حسد، شر، سیاست وفلاح!
11 May 2021 2021-05-11

ملکی سیاست میں کئی طرح کے اُبال آرہے ہیں، بے شمار موضوعات ہیں جن پر لکھنا چاہتا ہوں پھر سوچتا ہوں ایسے سیاسی و نیم سیاسی موضوعات پر اب تک کتنا لکھ لکھ کر ہم صفحے کالے کرچکے ہیں ، بجائے اِس کے ہم ”صحافتی فرشتوں“ کی تحریروں اور تقریروں سے سیاست میں کچھ مثبت تبدیلیاں رونما ہوتیں اُلٹا اِس کی گندگی میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے، سچ پوچھیں مجھے تو سیاسی موضوعات پر لکھتے ہوئے اب کراہت آتی ہے، خصوصاً جب سے میرے ”تبدیلی“ کے خواب کو زد پڑی ہے اِس شعبے سے ویسے ہی کچھ اُکتا سا گیا ہوں، اوپرسے جو کچھ ہمارے اکثر سیاستدان کرتے ہیں، اپنی منافقانہ اور کرپٹ فطرت کے مطابق جو گند معاشرے میں ڈالتے ہیں، اُس سے کئی گنا زیادہ گند کچھ دیگر اہم شعبوں سے وابستہ شخصیات نے اِس ملک اور معاشرے میں ڈالا، اُن پر لکھتے یا بولتے ہوئے ہمارے پر جلتے ہیں، کوئی ہمت کرکے کچھ لکھ بھی دے وہ شائع ہی نہیں ہوتا، .... سولے دے کے ہمارے پاس گندہ کرنے کے لیے صرف سیاستدان ہی رہ گئے ہیں، اُنہیں مزید ہم کتنا گندہ کریں؟ مجھے یہ کرنے میں اب شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اپنے اس دکھ کا اظہار چند ماہ پہلے میں نے ملک کی ایک طاقتور ترین شخصیت سے بھی کیا تھا، تھوڑا بہت میراضمیر جو زندہ بچ گیا ہے صرف سیاستدانوں کو نشانہ بنانے پر وہ مجھے ملامت کرتاہے سو لکھنے کے لیے اب میں زیادہ تر غیر سیاسی موضوعات کا انتخاب ہی کرتا ہوں، .... دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے ہمارے لوگوں کو سیاسی موضوعات پر سننے اور پڑھنے کا اس قدر چسکا پڑ گیا ہے کسی اخلاقی، مذہبی یا اِس نوعیت کے کسی اور موضوع پر کچھ سننا یا پڑھنا وہ پسند ہی نہیں کرتے، یوں محسوس ہوتا ہے گندگی پسند معاشرہ، صاف ستھرے موضوعات پر لکھی جانے والی تحریروں کو انتہائی حقارت سے اب دیکھتا ہے، .... کل پرانی انارکلی سے گزرتے ہوئے ایک سڑک کے فٹ پاتھ پر میں نے بڑے بڑے عظیم اور اعلیٰ لکھاریوں کی کتابیں پچاس سے پچھتر فی صد رعایت کے ساتھ پڑی دیکھیں میری آنکھیں نم ہوگئیں۔ اِس کے مقابلے میں انتہائی غلیظ سی ڈیز کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے رقص وسرودکی محفلوں پر ہمارے کچھ دولت مند کروڑوں لُٹا دیتے ہیں، اور فلاحی کاموں کے لیے چند ہزار روپے دیتے ہوئے اُنہیں موت پڑتی ہے، .... یہ ایک طویل المناک داستان ہے جس پر تفصیل سے لکھنا چاہتا ہوں، فی الحال دو مزید فلاحی ادارے ہیں جن کی انسانیت کے لیے خدمات کا تذکرہ کرکے میں اپنے کچھ ایسے کالموں یا تحریروں کا صدقہ دینا چاہتا ہوں جنہوں نے حاسدین کو میرے خلاف سازش کرنے کے لیے اِک حوالہ بنایا، مگر وہ جو کہتے ہیں ناکہ مارنے والے سے بچانے والا زیادہ طاقتور ہوتا ہے تو بچانے والے نے حاسدین کے شر سے مجھے محفوظ فرما لیا۔ میں اپنے حاسدین کے بارے میں بھی ہمیشہ اچھا سوچتا ہوں، میں یہ سمجھتا ہوں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جوصحیح معنوں آپ کو ہرلحاظ سے خود سے بہتر سمجھ رہے ہوتے ہیں، پر کچھ حاسدین کمینگی کی جس سطح پر اُتر آتے ہیں اُن کا مقابلہ کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ اِس لیے ناممکن ہو جاتا ہے کہ آپ اس سطح پر اُترنے کی صلاحیتوں سے فطری طورپر محروم ہوتے ہیں، .... گزشتہ دوکالمز میں میں نے معروف ترین آرتھوپیڈک سرجن پروفیسر عامر عزیز اور عالمی شہرت کے حامل ادارے اخوت کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب کی انسانیت کے لیے اُن خدمات پہ لکھے تھے جنہیں پیش نظر رکھتے ہوئے میرا یہ ایمان ہے صرف وہی نہیں بخشے جائیں گے، اُن کے تعلق دار ہونے کے ناطے کچھ نہ کچھ رعایت ہمیں بھی شاید مل جائے ۔....آج میں دو مزید فلاحی اداروں کے ذکر سے اپنی تحریریں پاک کرنا چاہتا ہوں، مضبوط مالی حیثیت کے حامل لوگوں سے میری گزارش ہے اِن اداروں کی بھرپور مالی معاونت فرمائیں، اپنی زکوٰةکا کچھ حصہ اِن اداروں کے لیے بھی وقف کردیں، .... غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ گزشتہ چھبیس برسوں سے پسماندہ دیہی علاقوں کے کم وسیلہ خاندانوں کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے میں اہم کردار اداکررہا ہے، صرف تعلیم ہی نہیں ان بچوں کی اخلاقیات یعنی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے، یہ ادارہ اِس وقت پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان کے پینتیس اضلاع کے پسماندہ دیہاتوں میں چھ سو پچاس سکولوں میں ایک لاکھ سے زائد طلبہ کومفت تعلیم فراہم کررہا ہے، اس کے علاوہ 47ہزار مستحق اور یتیم بچوں کی مکمل کفالت کی ذمہ داری بھی اُٹھائی ہوئی ہے۔ سید عامر محمود اِس ادارے کے ایسے ”ایدھی صاحب“ ہیں جن کی فلاحی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے پچھلے دنوں انہیں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا۔ پر انسانیت کی خدمت کے جس ”ستارہ امتیاز“ سے قدرت نے اُنہیں نواز رکھا ہے اُس کا مقابلہ کسی دنیاوی و سرکاری اعزاز سے نہیں کیا جاسکتا، .... دوسرا ادارہ جس کا بطور خاص میں ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ”کارواں علم فاﺅنڈیشن“ ہے۔ اس کی بنیاد 2003ءمیں اُردو ڈائجسٹ کے مدیر ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے رکھی تھی۔ کچھ عرصہ قبل اُن کا انتقال ہوگیا، مستحق بچوں کو مفت تعلیمی سہولیات ووظائف فراہم کرنے کے لیے اپنے تن من دھن کو جس عظیم انداز میں دنیا میں انہوں نے وقف کیے رکھا ُاس کے پیش نظر اُن کے لیے بھی میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں وہ جنتی ہیں۔ یہ ادارہ جہاں مستحق بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرتا ہے، اعلیٰ تعلیم کے لیے اُنہیں وظائف دیتا ہے وہاں ان مستحق طالبعلموں کے غریب والدین کی مالی امداد بھی کرتا ہے تاکہ اُن کے بچے اس اطمینان کے ساتھ تعلیم حاصل کریں کہ ان کے والدین کو مالی لحاظ سے کم پریشانیوں کا سامنا ہے۔ زکوٰة سے زندگی سازی کے منصوبے کے تحت کارواں علم فاﺅنڈیشن “ کی خدمات کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے اس ادارے کی خدمات اس قدر ہیں ایک دوکالموں میں ان کا احاطہ نہیں ہوسکتا۔ میرے محترم مجیب الرحمان شامی اس ادارے کی مجلس عاملہ کے چیئرمین ہیں۔ سو ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کی وفات کے بعد بھی یہ ادارہ محفوظ اور مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ ”اللہ کرے زور ترقی اور زیادہ “۔ شکر کا مقام ہے یتیم و مستحق بچوں کی کفالت کرنے والا یہ ادارہ اعجاز حسن قریشی کی وفات کے بعد کہیں خود” یتیم “ نہیں ہوگیا!!


ای پیپر