Dr Tehsin Feraqi, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
11 May 2021 (11:29) 2021-05-11

آج سے تقریباً اکانوے برس پہلے لندن کے سیاسی ایوانوں میں ایک نہایت بے باک اور سچی آواز گونجی اور جلد ہی اس کی بازگشت غیر منقسم ہندوستان میں بھی بڑے غور سے سنی گئی۔ آواز کیا تھی، ایک تہلکہ تھا، ایک ہنگامہ تھا، ایک پیش گوئی تھی جس نے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد سچ کا روپ دھار لیا۔ شیر دھاڑ رہا تھا: " میں اپنے وطن جانا چاہتا ہوں (اگر میں جا سکتا ہوں) مگر اپنے ہاتھ میں آزادی کا پروانہ لے کر۔ اگر ایسا نہ ہوا تو میں ایک غلام ملک میں واپس نہیں جاؤں گا۔ میں ایک غیر ملک میں، جو آزاد ہو، مرنے کو ترجیح دوں گااور اگر تم ہمیں ہندوستان کی آزادی نہیں دو گے تو تمہیں یہاں اپنے ملک میں مجھے قبر دینا ہو گی۔ ہم یہاں امن، بھائی چارے اور آزادی کے حصول کے لیے آئے ہیں اور مجھے امید ہے ہم یہ نعمتیں لے کر لوٹیں گے۔ اگر ہم ایک نئے ملک کے ظہور کے بغیر لوٹیں گے تو گویا ہم ایک گم شدہ ملک کو لوٹیں گے۔ میں کھل کر کہتا ہوں کہ ہندوستان پر انگریز حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں"۔ یہ سچی اور کھری آواز دل سے نکلی اور دلوں میں اتر گئی۔ کیسی صحیح پیش گوئی تھی، اپنے بارے میں، اپنے وطن کے بارے میں۔ برعظیم صرف سترہ برس بعد آزاد ہوا مگر اپنے بارے میں تو پیش گوئی کے صرف ڈیڑھ ماہ بعد یہ آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی، ۴ جنوری ۱۹۳۱ کو۔ یہ آواز محمد علی جوہر کی تھی جس نے عرصہ پہلے اپنے بارے میں کہا تھا :

 جیتے جی تو کچھ نہ دکھلایا مگر

مر کے جوہرؔ آپ کے جوہر کھلے

اور پھر قبر بھی کہاں نصیب ہوئی، پیغمبروں کی سرزمین فلسطین میں، مسجدِ عمرؓ کے پائیں میں! اقبالؒ نے اس پر کیا بے مثال شعر کہا تھا :

 خاک ِقدس اُورا بہ آغوشِ تمنا در گرفت 

سُوئے گردوں رفت زاں راہے کہ پیغمبر گذشت!

(بیت المقدس کی پاک سرزمین نے اسے آغوشِ تمنا میں لے لیا۔ وہ آسمان کی سمت اْسی رستے سے گیا جس رستے سے پیغمبر علیہ السلام گئے!)

یہ سب باتیں شاید مجھے یوں یاد نہ آتیں اگر ہمارے معاصر اسد مفتی کی حال ہی میں شائع ہونے والی ایک تحریر میری نظر سے نہ گزرتی، بڑی آزردہ کر دینے والی تحریر۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک خبر کے مطابق فلسطین میں محمد علی جوہر کی قبر کو شہید کر کے اس کی جگہ ایک یہودی عبادت گاہ تعمیر کر دی گئی ہے۔ اس یہودی جسارت پر سوائے مذمت اور ماتم کے اور کیا کیا جاسکتا ہے۔ یہود ہوں یا ہنود، ان کے اس قبیل کے شرمناک کھیل عرصے سے جاری ہیں اور ایک ارب سے زیادہ جمعیت رکھنے والی نام نہاد ملتِ اسلامیہ ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی خاموش تصویر بنی ہوئی ہے۔ جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے!

محمد علی جوہر غیر منقسم برعظیم پاک و ہند کے ایک زندہ جاوید انسان تھے، عالم، بے مثل مقرر، ماہر اسلامیات، مسلمانوں کے جری اور باہمت قافلہ سالار، زبان اور بیان پر حاکمانہ عبور رکھنے والے صحافی۔ 'ہمدرد' اور 'کامریڈ' کے بانی اور کاغذ پر کلیجہ نکال کر رکھ دینے والے دردمند قلمکار۔ پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ! حق 

گو ایسے کہ بڑے بڑوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ حریتِ فکر اور آزادیِ اظہار کے ایسے علم بردار جو منبر اور دار دونوں پر کلمۂ حق کہنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ لندن ہی کے ایک اجلاس میں کس قدر بے باکی سے ہندوستان کے ایک بڑے عہدہ دار کے خلاف کہہ گزرے تھے: "مجھے یہ شکایت نہیں کہ مجھے لارڈ ریڈنگ نے کیوں جیل بھیجا۔ میں تو صرف یہ انسانی حق چاہتا ہوں کہ اگر لارڈ ریڈنگ کسی جرم کا مرتکب ہو تو میں بھی اسے جیل بھیج سکوں"۔ قیدو بند کی صعوبتیں ہنستے بولتے برداشت کر لیں۔ کم و بیش سات برس کی قیدیں کاٹیں، کراچی، دہلی، چھندواڑہ، بیتول اور بیجا پور کی قیدیں، مگر پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی۔ پوری ملتِ اسلامیہ سے غیر معمولی محبت کرنے والا اور اسے دنیا کی قوموں میں سربلند دیکھنے کا متمنی، اقبال کی مثنویوں اسرارِ خودی اور رموزِ بیخودی کا حافظ، انجمنِ خدامِ کعبہ کا بِنا کار، برعظیم میں مسلم حکومت کے فیضان کا معترف، ۱۹۰۶ میں وجود میں آنے والی مسلم لیگ کے دستورِ اساسی کی بنیاد رکھنے ولا، تحریکِ خلافت کا متوالا، ترکوں سے ٹوٹ کر محبت کرنے والا اور اکٹھے انیس کالموں میں لندن ٹائمز کے ایک بیہودہ مضمون کے جواب میں "چوائس آف دی ٹرکس" ایسا معرکہ آرا مضمون لکھنے والا جس کے نتیجے میں 'کامریڈ' کی اشاعت پر انگریز حکومت نے پابندی لگا دی اور انہیں چھندواڑہ میں نظر بند کر دیا۔

کْل ترپن برس عمر پائی مگر ایسی قابلِ رشک کہ اس پر سیکڑوں برس پر محیط زندگیاں قربان کی جا سکتی ہیں۔ رئیس احمد جعفری نے " ایک مجاہد کی موت" کے زیرِ عنوان ایک بڑی موثر تحریر لکھی۔ محمد علی جوہر امراض کی پوٹ ہو گئے تھے۔ ذیابیطس نے تو خاص طور پر خوفناک صورت اختیار کر لی تھی۔ اسی حالت میں لندن کے ہائیڈ پارک ہوٹل سے برطانوی وزیر اعظم ریمزے میکڈونلڈ کے نام ایک طویل خط املا کرایا جو ان کی حق گوئی، اقلیتوں کے تحفظ، ہندو مسلم تعلقات، مسلم اکثریتی علاقوں میں اصلاحات اور دیگر سیاسی اور تہذیبی امور پر ایک چشم کشا تحریر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس طویل خط نے ان کی توانائی کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیا۔ شمع نے آخری بھڑک دکھائی اور ہمیشہ کے لیے خامو ش ہو گئی۔ 

محمد علی کی اچانک موت پر معاً یہ سوال اٹھا کہ ان کی تدفین کہاں ہو؟ رامپور، جو ان کی جائے پیدائش تھی، لکھنؤ جہاں ان کے مرشد عبدالباری فرنگی محلی کی آخری آرام گاہ تھی اور جہاں انجمنِ خدامِ کعبہ کی بنیاد رکھی گئی تھی، اجمیر جس کے چشتی شیخ سے محمد علی کو بڑی عقیدت تھی، کلکتہ جہاں سے 'کامریڈ' بڑی شان سے نکلا تھا، علیگڑھ جہاں جوہر نے اپنی اعلیٰ تعلیم کے مدارج طے کیے تھے ، دہلی جس نے محمد علی جوہر کے عروج وزوال کے کئی منظر دیکھے تھے اور جہاں انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ سب جگہیں اپنی جگہ مگر فلسطین میں ان کی آخری آرام گاہ ان کے لیے مقدر ہو چکی تھی، مفتی امین الحسینی کے ایماء پر بیت المقدس میں اس مجاہد ِ کبیر کے جسدِ خاکی کو جگہ ملی۔ اور اب قبر کا انہدام اور اس کی جگہ صہیونی عبادت گاہ کی تعمیر کا المناک واقعہ۔ روایت ہے کہ مجاہدِ کبیر کے جنازے میں دو لاکھ سے زیادہ لوگ شریک ہوئے۔ تین گھنٹے میں جنازہ اپنی آخری منزل تک پہنچا۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کے متعدد وفود حوصلہ مند بیگم محمد علی سے ملتے رہے۔ نمازِ جمعہ کے بعد نمازِ جنازہ پڑھائی گئی۔ دنیا بھر کے اخبارات و جرائد میں خبریں اور تعزیتی پیغامات شائع ہوئے۔ وہ برعظیم کی آزادی کا مسئلہ ہو یا ترکی، ایران، مصر، مراکش، یا الجزائر کا، وہ ان سب کے لیے حریت اور حق کی آواز بلند کرتے رہے۔ دنیا کے بہت سے مشاہیر نے ان کی عظمت کااعتراف کیا جن میں ایچ۔جیویلز اور برنارڈ شا تک شامل ہیں۔ برنارڈ شا نے مولانا دریا بادی کے نام خط میں لکھا:"ان کی شخصیت نے مجھے اس قدر متاثر کیا کہ جب میں نے ان کی موت کی خبر سنی تو مجھے محسوس ہوا کہ اسلام ایک زندہ اور توانا قوت سے محروم ہو گیا ہے۔" 

جوہر کے بارے میں رشید احمد صدیقی کے یہ الفاظ بھلائے نہیں بھولتے: "ولادت تو مادرزاد ہوتی ہے لیکن محمد علی کی موت خانہ زاد تھی۔ عام طور پر موت اپنا انتخاب خود کرتی ہے لیکن محمد علی نے موت کا انتخاب خود کیا۔"

جوہر کی زندگی اور موت دونوں قابلِ رشک تھیں۔ آج ہماری معاشرت ایسے مردانِ کبیر سے خالی ہو چلی ہے جن کی آواز، حْسنِ کردار سے خدا کی آواز بن جاتی ہے۔ محمد علی جوہر ایک ایسی ہی آواز تھے۔


ای پیپر