No case of Indian Corona has been reported in Pakistan, claims Asad Umar
کیپشن:   فائل فوٹو
11 May 2021 (08:49) 2021-05-11

اسلام آباد: انسداد کورونا کیلئے قائم ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں ابھی تک انڈیا میں تباہی پھیلانے والے وائرس کی نئی قسم کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ اس لئے تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو ہمارے ملک سے بی 1617 لگنے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔

این سی او سی کے سربراہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں انڈین کورونا کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، اس لئے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ تھائی شہریوں کو پاکستان میں رہتے ہوئے اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ تھائی لینڈ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان سے واپس گئی ایک خاتون میں کورونا کی قسم بی 1617 کی تصدیق ہوئی ہے جس نے بھارت میں تباہیاں مچائی ہوئی ہیں۔

تھائی حکام نے ایئرپورٹ پر ٹیسٹ کے دوران اس خاتون میں ہولناک وائرس کی تصدیق ہوتے ہی اسے آئسولیٹ کر دیا ہے تاکہ دیگر لوگوں کو اس سے محفوظ رکھا جا سکے۔ جبکہ طیارے میں موجود دیگر افراد کو بھی انڈر آبزرویشن میں رکھا گیا ہے۔

اسی تناظر میں اسد عمر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے اندر برازیل، برطانیہ اور جنوبی افریقا میں پائے جانے والے کورونا وائرس کے کیسوں کی تصدیق تو چکی ہے لیکن ابھی تک انڈین کورونا بی 1617 کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

اسد عمر نے کہا ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ یہ خاتون کسی اور جگہ سے اس خطرناک وائرس میں مبتلا ہوئی ہو کیونکہ ابھی تک پاکستان میں ایسا کوئی مریض سامنے نہیں آیا جس میں انڈین کورونا کی تشخیص ہوئی ہو۔

خیال رہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے بھارت میں تباہی پھیلانے والی کورونا کی نئی قسم کو پوری دنیا کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب ہر ملک کو اس سے بچاؤ کے سخت ترین اقدامات کرنا ہونگے کیونکہ یہ وائرس پھیل گیا تو اس سے بہت زیادہ نقصان ہوگا،

ڈبلیو ایچ او نے انڈیا میں پھیلنے والے کورونا پر تحقیق کیلئے ایک خصوصی ٹیم قائم کی تھی جس نے دن رات کی تحقیق کے بعد مرتب رپورٹ کے حقائق اب دنیا کے سامنے پیش کر دیئے ہیں۔ اس ہوشربا رپورٹ میں انڈین کورونا کو بی 1617 کا نام دیتے ہوئے اسے عالمی خطرہ قرار دیدیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈین کورونا کی قسم نے وہاں کے نظام صحت کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ وائرس پھیل گیا تو اس سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھی اس تحقیق کے ابتدائی نکات ہی جاری کئے گئے ہیں، عالمی ادارہ صحت کے حکام جلد ہی اس پر ایک پریس کانفرنس کے ذریعے دنیا کو آگاہ کرینگے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ انڈین کورونا میں روز بروز نئی تبدیلیاں ہو رہی ہیں کیونکہ یہ ایک سے دوسرے شخص میں انتہائی تیزی کیساتھ پھیلتا ہے۔ دنیا بھر کے سائنسدان اسے سمجھنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق انڈین کورونا میں مبتلا صرف ایک شخص ہی بے احتیاطی سے پورے معاشرے کو اس وبا میں مبتلا کر سکتا ہے۔ یہ وائرس بہت زیادہ متعدی اور انتہائی جان لیوا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل برازیل میں پی 1، جنوبی افریقا میں بی 1351 اور برطانیہ میں 117 کورونا وائرس کی اقسام دریافت ہو چکی ہیں لیکن انڈین کورونا بی 1617 کی ہولناکیاں سب سے زیادہ ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ بی 1617 کا پھیلاؤ باعث تشویش ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ نئی قسم کورنو ویکسین اور اینٹی باڈیز کیخلاف بھی مزاحمت دکھائے، طبی ماہرین کو فوری طور پر اس کا علاج ڈھونڈنا ہوگا۔


ای پیپر