مخاصمت اور خطرات
11 May 2020 (16:20) 2020-05-11

امریکہ و چین مخاصمت سے دنیا دوحصوں میں تقسیم ہورہی ہے حالیہ مخاصمت میںروس وامریکہ سردجنگ جتنی شدت تو نہیں اور فوجی ٹکرائو سے زیادہ معاشی نوعیت کے خطرات ہیں جس سے ا نسانی وجود کوغربت جیسے خطرات کا اندیشہ ہے جمود کا شکار دنیا کی معاشی سرگرمیوں کے باوجود چین کی معیشت زیادہ متاثر نہیں ہوئی بلکہ کرونا کی وبا نے اُسے برآمدات کی نئی راہ دکھلائی ہے جس پر چل کر اُس نے ثابت کردیا ہے کہ وہ دنیا کی ایک نئی ذمہ دارطاقت ہونے کے ساتھ ہر قسم کے حالات کو اپنے حق میں سازگار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ووہان کی ناکہ بندی کے ایام میں اقوامِ عالم نے خاصی رُکھائی کا مظاہرہ کیا جوں جوں یہ وبا چین کے دیگر علاقوں کو شکار کر تی گئی دنیا کی رُکھائی برآمدی اشیا کے آرڈر منسوخ کرنے تک پہنچ گئی جس پر امریکہ نے سُکھ کا سانس لیا کیونکہ اُس کی چین کے معاشی غلبے کی راہیں مسدود کرنے اور معاشی میدان کی سُپر پاور بننے کی اپنی کاوشیں غیر متوقع طورپر بارآور ہوتی نظر آنے لگی تھیں لیکن گزشتہ چند ماہ میں کرونا نے دنیا کی حالت ابترکردی ہے لیکن چین نہ صرف سنبھل گیا ہے بلکہ حالات کواپنے لیے ہموار بنالیا ہے سے طبی آلات و سامان کی عالمی تجارت میںاُس کا حصہ دنیا کی کل برآمدات کا پینتیس فیصد ہوگیا ہے یہ نتائج امریکی اندازوں کے منافی ہیں معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ چین کے معاشی اقدامات کو امریکہ کی سطحی حکمتِ عملی سے زیر کرنااب ممکن نہیں رہا ۔

امریکہ دنیا کی ایک بڑی معاشی اور فوجی قوت ہے جس سے انکار ممکن نہیں لیکن بڑھتے خسارے اور قرضوںنے اُس کی معاشی اجارہ داری قصہ پارینہ بنادی ہے جس کی بڑی وجہ فوجی مداخلت ہے فوجی مہمات پر اُٹھنے والے بے پناہ اخراجات نے امریکی معاشرت کو اِتنامتاثر کردیا ہے جس سے نہ صرف اندرونِ ملک بے روزگاری بڑھی ہے بلکہ حکومت سے امداد لے کر گزارہ کرنے والوں کی تعداد میں بھی خوفناک اضافہ ہوا ہے علاوہ ازیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں مملکتوں کو تاراج کرنے کے ناقدین کے موقف کو دنیا درست تسلیم کرنے لگی ہے لوگ بلاخوف و خطر کہنے لگے ہیں کہ دنیا کو مطیع بنانے کی پالیسی سے عالمی امن کو خطرہ ہے جس سے امریکی نقطہ نظر کے مخالفین کو نہ صرف تقویت ملی ہے بلکہ کچھ دوست ممالک بھی بدظن ہوئے ہیں حال ہی میں جرمنی کے حکمران اتحاد میں شامل جماعت نے اپنے ملک میں نصب امریکی ایٹمی ہتھیاروں کی منتقلی کا مطالبہ کیا ہے جو تبدیلی کا مظہرہے مگر ایسا لگتا ہے کہ دنیا کی سوچ کا واشنگٹن کے شہ دماغوں کو ادراک نہیں اگرمزید عرصہ اپنی سوچ میں تبدیلی نہیں لاتی تو ممکن ہے فوجی نہیں تو معاشی میدان میں چین امریکہ کوپچھاڑنے میں کامیاب ہوجائے۔

چین کی پالیسی فوجی بکھیڑوں میں دخل اندازی سے پرہیز اوربیرونِ ملک فوجی اڈے بنانے میں احتیاط ہے چین کے ملک سے باہر جیبوتی میں پہلے فوجی اڈے کے قیام سے بھی کسی ملک کو فوجی مُہم جوئی کا اندیشہ نہیں ہوا کیونکہ فوجی کی بجائے معاشی میدان میں آگے بڑھنے کی سوچ سے زمانہ آشناہے چین کمزور ممالک کو قرضے دیکر تعمیرات میں تکنیکی معاونت کرتا ہے اِس طرح برآمدات کے لیے منڈیاں بھی مل جاتی ہیں راہداریاں بنانا اور پھر بے دریغ آسان شرائط پرقرضوں کے اجراسے چین دنیا کی ضرورت بنتا جارہا ہے جسے امریکہ پسند نہیں کرتا اور چین کی معاشی میدان میں کامیابیوں کی راہ روکنا چاہتاہے لیکن چین کو حریف پر ایک اور بھی سبقت حاصل ہے کہ وہ کہیں بھی کسی مخصوص نقطہ نظر سے مراسم استوار کرنے کی بجائے حکمرانوں کے ساتھ اپوزیشن سے بھی بنا کر رکھتا ہے جس کی بنا پر ہونے والی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ سے اُس کے مفادات متاثر نہیں ہوتے لیکن امریکہ کسی ایک سیاسی طاقت پر تکیہ کرتے ہوئے غیر ضروری دخل اندازی کربیٹھتا ہے جس کے نتیجے میں عوامی نفرت جنم لیتی ہے جو زلت آمیز رخصتگی پر منتج ہوتی ہے ایران میں امریکہ کے ساتھ ایسا ہی ہواہے سوڈان جیسے ملک سے امریکہ کے 23 برس تک سفارتی تعلقات منقطع رہے طویل محاز آرائی کے بعد دونوں ممالک میں گزشتہ ہفتے اُس وقت سفارتی سطح پر موجودکشیدگی میں کمی آئی جب سوڈان نے نورالدین کو امریکہ میں سفیر نامزد کیا جسے خاصی ردوقد کے بعد قبول کیا گیادھونس سے ہونے والے نقصان کے باوجود طرزِ عمل میں کیوں تبدیلی نہیں لائی گئی اور اِس پالیسی پر چلنے میں کیا حکمت ہے ؟امریکی شہ دماغ بہتر جواب دے سکتے ہیں ۔

کرونا کا ذمہ دار چین کو ٹھہرانے سے امریکہ کو یقین تھا کہ دنیا چین کی غیر زمہ داری تسلیم کرلے گی جس سے زوال پذیر امریکی معیشت کی ترقی کا دروازہ کُھل جائے گا مگر موجودہ حالات میں امریکی یقین کے درست ہونے کے آثار مفقودہیں نیٹو میں شامل بارسوخ ممالک بھی امریکی نقطہ نظر قبول کرنے سے گریزاں ہیں اقوامِ متحدہ میں ویٹو پاور کے حامل اوریورپ کی بڑی قوت فرانس بھی چین پر ذمہ داری ڈالنے میں محتاط ہے جس سے یورپی ممالک پر کمزور امریکی گرفت ظاہر ہوتی ہے امریکہ کرونا کے تناظر میں عداوت کی لہر پیداکرنے اور چین کو ذمہ دارقرار دینے کی کوشش میں ہے مگر دنیا کی سوچ کا زاویہ تبدیل نہیں ہوا فرانس کے طبی ماہرین نے اعتراف کرلیاہے کہ چین سے پہلے ہی دسمبر 2019میںفرانس میں کرونا شروع ہوگیا جس کی جنوری 2020 کے آخر میں تشخیص بھی کر لی گئی نیز یورپ میں اِس وائرس سے پہلی موت فرانس میں ہوئی فرانس کا اعتراف امریکی دعوئوں کو کھوکھلا ثابت کرتا ہے آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن کا کرونا کے پھیلائو میں جنگلی حیات کی مارکیٹ کو قرار مزید دھچکا ہے حالانکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کا موقف ہے کہ کرونا چین کی وائرلوجی لیبارٹری کی پیداوار ہے فرانس اور آسٹریلیا کی چین سے زیادہ امریکہ سے قُربت ہے وہ اپنے قریبی دوست کے موقف کو جھٹلانے میں کیوں پیش پیش ہیں؟ اِس سوال کا جواب بھی امریکہ کو تلاش کرنا ہے اگر چین کرونا کے حوالے سے الزامات کو نااہلی چُھپانے کے تناظر میں دیکھتا ہے تو اُس کے پاس موقف کی حمایت میں کافی دلائل ہیں لیکن امریکہ کے پاس دعوے کی صداقت کے لیے الزامات کے سوا کچھ نہیں ۔

چین اور امریکہ میں فوری طورپرکسی بڑے مسلح تصادم کا زیادہ امکان نہیں لیکن اِس اِمکان کو سرے سے رَد بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ حالات مکمل طور پرچین کے بھی حق میں نہیں برحق حقیقت یہ ہے کہ 1989 میں تیان مین اسکوئر میں ہونے والی پکڑ دھکڑ سے دنیا میں جنم لینے والی نفرت کے بعد ایک بار پھر چین کے خلاف عالمی جذبات بلند ترین سطح پر ہیں اگر کچھ ملک امریکی دعوے سے اتفاق نہیں بھی کرتے تو برطانیہ جیسے ممالک کرونا کے پھیلائو میں چین کوزمہ دارتصور کرتے ہیںجس سے عالمی منظرنامہ پراگندہ ہورہاہے پھر بھی معاشی مسابقت کو فوجی ٹکرائو تک لانا کسی فریق کے لیے سود مند نہیں بلکہ ٹکرائو کی حماقت دنیاکو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاسکتی ہے چین اور امریکہ کی مخاصمت سے دنیا کوکیا خطرات لاحق ہیںشایددونوں متحارب طاقتوں کوشاید احساس نہی دونوں کو بھولنا نہیں چاہیے کہ خطرات بڑھانے سے گریز میں ہی انسانی ترقی پنہاں ہے ۔


ای پیپر