Muslims, 21 martyrs, including children
کیپشن:   فائل فوٹو
11 May 2021 (11:30) 2021-05-11

غزہ: فلسطین میں یہودیوں کی فرعونیت کا بازار گرم ہے۔ آگ اور خون کے کھیل میں انسانیت دب کر رہ گئی ہے۔ اسرائیلی درندوں نے فضائی حملے کرکے اکیس نہتے مسلمانوں کو شہید جبکہ ڈھیروں کو زخمی کر دیا ہے۔ شہادت پانے والوں میں 9 بچے اور حماس رہنما بھی شامل ہیں۔

حملوں کے نتیجے میں کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی ہے۔ ادھر مسجد اقصیٰ میں کئی روز سے اسرائیلی غنڈہ گردی کا سلسلہ جاری ہے۔ جنونی اسرائیلیوں نے نمازیوں پر ربڑ کی گولیاں برسائیں اور دیگر ہتھیاروں کا بھی بے دریغ استعمال کیا۔ مسجد اقصیٰ میں آگ لگنے پر نفرت کی آگ میں سلگے یہودی جشن مناتے رہے۔

ادھر دنیا بھر میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید غم وغصہ کا اظہار کیا گیا ہے۔ یورپی یونین اور برطانیہ نے فریقین سے کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن فلسطین کی صورت حال پر اقوام متحدہ کا اجلاس بے نتیجہ رہا ہے۔

یورپی یونین اور برطانیہ نے اسرائیل اور فلسطین پر زور دیا ہے کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے کشیدگی کو کم کریں۔ امریکا نے حماس کے راکٹ حملے اور ہر طرح کا تشدد بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فلسطین کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے بے نتیجہ اجلاس کا اعلامیہ تک جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے فلسطینی صدر محمود عباس اور حماس کے سربراہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ترکی مشکل وقت میں اپنے بھائیوں کے ساتھ ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسرائیلی فورسز سے تشدد میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری جین ساکی نے امریکی صدر کی جانب سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بڑھتے ہوئے تشدد پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم اسرائیل کی صورت حال کو بہت قریب سے مانیٹر کر رہے ہیں۔

یورپی یونین اور برطانیہ نے اسرائیل اور فلطسین پر زور دیا کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے کشیدگی کو کم کریں۔ جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے بھی شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ القدیمی نے بھی اسرائیلی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔


ای پیپر