یورپی یونین کی قرارداد 
11 May 2021 2021-05-11

 گزشتہ ہفتے بروز پیر تین تاریخ کو شائع ہونے والا میرا کالم "یورپی یونین کی قرارداد..حکومت کیلئے کڑا امتحان " پڑھنے کے بعد وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب صاحب کی کال موصول ہوئی جس میں انہوں نے جی ایس پی پلس سے متعلق کچھ مزید حقائق شیئر کیے اور ان کو اپنے قارئین تک پہنچانے کا بھی کہا.... ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے جی ایس پی پلس کا اسٹیٹس حاصل کیا اور پاکستان یونائیٹڈ نیشنز کی 27 کنونشنز کا نفاذ بھی کرتا ہے جن میں زیادہ زور دیا جاتا ہے مزدوروں بچوں خواتین کے حقوق اور سب سے بڑھ کر حقوق العباد پکا یقینی بنایا جاتا ہے... یہ قرارداد یورپی یونین پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت سے منظور ہوئی لیکن فیصلہ سازی یورپی یونین کمیشن حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے کردار ادا کرے گا. جہاں تک بات ہے پاکستان یورپی یونین دو طرفہ تجارت کی تو سن 2019 میں پاکستان نے یورپی یونین کے ساتھ 9.88 بلین یو ایس ڈالر کا کاروبار کیا... جبکہ یورپی یونین نے پاکستان سے 6.17 بلین یو ایس ڈالر کی اشیاءدرآمد کی. 2020 کی اگر بات کی جائے تو یورپی یونین سے جانے والی اشیاءمیں1.26 یو ایس بلین ڈالر کی کمی واقع ہوئی یعنی پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہو رہا ہے .... دوسری جانب گزشتہ کالم پر ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کی رائے تھی کہ پاکستان میں عاشقان رسول بستے ہیں نہ کہ وہ جو سڑکوں پر لوگوں کی گاڑیوں کو آگ لگاتے ہیں۔

 وزیراعظم پاکستان عمران خان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے حوالے سے منظور ہونے والی قرارداد پر جائزہ اجلاس میں پیش کیے جانے والے نظریے کی پیروی کرتا ہے جس میں ان کا یہ کہنا تھا.ختم نبوت کے قانون پر پاکستان بالکل بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا یہاں تک کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا جبری گمشدگیوں ،صحافیوں کے تحفظ آزادی اظہار کے قوانین جلد پارلیمنٹ میں لائے جائیں گے. اجلاس کے شرکاءکا کہنا تھا کہ جی ایس پی پلس ماہر کا توہین رسالت کے قوانین سے کوئی تعلق نہیں ہے. اجلاس کے شرکاءکا بھی یہی کہنا تھا کہ توہین رسالت اور توہین نبوت یا اقلیتوں کے ساتھ پاکستان کے رویے کا جی ایس پی پلس سے تعلق نہیں ہے.

ای یو پاک فرینڈ شپ فیڈریشن یورپ کے چیئرمین چوہدری پرویز اقبال لوہسر نے یورپی پارلیمنٹ کے باہر کھڑے ہو کر اپنے ویڈیو پیغام کے ذریعے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی منفی خبروں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے جس میں پاکستان کو ملی مراعات اور جی ایس پی پلس سٹیٹس کے خلاف قرارداد جو 29 اپریل کو فرانس کے شہر سٹاس برگ میں پیش ہوئی تھی۔انھوں نے کہا کہ کچھ سازشی عناصر پاکستان اور یورپی یونین کے مابین غلط پروپیگنڈا کے ذریعے اختلافات کی فضا کو بڑھاوا دینا چاہتے ہیں،وہ کبھی بھی اپنے عزائم میں کامیاب نہ ہوسکیں گے۔وہ بذات خود پچھلے 19 سال سے یورپی پارلیمنٹ میں پاکستان اور کشمیر کے سافٹ امیج کو اجاگر کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ وہ ای یو پاک فرینڈ شپ فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے پاکستان کشمیر سمیت اوورسیز کمیونٹی کے مسائل کے حل اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لئے ہر سطع پر ا?واز بلند کررہے ہیں۔ چوہدری پرویز اقبال لوہسر نے مزید کہا کہ پاکستان کو پہلی بار جی ایس پی پلس کا سٹیٹس 2004 میں ملا تب سفارتخانہ پاکستان برسلز میں سفیر پاکستان طارق فاطمی اپنی سفارتی خدمات سرانجام دے رہے تھے جب کہ دوسری بار جی ایس پی پلس سٹیٹس کو ری نیو کروایا تب سفیر پاکستان منور بھٹی مرحوم تھے جب کہ یہی سٹیٹس اب تیسری بار ری نیو کروایا گیا ہے تو اس وقت سفیر پاکستان ظہیر اسلم جنجوعہ اپنی سفارتی خدمات احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جب بھی ہم نے جی ایس پی پلس سٹیٹس کو ری نیو کروایا ہر بار ہمارے ہمسایہ ملک بھارت نے پاکستان کی بھرپور مخالفت کی ہے۔ چوہدری پرویز اقبال لوہسر نے کہا کہ کوئی ایڑی چوٹی کا زور بھی لگا لے ہم رسول کی شان میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ ہمارے ماں باپ اور ہم آپ کی آن پر قربان ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں اس موضوع کو زیر بحث لانے کا مقصد مسلمانوں کو دیوار سے لگانا بھی ہو سکتا ہے.نہ صرف یہ بلکہ پاکستان نے اپنے امیج کو بہتر بنانے کے لیے بہت کوششیں کی ہیں اور اسی سلسلے میں جون 2021 میں FATF کا پیرس میں اجلاس ہونے جا رہا ہے جس پر یورپی یونین میں پیش کی گئی قرارداد اثر انداز ےہ ہو سکتی ہے. اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال کر بلیک لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا جسے کہ پاکستان کی معاشی کمر ٹوٹ جائے گی .اسلام ایک پرامن مذہب ہے جو امن کی ترغیب کرتا ہے اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔۔۔۔ایسے میں اسلام کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے ساتھ غلط طور پر جوڑا جارہا ہے جو کوئی سازش بھی ہو سکتی ہے . توہین رسالت یا توہین نبوت ایسا معاملہ ہے جس سے اظہار رائے کی آزادی سے جوڑنا پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتا ہے۔۔۔۔مسلمان پوری دنیا میں کسی بھی کونے میں موجود ہو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت سے اس کا دل سرشار رہتا ہے۔۔۔۔ایسے میں اسلامی تعاون تنظیم کو عالمی برادری کو اس حساسیت سے آگاہ کرنے کے لئے مشترکہ طور پر کام کرنا چاہئے اوراسلام کا حقیقی تشخص دنیا کو بتانے کے لئے او آئی سی کو مشترکہ کوشش بھی کرنی چاہئے ،پاکستان عالمی برادری کے تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام و تعاون پر مبنی تعلقات کے لئے پرعزم ہے۔


ای پیپر