اولڈ ایج پنشنرز کی مالی مشکلات
11 May 2020 (16:21) 2020-05-11

ایمپلائز اولڈ ایج بینفٹ انسٹیٹیوٹ (EOBI) نجی شعبے کے ریٹائر ہونے والے 6 لاکھ محنت کشوں کو ماہانہ پنشن ادا کرتا ہے۔ یہ بڑھاپا پنشن بھی کہلاتی ہے۔ یہ پنشن ان محنت کشوں کو ملتی ہے جو دوران ملازمت سوشل سکیورٹی میں رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کروڑوں محنت کشوں میں سے محض 6 لاکھ کو بڑھاپا پنشن کی سہولت حاصل ہے۔

اس وقت یہ 6 لاکھ بوڑھے اور غریب پنشنرز بہت پریشان ہیں۔ ان کی پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے ان کی ماہانہ پنشن جو کہ 6500 روپے تھی میں 2ہزار روپے ماہانہ اضافہ کیا تھا۔ یہ پنشنرز بہت خوش تھے کہ ان کی قلیل پنشن میں اضافہ ہو گیا ہے۔اپریل 2020ء میں انہیں اضافہ شدہ پنشن اور 2ماہ کے بقایا جات ملا کر 2500 روپے ملے تو ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ کرونا وائرس کی وجہ سے حکومت کو لاک ڈائون کرنا پڑا جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ اس بحرانی کیفیت میں بڑھاپا پنشن میں اضافہ ان کے لئے خوشی کی خبر تھی۔ بوڑھے پنشنرز انتظار کر رہے تھے کہ مئی میں بھی ان کو 2ماہ کے بقایا جات کے ساتھ 6500 روپے ملیں گے جس سے وہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں گے مگر ان کو (EOBI) ای او بی آئی کی ہیلپ لائن کی طرف سے پیغام موصول ہوا کہ ان کی پنشن میں اضافے کی ادائیگی قانونی تقاضے پورے کئے بغیر کی گئی ہے۔ لہٰذا مئی میں انہیں پرانی پنشن یعنی 6500 روپے ملیں گے۔ جب تک قانونی تقاضے اور ضابطے پورے نہیں ہوتے اس وقت تک اضافہ شدہ پنشن نہیں ملے گی۔ اس پیغام نے ان کی ساری خوشی غارت کر دی۔ اب ان پنشنرز کو یہ فکر لاحق ہے کہ کہیں محکمہ ان کی قلیل پنشن سے ادا شدہ اضافی رقم کی کٹوتی شروع نہ کر دے۔ جس کے باعث ان کی مشکلات اور تکالیف میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

وہ تو سوچ رہے تھے کہ اضافی رقم سے عید پر اپنے پوتی پوتے اور نواسی نواسے کو عیدی دیں گے۔ کسی نے سوچ رکھا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو پیسے دے گا۔ کسی نے کوئی اور پروگرام بنا رکھا تھا۔ کروڑوں اربوں روپوں کی باتیں کرنے والوں اور لاکھوں روپے ماہانہ کمانے والوں کو یہ عجیب لگا کہ کوئی 1000یا 2000 روپے ملنے پر ایسے پروگرام کیسے بنا سکتا ہے۔ ان کو کیا خبر کہ جس کی کل آمدنی ہی 6500 روپے ہو اس کی جیب میں 6000روپے اضافی آجائیں تو وہ کتنا خوش ہو گا اور پھر اسے اچانک پتہ چلے کہ اس کی جیب کٹ گئی ہے اور 6000 روپے نکل گئے ہیں۔ یہی کیفیت اس وقت EOBI پنشنرز کی ہے۔ جب وزیراعظم عمران خان نے پنشن میں اضافے کا

اعلان کیا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ یہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی طرف ایک اور عملی قدم ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے فرمایا تھا کہ اگلے 3سالوں میں بڑھاپا پنشن کو بڑھا کر 15000 روپے کر دیا جائے گا۔ یہ سب اعلانات اور بیانات بہت خوش آئند ہیں اور یقینا بوڑھے پنشنرز بھی بہت خوش تھے۔ جب ان کی جیبوں میں اضافہ شدہ پنشن آئی تو وہ اور بھی زیادہ خوش ہوئے اور ان کی امید بندھی کہ تحریک انصاف کی حکومت ان کی پنشن میں خاطرخواہ اضافہ کرے گی مگر جب ان کو پتہ چلا کہ اگلے ماہ ان کو پرانی پنشن ہی ملے گی اور بقایا جات بھی نہیں ملیں گے تو ان کی ذہنی حالت کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔

اس وقت جس ذہنی کوفت اور اذیت سے یہ 6 لاکھ بوڑھے اور غریب پنشنرز گزر رہے ہیں اس کے ذمہ دار وزیراعظم عمران خان نہیں ہیں بلکہ اس اذیت کی وجہ محکمہ EOBI کے نااہل افسران ہیں۔ EOBI کے اعلیٰ افسران نے قانونی تقاضے پورے کئے بغیر ان پنشنرز کو اضافہ شدہ ادائیگی کر دی۔ جب معاملہ وزارت خزانہ کے علم میں آیا تو وزارت نے اس پر اعتراض اٹھا دیا اور یوں چند افسران کی وجہ سے 6 لاکھ پنشنرز کو اذیت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

دراصل EOBI کا بورڈ آف ٹرسٹیز (Board of trustees) پنشن میں اضافے کی منظوری دیتا ہے۔ اس بورڈ میں ٹریڈ یونین ، صنعتکاروں اور حکومت کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ بورڈ کی منظوری کے بعد سمری وفاقی کابینہ کی منظوری کیلئے وزیراعظم کو بھجوائی جاتی ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد سرکاری نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں بورڈ کی منظوری کے بعد وفاقی کابینہ اور وزیراعظم کی سرکاری منظوری کے بغیر ہی ادائیگی کر دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اپریل میں پنشن میں اضافہ ہوا اور مئی میں یہ اضافہ واپس لے لیا گیا۔

اب یہ بوڑھے پنشنرز ایک بار پھر وزیراعظم کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کر کے اسے حل کروائیں تاکہ ذہنی اذیت ختم ہو سکے۔ وہ حیران ہیں کہ یہ کس قسم کی فلاحی ریاست ہے جہاں پر غریب اور بوڑھے پنشنرز کو ریلیف دینے کی بجائے ذہنی اذیت اور کوفت میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ ٹھنڈے اور آرام دہ دفاتر میں بیٹھے ’’بائوئوں‘‘ کو اندازہ نہیں ہے کہ ان کی ذرا سی غلطی اور غفلت کے نتیجے میں نہ صرف حکومت کی سبکی ہوئی ہے بلکہ بوڑھے پنشنروں کو بھی پریشانی اور تکلیف اٹھانی پڑی ہے۔

EOBI کا ادارہ بنایا ہی اس لئے گیا تھا کہ یہ بڑھاپا پنشن کیلئے جمع ہونے والی رقوم کو صحیح طریقے سے انویسٹ کرے۔ اثاثے بنائے اور منافع بخش سرمایہ کاری کے ذریعے ہر ماہ آمدن کا سلسلہ بنائے جس سے بڑھاپا پنشن کی ادائیگی ہو سکے۔ بہت سارے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ شاید یہ ریاستی پنشن ہے جو کہ ریاست ادا کرتی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ یہ پنشن اس فنڈ سے ادا کی جاتی ہے جو محنت کشوں کی تنخواہوں سے منہا کر کے صنعتکار جمع کرواتے ہیں۔ یہ دراصل محنت کشوں کے اپنے ہی پیسے ہوتے ہیں جس میں حکومت کا حصہ بہت معمولی ہوتا ہے۔ EOBI کے محکمے کو ہر سال اس مد میں صنعتکاروں کی طرف سے اربوں روپے جمع کروائے جاتے ہیں۔ محکمے کا کام اس رقم کو سنبھالنا، اثاثے بنانا اور منافع بخش سرمایہ کاری کرنا ہے مگر EOBI کا محکمہ یہ کام بھی درست طور پر نہیں کر رہا۔ اب تک اس محکمے میں بدعنوانی اور اقرباپروری کے اربوں روپے کے سکینڈل سامنے آچکے ہیں۔ اس ادارے کی تعمیر نو کی ضرورت ہے تاکہ یہ بوڑھے پنشنرز کی خدمات فراہم کر سکے اور بدعنوانی کا خاتمہ ہو۔


ای پیپر