Shakeel Amjad Sadiq, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
11 May 2021 (11:18) 2021-05-11

مولانا جلال الدین محمد بلخی رومی کی کتاب مثنوی معنی سے ایک حکایت کا ترجمہ ملاحظہ کیجیے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اسلام سے قبل ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ہوا ایران کے ایک مفکر شیوانا کے پاس آیا اور کہنے لگا:

 ’’میری ماں نے فیصلہ کیا ہے کہ معبد کے کاہن کے کہنے پر عظیم بت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے۔ آپ مہربانی کر کے اس کی جان بچا دیں‘‘۔

 شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ہے کہ عورت نے بچی کے ہاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ہیں اور چھری ہاتھ میں پکڑے آنکھیں بند کیے کچھ پڑھ رہی ہے۔ بہت سے لوگ اس عورت کے گرد جمع تھے اور بت خانے کا کاہن بڑے فخر سے بت کے قریب ایک بڑے پتھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ 

شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبت ہے اور وہ بار بار اس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رہی ہے مگر اس کے باوجود معبد کدے کے بت اور کاہن کی خوشنودی کے لیے اس کی قربانی بھی دینا چاہتی ہے۔

 شیوانا نے اس عورت سے پوچھا کہ وہ کیوں اپنی بیٹی کو قربان کرنا چاہ رہی ہے؟ 

عورت نے جواب دیا: 

’’کاہن نے مجھے ہدایت کی ہے کہ میں معبد کے بت کی خوشنودی کے لیے اپنی عزیز ترین ہستی کو قربان کر دوں تا کہ میری زندگی کی مشکلات ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں‘‘۔ 

شیوانا نے مسکرا کر کہا:

 ’’مگر یہ بچی تمہاری عزیز ترین ہستی تھوڑی ہے؟ اسے تو تم نے ہلاک کرنے کا ارادہ کیا ہے، تمہیں جو ہستی سب سے زیادہ عزیز ہے وہ تو پتھر پر بیٹھا یہ کاہن ہے کہ جس کے کہنے پر تم ایک پھول سی معصوم بچی کی جان لینے پر تل گئی ہو۔ یہ بت احمق نہیں ہے، وہ تمہاری عزیز ترین ہستی کی قربانی چاہتا ہے۔ تم نے اگر کاہن کے بجائے غلطی سے اپنی بیٹی قربان کر دی تو یہ نہ ہو کہ بت تم سے مزید خفا ہو جائے اور تمہاری زندگی کو جہنم بنا دے‘‘۔ 

عورت نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بچی کے ہاتھ پاؤں کھول دیئے اور چھری ہاتھ میں لے کر کاہن کی طرف دوڑی مگر وہ پہلے ہی وہاں سے جا چکا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس دن کے بعد سے وہ کاہن اس علاقے میں پھر کبھی نظر نہ آیا۔ 

دنیا میں صرف آگاہی کو فضیلت حاصل ہے اور واحد گناہ جہالت ہے۔

سقراط کو گزرے ہوئے 2415 برس ہوگئے۔

ان کے شاگرد افلاطون کو گزرے ہوئے 2364 برس بیت گئے۔

ارسطو کو گزرے ہوئے 2338 برس ہوگئے۔

حب کہ حضورﷺ کے زمانے کو گزرے ابھی محض 1429 سال ہوئے ہیں مگر لبرلز کے ہاتھ کی صفائی تو دیکھیں۔

یہ آپ کو جا بجا سقراط، افلاطون اور ارسطو وغیرہ کے اقوال کوٹ کرتے ہوئے تو نظر آئیں گے مگر ان کے قلم اور زبان سے کبھی قرآن کی کسی آیت یا حضورؐ کے کسی فرمان کا حوالہ آپ کو نہ ملے گا۔ بلکہ وہ الٹا حقارت سے یہ کہتے ہوئے پائے جائیں گے کہ یہ سب فرسودہ اور پرانے وقتوں کی باتیں ہیں جن کا آج کے دور میں چلنا ممکن نہیں۔

سچ یہ ہے کہ پرانے وقتوں کے فلسفیوں سے منسوب باتوں کی کوئی گارنٹی نہیں کہ آیا وہ انہوں نے کہی بھی تھیں کہ نہیں جب کہ قرآن کی ایک ایک آیت اور حضورؐ کے فرامین و سیرت اطہر، کئی کئی راویوں کے ذریعہ اس طرح محفوظ ہوکر ہم تک تواتر کے ساتھ پہنچے ہیں کہ جیسے ہم خود حضورؐ اور ان کے اصحابؓ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

دین اسلام ہی ہماری زندگیوں کے لیے بہترین راستہ متعین کرنا ہے اور سنت رسولؐ کی پیروی ہی ہماری زندگیوں کی اصل روح اور اساس ہے۔

ہماری کامیابی اور ہمارا ذہنی ،روحانی اور قلبی سکون قرآن اور سنت کی پیروی میں پنہاں ہے۔۔قول اور فعل میں تضاد منافقت کو جنم دیتا ہے۔ منافقانہ عمل اور منافقانہ رویے معاشرتی اور سماجی زندگی میں کج روی پیدا کرتے ہیں۔جیسے دل اور دماغ کی جنگ ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اسی طرح قول و فعل میں تضاد وہ دو دھاری تلوار ہے جو معاشرے میں انصاف کی جڑوں کو کاٹ دیتی ہے۔جو معاشرے انصاف پر مبنی ہوتے ہیں۔ہر طرح کی ترقی اور مثبت سوچ ان معاشروں کا مقدر بن جاتا ہے۔دوسری بات فطرت اپنے قانون میں مداخلت پسند کرتی۔جب بھی ہم خلافِ فطرت کوئی بھی فعل سر انجام دیں گے تو اس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑے گااور جب من الحیث قوم ہم فطرت کے قانون کی خلاف ورزی کریں گے تو اس کا خمیازہ ہمارے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔آج پوری کی پوری قوم فطرت کے قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔اسمبلی سے لے کر پارلیمنٹ اور ججز سے لے کر بیوروکریسی ، تاجر سے لے کر آجر اور استاد سے لے کر شاگرد تک ،پولیس سے لے کر عوام اور ڈاکٹر سے لے کر ادویات ساز کمپنیاں سب کے سب مال بٹورنے اور سرمایہ اکٹھا کرنے کے چکر ہیںاور ہم سب کسی نہ کسی طرح کسی مافیاز کا حصہ ہیں۔ سب خلاف فطرت چل رہے ہیںاور فطرت نے ہماری رسی ڈھیلی چھوڑ رکھی ہے۔ ہم سب بھٹک رہے اور سب بھٹک رہے ہیںاور آنے والی نسل بھی بلا چوں چراں کیے ہمارے قدموں پر قدم جمائے تیزی سے ہمارے پیچھے آرہی ہے۔


ای پیپر