تبد یل ہو تے فیصلے اور عوا م کی ذمہ داری
11 May 2020 (16:22) 2020-05-11

حکومت پاکستان نے ملک میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث نافذ لاک ڈائون میں پہلے تو اعلان کیا تھا کہ ما ہِ رواں کی نو تا ریخ سے پو رے ملک میں پوری طر ح لا ک ڈا ئون اٹھا لیا جا ئے گا۔ مگر پھر بعد میں فیصلے کو صو بو ں کے تنا ظر میں دیکھتے ہو ئے تبد یل کر دیا اْس کی ایک مثا ل تو صو بہ پنجا ب کی ہے جس کے با رے میں فیصلہ کیا ہے کہ ہفتے میں چار دن نر می ہو گی اور تین دن سختی۔

یہ اہم فیصلے قومی رابطہ کمیٹی کی سطح پر ہو ئے جس میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہے۔ اس طرح فیصلے میں اتفاق رائے اور ہم آہنگی کے تاثر کو تقویت ملتی ہے۔ یہ اہم فیصلے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ملک میں Covid-19 کے روزانہ اوسطاً ایک ہزار نئے مریض سامنے آرہے ہیں جبکہ روزانہ اوسطاً 30 افراد اس وبا سے جاں بحق ہورہے ہیں۔ دوسری طرف ماہرین کے اندازے کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کا زور جولائی کے شروع میں بلند ترین سطح پر ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں متاثرین کی تعدد اور اموات کی موجودہ شرح میں اگلے ایک دو ماہ کے دوران اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ ان حالات میں لاک ڈائون میں مرحلہ وار نرمی کا فیصلہ یقینا بہت حساس اقدام ہے۔ اگرچہ لاک ڈائون پہلے ہی برائے نام تھا اور بازاروں میں اکثر دکانیں چوری چھپے اپنا کام کررہی تھیں اور وہ کاروبار جنہیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی شرط پر کام کی اجازت دی گئی تھی وہاں بھی احتیاطی تدابیر کے نام پر اکثر برائے نام کارروائی سے کام چلایا جارہا تھا۔ غرض سماجی فاصلے اور دوری بنائے رکھنے یا دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل کہیں بھی نظر نہیں آرہا تھا مگر اب یہ روک بھی اگر ہٹادی گئی تو اس کے نتیجے میں بازاروں اور کاروباری مراکز کی جانب سے عوام کے تیز بہائو کی توقع رکھنی چاہیے۔ ایسے حالات وبا کے پھیلائو کے لیے سازگار ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب پنجاب اور سندھ کو ان کی اس تجویز کی منظوری مل گئی ہے کہ آئندہ جو افراد Covid-19 میں مبتلا پائے جائیں گے یہ فیصلہ اُن پر چھوڑ دیا جائے کہ ایام علیحدگی وہ کسی سرکاری ادارے میں گزارنا چاہتے ہیں یا اپنی رہائش گاہ پر۔ پنجاب اور سندھ کی جانب سے اس اقدام کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ متاثرین کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے ان اداروں کے لیے کام مزید مشکل ہوجائے گا۔ دوسری وجہ یہ ممکن ہے کہ سرکاری انتظامات پر عدم اطمینان کا اظہار عام ہورہا تھا۔ تعداد بڑھ جانے کی وجہ سے ان انتظامات کا مزید بگڑنا ضرور ناگزیر سمجھا گیا ہوگا۔ چنانچہ عملاً حکومت اس ذمہ داری سے بھی سبکدوش ہونا چاہتی ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ہمارے معاشی حالات کی وجہ سے مکمل یا نامکمل لاک ڈائون، طویل مدت تک عوام اور حکومت دونوں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ نہ

لوگوں کے پاس عمومی طور پر اتنی بچتیں ہیں کہ وہ عرصۂ بیکاری کو اطمینان سے گزار سکیں۔ نہ حکومت لوگوں کو تین چار ماہ کے لیے خرچ مہیا کرسکتی ہے۔ ایسے میں یہ طے تھا کہ کوئی درمیانی راہ نکالی جاتی۔ لاک ڈائون میں نرمی کا فیصلہ یا چند مخصوص شعبوں کو کھولنا اصولی طور پر درست ہے۔ مگر یہ اصول جن شرائط پر استوار ہے ان کا خیال نہیں رکھا گیا اور مستقبل میں بھی اگر یہی صورت رہی اور احتیاطوں کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ عالمی ادارہ صحت اس حوالے سے پہلے ہی بڑی وضاحت کے ساتھ ہدایات جاری کرچکا ہے۔ جبکہ Covid-19 سے متاثر ہ ممالک میں جہاں اب تک پابندیاں نرم کرنے کا تجربہ کیا گیا ہے وہاں وبا کے پھیلائو میں تیز ترین اضافہ سامنے آیا ہے۔ اس سلسلے میں ایران کی مثال موجود ہے جہاں ان پندرہ صوبوں میں کورونا وائرس کے دوبارہ حملے رپورٹ ہوئے ہیں جہاں تین ہفتے قبل کاروبار کھولنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ماہرین کے بقول جب سماجی سرگرمیاں شروع ہوتی ہیں تو اس کے تین ہفتوں بعد کورونا وائرس کے اثرات سامنے آتے ہیں۔ چنانچہ عالمی ادارہ صحت نے لاک ڈائون میں نرمی کرنے والے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ لاک ڈائون میں نرمی کرنے میں انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہوگا ورنہ صورت حال سنگین ہوسکتی ہے۔ یعنی یہ طے ہے کہ ہم معمول یعنی کورونا وبا سے پہلے والی زندگی کے معمول کی جانب چھلانگ نہیں لگا سکتے۔ ہمیں اس عالمگیر وبا کے ساتھ زندگی کے نئے اطوار اپنانے کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا۔ حکومتیں اس کام میں ضرور مدد کرسکتی ہیں مگر آدمی اگر خود اپنی مدد نہ کرنا چاہے تو کوئی حکومت اس سلسلے میں کچھ نہیں کرسکتی۔ یہ سمجھ جانا چاہیے کہ جب تک Covid-19 کی ویکسین دریافت نہیں ہوجاتی تب تک وبا سے بچائو کی احتیاطی تدابیر ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کا مستقل حصہ ہوں گی اور ان کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ بہت واضح ہے۔ حکومت پاکستان اور صوبوں نے قریب ڈیڑھ ماہ بعد اگر لاک ڈائون میں یہ مرحلہ وار نرمی کا فیصلہ کرلیا ہے تو یقینا اس فیصلے کے تمام عواقب و نتائج بھی پیش نظر رہنے چاہئیں اور عوام پر یہ واضح کردیا جانا چاہیے کہ اب اس وبا سے ہمارے بچائو کا انحصار ہم سب پر ہے۔ یہ ایک اجتماعی ذمہ داری بن گئی ہے جہاں کسی ایک کی غفلت بہت سے ان لوگوں کو بھی وبا میں مبتلا کرسکتی ہے جو ہوسکتا ہے اپنی حد تک کچھ احتیاط کررہے ہوں۔ وزیراعظم عمران خان کا یہ کہنا بجا ہے کہ عوام کو اس سلسلے میں ذمہ داری لینا پڑے گی، یہ بھی درست ہے کہ اس مشکل مرحلے میں حکومت سب احتیاطی قواعد و ضوابط پر ڈنڈے کے زور سے عمل نہیں کرواسکتی مگر حکومت کا فرض ہے کہ عوام کو اس نازک صورتحال سے اچھی طرح آگاہ کردے کہ اب خود کو اور دوسروں کو بچانا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اب ہمیں اسی طرح اس خطرے کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا۔ یہاں تک کہ Covid-19 کے خلاف انسان کی کوششیں رنگ لے آئیں اور اس وائرس کا ویکسین بھی دریافت کرلیا جائے۔ پابندیوں میں نرمی عوام پر حکومت کے اعتماد کا اظہار ہے۔ اگر اس اعتماد پر لوگ پورا نہ اتریں گے تو Covid-19 کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوگا اور حکومت کو ایک بار پھر سب کچھ بند کرنا پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا یہ وقت ہے کہ سب ذمہ دار شہری بن کر وائرس کے اثرات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور ایک ذمہ دار قوم ہونے کا ثبوت دیں۔

یہ درست ہے کہ حکو مت اپنے فیصلے گا ہے بگا ہے تبد یل کر رہی ہے۔ مگر اس پہ زیا دہ تنقید اس لیئے نہیں کی جا سکتی کہ اس کا کو ئی بھی پہلے سے تیا رکر دہ لائحہ عمل مو جو د نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نسلِ انسا نی کو اس تلخ تجر بے سے پہلی مر تبہ گذ ر نا پڑ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کا خوا ہ کو ئی بھی ملک ہو اسے فیصلو ں کو با ر با رتبد یل کر نا پڑ رہا ہے۔ حکو متیں اس آ فت کے ہا تھو ں مجبو ر ہیں۔ ایسے میں بہت کچھ عوا م پر منحصر ہے کہ وہ حکو مت کے فیصلو ں کی مکمل طور پر پا سدا ری کریں۔


ای پیپر