کرونا زدہ سیاست، مریض سیاستدان
11 May 2020 (16:23) 2020-05-11

ملکی سیاست کا کرونا ٹیسٹ، رزلٹ مثبت، سیاستدانوں کے رزلٹ بھی مثبت ہی آرہے ہیں کچھ کرونا سے خوفزدہ کچھ نیب سے پریشان۔ سب قرنطینہ میں بند، سیاست سڑکوں سے ڈرائننگ رومز منتقل، سماجی فاصلے برقرار، نفرتوں کا وائرس گھس گیا ہے تو قربتیں کیسی، دور ہٹ کے بیٹھو بچ کے رہو، بہت پہلے ایک بزرگ نے کہا تھا ’’جو بھی نفرت کی ہے دیوار گرا کر دیکھو، دوستی کی بھی ذرا رسم نبھا کر دیکھو‘‘ مگر کہاں کی دوستی کیسی محبت، سیاست نے سماجی فاصلوں کے نام سے نفرت کی دیواریں اتنی اونچی اٹھا دی ہیں کہ فصیل شہر بن گئی ہیں۔ کمال ہے کرونا بھی چل رہا ہے سیاست بھی زوروں پر ہے ملک بھر میں لاک ڈائون، ’’ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے‘‘ اس پر بھی سیاست حالانکہ انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنا سیاست کا کون سا چیپٹر ہے۔ وزیر اعظم لاک ڈائون کھولنے اور وزیر اعلیٰ سندھ لاک ڈائون برقرار رکھنے پر بضد، پنجاب حکومت کے ترجمان نے بھی ملتی جلتی بات کہی کہ بڑے شہروں میں لاک ڈائون برقرار رکھا جائے نرمی نہ کی جائے مگر چھوٹے چھوٹے سیاست دانوں کو ماسک پہن کر سیاست کرنے کا شوق، نیا نیا شوق ہے بلیوں اچھل رہا ہے۔ سندھ اسمبلی کے ایک’’ فارغ البال‘‘ رکن نے کہا وزیر اعلیٰ نے لاک ڈائون نہ کھول کر معیشت تباہ کردی جواب ملا وزیر اعظم نے لاک ڈائون کھول کر زندگیاں دائو پر لگا دیں، لاک ڈائون پر سیاست؟ بین الصوبائی اجلاسوں میں اتفاق رائے کیوں نہیں ہو پاتا؟ وزیر اعظم زندگیوں سے کھیل رہے ہیں نہ ہی وزیر اعلیٰ معیشت تباہ کر رہے ہیں۔ دونوں اپنی اپنی جگہ زمینی حقائق کی بنیاد پر فیصلے کر رہے ہیں اس میں سیاست کیسی، مگر شوقین مزاج سیاستدانوں کا کیا کیا جائے کہ وہ سیاست چھوڑنے کو تیار نہیں شوق نیا نیا ہے سیاست نئی نئی، سیاست کا شوق، کرنی نہیں آتی، تجربہ نہیں؟ سبزی فروش نے غصہ سے کہا اہلیت نہیں اہلیت ہوتی تو ایسی باتیں نہ کرتے۔ اسی سیاست نے کرونا وائرس کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا ہے۔ ایک ڈیڑھ ماہ میں 26 ہزار متاثرین 6سو سے زائد ہلاکتیں، ہزاروں کے رزلٹ آنا باقی، پنجاب کرونا وائرس میں پہلے نمبر پر تعداد 10 ہزار سے بڑھ گئی۔ مگر کرونا زدہ سیاست بھی زوروں پر، عام لوگ بیانات پر توجہ نہیں دیتے، ٹاک شوز دیکھنا مجبوری، ٹی وی چینلز پر شادی، طلاق اور رونے دھونے کے سوا کچھ نہیں ہوتا، مگر ٹاک شوز میں بھی کیا ہوتا ہے فری اسٹائل دنگل، دھینگا مشتی، جو تم پیزار اور شور شرابہ، سیاستدانوں میں صبر و تحمل اور برداشت کا مادہ ختم ہوگیا، کرونا زدہ سیاست نے قوت مدافعت کا خاتمہ کردیا، سب قرنطینہ میں پڑے بیانات داغ رہے ہیں، عوام اپنے معاشی مسائل، مہنگائی، ذرائع آمدنی کی بندش اور فاقہ کشی سے نڈھال ہیں۔ حکومت معترف کہ کرونا وائرس کے اس عذاب سے 10 لاکھ ادارے بند ہوجائیں گے ایک کروڑ 20 لاکھ افراد بیروزگار ہوں گے، ارد گرد کے ملکوں سے بھی ملازمتوں سے برطرف ہزاروں افراد واپس آرہے ہیں، بیشتر کرونا کے متاثرین، اللہ انہیں زندگی صحت دے روزگار کہاں سے ملے گا، 10,8 کروڑ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائین گے۔ ان سب عذابوں کی صرف اسد عمر کو فکر ہے یا وزیر اعظم کو تشویش، باقی سارے چھوٹے بڑے

سر سے پائوں تک سیاست میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ پنڈی والے شیخ صاحب کو اپنے محکمہ کی فکر نہیں ،کئے کرائے پر پانی پھر گیا۔ 19 حادثات میں کروڑوں اربوں کا نقصان، جانی نقصان کا کوئی مداوا نہیں، انہیں خوشی اس بات کی ہے کہ عید بعد مزید گرفتاریاں ہونے والی ہیں۔ کیسے پتا چلا؟ موکل رکھے ہوئے ہیں جو بتاتے رہتے ہیں، ثابت ہوگیا کہ لال حویلی کے ایک حصے پر بلکہ بیشتر حصہ پر جنوں بھوتوں کا قبضہ ہے، شیخ صاحب نے سکھوں کے قبضے سے تو حویلی خالی کرالی جن بھوت بدستور قابض رہے، شیخ صاحب نے کسی این آر او کے تحت ’’خلائی مخلوق‘‘ سے سمجھوتا کرلیا، چنانچہ جن بھوت شیخ صاحب کے موکل بن گئے یہ موکل وفاقی کابینہ کے اجلاسوں، وزیر اعظم ہائوس کی بریفنگ اور نیب کی میٹنگز غرض ہر جگہ موجود رہتے ہیں۔ کوئی رکاوٹ نہیں چشم زدن میں ہر جگہ موجود شیخ صاحب کو خبریں پہنچاتے رہتے ہیں، انہوں نے ایک ’’عینک والا جن‘‘ شہباز شریف کے پیچھے لگا دیا ہے اس نے چند روز پہلے نیب حکام کے اجلاسوں سے ایک خبر بریک کی کہ شہباز شریف نہیں بچیں گے۔ باہر بھی نہیں جا سکیں گے۔ نیب ڈبل ٹارزن بن جائے گا۔ جن بڑا اندر کا جن ہے اس لیے اس کی بریک کی ہوئی کوئی خبر غلط نہیں ہوتی، چنانچہ اس خبر کے بعد ہی نیب نے شہباز شریف کو دو مرتبہ طلب کیا الزام وہی آمدن سے زیادہ اثاثے، کرونا کے بہانے غچہ دے گئے تیسری مرتبہ چلے گئے 2 گھنٹے 10 منٹ پوچھ گچھ، اثاثے کہاں سے آئے بیوی بچوں کے پاس اتنا مال کیسے آیا، اندر کا جن بھی اس سوال پر ہنس پڑا کہ آپ اپنے بچے کی گاڑی پر آئے ہیں۔ نیب حکام بدستور غیر مطمئن، قسم لے لیجئے اپوزیشن کا کوئی لیڈر آج تک نیب حکام کو مطمئن نہیں کرسکا، بیٹے سے تنخواہ لینے یا نہ لینے پر تاحیات نا اہلی تو بیٹے کی گاڑی استعمال کرنے پر بھی کم از پانچ سال کی سزا تو بنتی ہے قرنطینہ میں ڈال دیا جائے، اس تمام عرصہ میں ’’شریفوں‘‘ سے جان چھٹی رہے گی سب کچھ اشرافیہ کا کیا دھرا ہے۔ بڑے بھائی نکل گئے کوئی بات نہیں ادھر ادھر کے دبائو پر جانے دیا باقی تو یہیں ہیں، یر غمال بنا کر بارگینگ کی جاسکتی ہے۔ شہباز شریف کی عقل پر ’’عینک والا جن‘‘ بھی رو دیا، کیسے ٹریپ ہوگئے سیانے بیانے، نرم گرم چشیدہ ،گھسے پٹے تجربہ کار سیاستدان، دو صحافیوں کے کہنے پر جال میں پھنسنے کے لیے واپس آگئے۔ صحافیوں کو بھی جنوں نے ہی بھیجا تھا۔ وزارت عظمیٰ کا لالچ دیا، سیانا بیانا سیاستدان اڑ کر لندن سے لاہور پہنچ گیا۔ سب کیا دھرا شیخ صاحب کا ہے ریلوے کی خبر نہیں ستاروں پر کمند یں ڈال رہے ہیں، کہنے لگے شہباز کے ستارے گردش میں ہیں، واقعی، گردش میں نہ ہوتے تو مولانا فضل الرحمن کی طرح دھوکہ کیوں کھا جاتے جن بھوتوں سے کیا مقابلہ، وہ کیا دھرا بھی موکلوں کا تھا۔ ان موکلوں سے شاہد خاقان عباسی، جاوید لطیف، مفتاح اسماعیل، رانا ثناء اللہ سمیت سارے ن لیگی پریشان ہیں۔ ایک موکل نے نیب حکام کو چوہدری برادران کی طرف بھی متوجہ کردیا، انیس بیس سال پرانی فائل سامنے رکھ دی، حکومت کے اتحادی لیکن راتوں کی نیندیں حرام، بلا شبہ کچھ نہیں ہوگا، لیکن وقتی پریشانی، بڑے چوہدری صاحب کی عمر پریشانیاں برداشت کرنے کی نہیں، تعلقات خراب ہوگئے ہیں، چوہدری برادران نے نیب کو سیاسی انجینئرنگ کا ادارہ قرار دے دیا، اس سے پہلے تو کبھی ایسا نہیں کہا جس تن لاگے وہ تن جانے 19 سال پرانے کیسز کھولنے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا نیب اختیارات کیخلاف پہلے کیوں نہ گئے اپوزیشن کی باقی جماعتوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھتے تو یہ روز بد نہ دیکھنے پڑتے کون سا وعدہ پورا ہوا ہے کیا پرویز الٰہی نائب وزیر اعلیٰ بن گئے کیا پولیس اور بیورو کریسی کی تقرری کے اختیارات حاصل ہوگئے کیا مونس الٰہی کو مرضی کی وزارت مل گئی کچھ نہیں ملا کچھ نہیں ہوا، سب جنوں بھوتوں کے قبضے میں ہیں، اختر مینگل اور ایم کیو ایم والوں کی بے چینیاں منظر عام پر آچکیں چوہدریوں نے مولانا فضل الرحمن کی پوری تحریک کا ستیاناس کردیا، شریف برادران سے دشمنی نبھائی، صدق دل سے اتحادی بنے اور ہیں، جنوں کا دبائو سلامت رہا تو آئندہ بھی کہیں نہیں جائیں گے۔ سعد رفیق کی آنیاں جانیاں کام نہیں آئیں گے، کرونا باہر نہیں نکلنے دے رہا سیاست ڈرائنگ رومز کے قرنطینہ تک محدود لیکن زوروں پر ہے، حکومتی گروپ بھی اپنے اپنے محاذ پر سر گرم جن کے پاس موکل ہیں وہ محفوظ باقی سب کے رزلٹ مثبت آرہے ہیں۔ مثالیں سامنے ہیں، اپوزیشن کے تمام لیڈروں کے رزلٹ مثبت۔ جہانگیر ترین، خسرو بختیار سمیت تمام اپنوں کے رزلٹ منفی،جنوں کی لیبارٹری سے تو یہی کچھ برامد ہو گا لوح محفوظ میں یہی لکھا ہے۔


ای پیپر