Asif Anayat, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
11 May 2021 (11:12) 2021-05-11

ہمارے ہاں چونکہ کوئی نظام سرے سے عملی طور پر موجود ہی نہیں ہے آئنی ، قانونی ، مسلکی غرضیکہ ہر نوع کے احکامات اور ضابطے صوابدیدی اختیارات کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ عدالت میں مقدمہ، کسی سرکاری، نجی ادارے میں تعیناتی، ترقی ، بحالی غرضیکہ جو بھی مسئلہ ہو اس میں یقینی اور میرٹ پر نتائج کا فقدان ہے جس کی وجہ سے لوگ روحانیت سمجھ کر توہم پرستی کی طرف چل پڑتے ہیں۔ بابوں، ملاؤں، گدی نشینوں نے وطن عزیز کے فرش نشینوں کو کنگال اور یرغمال کر رکھا ہے۔ ستم ظریفی نقطۂ عروج پر اس وقت پہنچتی ہے جب ارباب اختیار بھی بلیک اینڈ وائٹ نظام کو چھوڑ کر اسی ڈگر کے راہی پائے جائیں جبکہ روحانیت ، صوفی ازم، فقر باقاعدہ چنیدہ چنیدہ ارواح کو سونپی گئی ودیت ہے ۔ ہم آہنگی اور محبت رکھنے والی ارواح ایک دوسرے کو ڈھونڈ لیا کرتی ہیں جبھی تو مولانا رومی فرماتے ہیں جو شخص یار سے جدا ہو چاہے وہ سو سہارے رکھے وہ بے سہارا ہی ہوتا ہے، فانی سے عشق فانی ہے لافانی سے عشق کر وہ لافانی ہو گا،ایسا خیال جس سے روح خوش نہ ہو وبال ہوتا ہے، دنیا داری کی رغبت کے حوالے سے فرماتے ہیں۔

پرندہ اوپر اڑ رہا ہے اور اس کا سایہ پرندہ کی طرح زمین پر اڑان کر رہا ہے بیوقوف اس سایہ کا شکاری بنتا ہے اور اتنا دوڑتا ہے کہ بے طاقت ہو جاتا ہے۔ اس بات سے غافل کہ وہ اصل پرندے کے عکس کا شکار کر رہا ہے۔ اس بات سے غافل کہ اصل پرندہ کہاں ہے۔ وہ سایہ کی طرف ہی تیر اندازی کرتا رہتا ہے اور ترکش خالی ہو جاتا ہے۔ جس کی عمر کا ترکش اس طرح خالی ہوا اس کی عمر برباد ہوئی۔ اس کو سایہ کے خیال سے نجات صرف اسی صورت میں مل سکتی ہے کہ اللہ کا سایہ اس کی دایہ بن جائے۔ 

دنیا کی ضروریات جو انسانی زندگی سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں کے پیچھے بھاگ بھاگ کر اصل سے غافل ہوتے جاتے ہیں۔ سرکار کریمؐ کا فرمان ہے کہ تمہارا وہی جو کھا لیا، پہن کے گھسا دیا یا آگے بھیج دیا (مفہوم) گویا باقی تو ترکہ ہے اور اس ترکے کے لیے یوں سرپٹ دوڑ کہ ہانپ ہانپ کہ جب انسان مرتا ہے تو آنکھ کھلتی ہے پھر قرآنی حکم کہ ’’تمہیں کثرت کی خواہش نے غافل کیے رکھا حتیٰ کہ تم نے قبریں جا دیکھیں‘‘ (مفہوم) نافذ ہو چکا ہوتا ہے۔ 

صحابہ اکرام رضوان اللہ آقا کریمؐ سے نفسانی بھوت کے مکر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے کہ وہ عبادتوں اور دل کے اخلاص میں کیا کیا پوشیدہ خود غرضیاں ملا دیتا ہے وہ آقا کریمؐ سے عبادت کی فضیلتیں نہ پوچھتے بلکہ باطنی عیوب کی جستجو کرتے۔ 

نفس کی مکاری کا بال بال اور ذرہ ذرہ وہ پہچان لیتے۔ اصل فقیر ہمیشہ شریعت محمدی ؐ کا پابند ہوتا ہے کیونکہ شریعت کی پابندی کے بغیر فقیری عین مکاری ہے چونکہ بہت سے شیطان انسانی چہرے رکھتے ہیں ہر ایک کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں پکڑانا چاہیے جسم کو شیطان کے قبضے سے نکالنے کے لیے ویران کرنا پڑتا ہے (مجاہدات کے ذریعے) اور پھر روح کے ذریعے آباد کیا جاتا۔ 

کھرا سونا اور کھوٹا سونا بغیر کسوٹی پرکھے قابل اعتبار نہیں ہے۔ خدا جس کے دل میں کسوٹی رکھ دیتا ہے بلاشبہ وہ یقین کو شک سے جدا کر لیتا ہے۔ اور وہ جو رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے ’’اپنے دل سے فتویٰ پوچھ‘‘ اس کو وہی جانتا ہے جو وفاداری سے پر ہے ۔

اگر صاحب نظر سے واسطہ بن جائے تو پھر اس کی خدمت کر کے کئی صاحب معرفت ہوئے عالم کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔ اس سے نیک بختی کے دروازے کھلتے ہیں مگر مکاروں سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ اللہ کریم اپنی کائنات کا نظام چلانے کے لیے کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔ محض عبادات اور صدقے کے اشتہارات ہمیں اپنے حصار میں نہیں لے سکتے۔ دراصل یہ دنیا ایک پہاڑ ہے اور ہمارا فعل آواز جو لوٹ کر ہمارے ہی پاس آنے والی ہے لہٰذا ہم کیسی آواز سننا چاہتے ہیں یہ ہمارے اختیار میں ہے ۔ کبھی اپنے گھر کے باہر سے اجنبیوں کی طرح گزر جاؤ اور سوچو کہ ایک دن تم اس گھر میں نہیں ہو گے باہر سے گزرنے والا اور گھر میں رہنے والا تمہارا تذکرہ کرے گا۔ وہ تذکرہ عمال نامہ ہے اگر سیدھے ہاتھ میں تھما دیا گیا تو بیڑا پار اور اگر الٹے ہاتھ میں آ گیا تو یہ لمحہ لمحہ زندگی لمحہ لمحہ منزل سے دوری کا سبب ہے۔ اس زندگی میں عاجزی بڑا تحفہ ہے۔ انجیل میں ہے کہ اے بنی آدم تو اوروں کی آنکھ میں تنکا دیکھتا ہے لیکن تجھے اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔ در اصل جو روزانہ شیشہ دیکھتا ہے اس کو کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کہاں کھڑا ہے اس کے چہرے میں کیا تبدیلیاں آ گئیں وہ مطمئن رہتا ہے لیکن 10،15 سال بعد اس کو دیکھنے والا اگر اس نے آسودگی روح کی غیر آلودگی سے سال گزارے ہیں تب بھی اور اگر تنگی و روح کو نجس کر کے زندگی گزاری ہے تب بھی چہرہ عکاسی کرے گا اور دیکھنے والا ویسی ہی حیرت اور خیال کا اظہار کرے گا جیسے سال ہا سال چہرے کے تغیر کا علم نہیں ہوتا ویسے تنکا تنکا سیاہ کاری غیبت، بدخواہی روح کو ایسا برباد کرتی ہے کہ جب یہ جسم سے جدا ہو تو جسم کو دفنانے کی زحمت ہی دینا ہوتی ورنہ روح حقیقی معنوں میں تو کب سے اس بدن کو چھوڑ چکی ہوتی ہے۔ 

بدن جان سے اور جان بدن سے پوشیدہ نہیں مگر یہ دستور نہیں کہ کوئی جان کو دیکھ سکے (یہی حال اس آہ زاری کے بھید کا ہے) 

انسان تو اتنا بے اختیار ہے کہ اسے یہ بھی ادراک نہیں کہ اسے دعا میں کیا مانگنا ہے گروہ مالی آسودگی مانگ رہا ہو تو اس بات سے بے خبر ہوگا کہ اگلے لمحے تو اسے اپنے لیے صحت مانگنا ہو گی، بوڑھے والدین کی درازیٔ عمر کی دعا مانگ رہا ہو گا اس بات سے بے خبر کہ اسے اپنی اولاد کی زندگی درکار ہو گی گویا انسان تو اپنی ضروریات اور حاجات سے بھی واقف نہیں لہٰذا پروردگار سے اس کے فضل ، رحم کرم کی بھیک مانگنا چاہیے۔ ان حاجات کے پورا ہونے کی جن کا انسان کو علم ہے اور ان کے پورا ہونے کی جو اس کے علم میں نہیں ہیں دعاؤں کے معاملہ میں بھی یہی ہے وہ دعائیں بھی بارگاہ الٰہی میں پیش کرے جو اس کو معلوم ہیں اور ان کی استدعا بھی کرے جو اس کے علم میں نہیں۔

٭اگر مقدر نہ ہوتا محض کوشش ہوتی تو انسان بے منزل اور ناکام رہتا تھک ہار جانا ہی اس کی کوشش کا نتیجہ ٹھہرتا

٭ اگر راہنمائی کی خاطر جانا پڑے تو ضرور جائیں مگر یہ دکاندار تقدیر نہیں بدل سکتے۔

٭ انسان پر اللہ کی بے پناہ نعمتوں میں پروردگار کا اچھی اور بری تقدیر کا مالک ہونا ایک زبردست نعمت ہے اگر اچھی بری تقدیر کے وارث انسان ٹھہرتے تو کوئی شخص اچھی تقدیر کا منہ نہ دیکھ پاتا۔ 

٭ میں نے اپنے پروردگار کو طاقتوروں کی تدبیروں کے ناکام ہونے اور حکمرانوں کو عبرت بنتے ہوئے دیکھ کر پہچانا۔ 

آج کیا وقت آ گیا کہ جن چوک چوراہوں ، کھمبوں ، رکشوں، ٹھیلوں پر سٹیج اور فلمی اداکاروں کی تصویروں پر مبنی بل بورڈ آویزاں تھے آج کلف لگی پگڑی، کلر شدہ داڑھی میں کاروباری ملاؤں بابوں کی تصویروں کے بل بورڈ ہیں۔ یہ صوفی نہیں درویش نہیں پرفارمر ہیں۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ زہد کا مخفی ہونا زہد ہے اور یہ ہیں کہ اپنی عبادت و ریاضت کی تشہیر کیے دے رہے ہیں۔ اسلامی نظام سے لے کر عشق رسولؐ، ناموس رسولؐ، ناموس صحابہؓ، ناموس اہل بیتؓ کس کس میں ہم نے اپنی مارکیٹنگ نہیں کی۔ آقا کریم ؐ کا فرمان ہے جو اپنی قسمت کا حال جاننے کسی کے پاس گیا گویا وہ اس پر ایمان نہیں لایا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا (مفہوم)۔ 

 تماشا کب اپنے آپ کو دیکھ پاتا ہے اور حالت یہ کہ وطنِ عزیز اس وقت ہر لحاظ سے تماشا بنا ہوا ہے۔

’’صوفی‘‘ نہیں کوفی ہیں یہ!


ای پیپر