وزیراعظم کا عہدہ بھی ہمارے سپرد کرو
11 مئی 2019 2019-05-11

آئی ایم ایف سے پیکیج پہلے بھی تقریباً تمام حکومتوں نے حاصل کیے، کڑی شرائط بھی قبول کیں… کچھ نے اسے مکمل کیا ، کچھ درمیان میں یا خود پٹری سے اتر گئیں یا آئی ایم ایف والوں نے مزید قرضہ دینے سے انکار کر دیا… جو کچھ بھی ہوتا رہا وہ اپنی جگہ لیکن کسی حکومت کو بھی اس عالمی ادارے سے معاملات طے کرنے میں اس قدر خواری اور رسوائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ، جتنا عمران حکومت کو در پیش ہے …ہفتہ گیارہ مئی کو جبکہ یہ سطور قلم بند کی جا رہی ہیں اور خیال تھا کہ گزشتہ جمعہ کی شب آئی ایم ایف کے اسلام آباد آئے ہوئے وفد کے ساتھ معاملہ طے ہو جائے گا اور معاہدے کا اس کی حتمی شرائط سمیت اعلان کر دیا جائے گا مگر نہیں ہوا… باخبر حلقوںکی جانب سے گمان ظاہر کیا جا رہا ہے عالمی ادارے کی جانب سے شرائط مزید کڑی کر دیگئی ہیں… انہوں نے بجلی کی قیمتیں اس حد تک بڑھانے اور ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف اس سطح پر لے جانے کا مطالبہ کیا ہے کہ شاید اس حکومت کا سانس پہلے چند قدم اٹھانے کے بعد ہی پھول جائے اور وہ آگے کی چلنے کے قابل نہ رہے… معاہدے پر دستخطوں کے اعلان کو مزید دو دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے… کب اور کس وقت وہ دن کی روشنی دیکھ پائے گا حکومت اور آئی ایم ایف دونوں کے ترجمان بتانے سے گریزاں ہیں… آئی ایم ایف تو وہی پرانی کی پرانی ہے لیکن یہ جو ہماری نئی حکومت ہے اس نے دستخط تو بعد میں کرنے ہیں، کئی شرائط پہلے مان چکی ہے اور معاملات صرف شرائط تسلیم کرنے پر موقوف ہوتا تو چنداں تعجب کی بات نہ ہوتی… یہاں تو آپ نے آئی ایم ایف نامی دیوی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے محکمہ جات خزانہ و مالیات کے وزیروں اور اہم تر افسروں کے سر بھی اڑادیئے… اسد عمر جیسا محبوب نظر اور قدیم ساتھی اٹھا باہر پھینکا گیا… اس کی جگہ حفیظ شیخ کو لایا گیا تاکہ آئی ایم ایف مطمئن رہے کہ شرائط بھی اس کی ہوں اور ان پر عمل درآمد کرنا والا بھی اس کا قابل اعتماد آدمی ہو گا… دیوی صاحبہ کی پیاس اس کے باوجود نہ بجھی… سٹیٹ بینک کے گورنر طارق باجوہ جس کی ملازمت کو تین سال کا تحفظ حاصل تھا ، ان کے چرنوں پر لا کر اس کے عہدے کے خون کا نذرانہ پیش کیا گیا اور دیکھنے اور سننے والے اس وقت حیران رہ گئے جب معلوم ہوا کہ نئے گورنر صاحب آئی ایم ایف کی مصر میں ملازمت کرنے والے باقر رضا ہوں گے، اسی پر اکتفا نہیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سربراہ جہانزیب خان کو کان سے پکڑ کر کرسی سے نیچے اتار دیا گیا اور ان کی جگہ نجی شعبے کی ایک شخصیت جو اگرچہ ٹیکس کے امور میں مہارت تامہ رکھتی ہے اور اس میدان میں شہرت دوام کی بھی مالک ہے یعنی جناب شبر زیدی لیکن موصوف کی تمام تر مہارت اور تجربہ ان بڑی بڑی کاروباری اور صنعتی کمپنیوں کو پیشہ ورانہ خدمات مہیا کرنے تک محدود رہا ہے جنہیں مشورہ دیتے تھے کہ کیسے اور کس طرح ٹیکسوں کو بچانا ہے… حکومت کی آنکھ میں دھول ڈالنی ہے اور اس مد میں کم از کم ادائیگی کرنی ہے اور اب جو وہ اس محکمے کے سربراہ ہوں گے جس کے سامنے ان کمپنیوں کے ٹیکسوں کی تفصیلات پیش ہوں گی تو لا محالہ مفادات کا ٹکراؤ جنم لے گا… اسی لیے ان کی تقرری کی سمری پیش کرتے وقت متعلقہ سیکرٹری نے اس جانب توجہ دلائی تو حکم دیا گیا کہ سمری واپس لو اور شبر زیدی صاحب کا تقرر بطور اعزازی چیئرمین کیا جائے ماضی میں شاید ہی کسی حکومت نے آئی ایم ایف کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے معاہدوں پر دستخطوں سے پہلے ہی اس حد تک پسپائی دکھائی ہو کہ ریاست پاکستان کے تمام کے تمام امور خزانہ و مالیات اسے ٹھیکے پر دے دیے ہوں ، جسے دور جدید کی زبان میں Out sourcing کہا جاتا ہے لوگوں کی چیخیں معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد سے پہلے نکلنا شرو ہو گئی ہیں… لیکن دیوی صاحبہ ہیں کہ ھل من مزید کا مطالبہ کرتی چلی جا رہی ہیں… کہیں ایسا نہ ہو کہ 8 ارب ڈالر کا قرضہ دینے کی خاطر آئی ایم ایف یہ تقاضا بھی کر دے کہ وہ وزیراعظم بھی اپنی مرضی کا لائے گی… عمران خان جس نے برسراقتدار آنے سے پہلے اور بعد میں بھی اس ادارے کی اس حد تک مذمت کی ہے کہ اور یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہاں جانے سے بہترہے کہ میں خود کشی کر لوں، اب اگر دیوی صاحبہ مانگ کریں کہ اپنے عہد کا پاس کرو اور عہدہ بھی ہمارے چرنوں پر لا کر رکھ دو پھر تمہارے ملک کو کوئی دھیلا دینے کے قابل سمجھیں گے… اگر وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک کی گورنری ہمارے سپرد کر دی ہے تو وزارت عظمیٰ کا منصب ہماری جناب میں پیش کر دینے میں کونسا عذر مانع ہے…

عمران خان کا مسئلہ اصل میں یہ ہے کہ حکومت میں آنے سے پہلے اور بعد کے بھی آٹھ مہینے تک ان کا تمام تر زور بیان مخالف سیاسی لیڈروں کی کردار کشی ،انہیں بار بار لٹیرے اور ڈاکو کہنے پر صرف ہوتا رہا… خان اعظم بذات خود وطن کو درپیش معاشی مسائل اور پیچیدہ اقتصادی امور کا ادراک رکھنے سے عاری تھے… اس سے قبل انہیں صرف کرکٹ کھیلنا یا ہسپتال کے لیے چندہ اکٹھا کرنا آتا تھا… اسی بل بوتے پر انہوں نے کوچۂ سیاست میں چھلانگ لگائی… تقریر کرنا سیکھی… یکے بعد دیگرے تین شادیاں کیں جو اگرچہ موصوف کا ذاتی معاملہ ہے لیکن اس با ت کی غمازی کرتا ہے کہ ہر قیمت پر اقتدار حاصل کرنے کے علاوہ ان کی دلچسپی کے امور کیا تھے اقتصادیات اور معاشی پیچیدگیوں پر پہلے علم تھا نہ بعد میں انہیں سمجھنے اور مکمل ادراک حاصل کرنے کی کوشش کی ماسوائے اس کے کہ مخالفین پر بآواز بلند طعنہ زنی کرتے رہے کہ لوٹ کر کھا گئے … حکومت ملی تو سب کچھ ان کی ہڈیوں سے نچوڑ کر دکھاؤں گا… اسی کے نتیجے میں ملک کے اندر دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع کر دیں گے… ابر رحمت برسے گا … مگر نہ باہر سے کوئی پیسہ برآمد ہوا نہ تبدیلی کوئی رنگ جما پائی سارا انحصار اسد عمر صاحب پر تھا جو اپنی تمام تر نیک نیتی کے باوجود کھوکھلے ثابت ہوئے… باقی دوسرے محکموں کی طرح وزارت خزانہ وغیرہ میں جتنے چوٹی کے افسر تھے، ان میں سے کسی ایک پر اعتماد نہیں تھا کیونکہ انہوں نے پچھلی حکومتوں کے ساتھ کام کیا تھا، یہی ان کا سب سے بڑا جرم تھا… عمران بیچارے کے پاس معاشی ٹیم کے نام کا ایک بھی بندہ نہ تھا… لہٰذا آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکانے پر مجبور ہوئے تو جاتے ہی اس کے در پر گھٹنوں کے بل گر گئے… ہر بات پر آمنا و صدقنا کہا لیکن معاہدہ ہے کہ دم تحریر طے ہونے کا نام نہیں لے رہا… مخالفین کو دی جانے والی گالیاں سن سن کر لوگوں کے کان پک گئے ہیں… وزیراعظم کا اپنا فہم اور وژن کیا ہے، اس کا انہیں خود علم نہیں قوم کو کیا بتائیں گے…ایسے میں آئی ایم ایف ان کے ساتھ وہ تماشا کر رہی ہے کہ ماضی میں کسی کے ساتھ نہ ہوا ہو گا لیکن سب سے بڑا ستم تو اس بیچاری قوم کے ساتھ ہوا ہے جس کی وزارت عظمیٰ کی طنابیں خان موصوف نے اپنے ہاتھوں میں لے لی ہیںیا اس ملک کے ارض و سما کے مالکان نے نئے تجربے کی خاطر ان کی دسترس میں دے دی ہیں کیونکہ لمحۂ موجود کے اندر کوئی اور سیاستدان انہیں اپنی غلامی کے قابل نظر آئے … کچھ راندۂ درگاہ تھے، کچھ کے اندر اس حد تک خوئے غلامی نہ پائی جاتی تھی کہ ہر وقت ان کی جناب میں گھٹنے ٹیک کر رکھتے… ہمارے والیان ریاست نے اگر ملک و قوم کو اس مقام پر لا گرانا تھا تو کیا ضرور تھا کہ انتخابات کا ڈھونگ بھی رچایا جاتا اور پورے کے پورے آئینی اور جمہوری عمل کو بھی رسوا کر کے رکھ دیا جاتا… اگر معاملات اسی ڈگر پر چلتے رہے تو ایسا دن بھی آ سکتا ہے کہ پاکستان کے اندر سیاستدان نام کی کوئی مخلوق قابل اعتبار (Credible)نہ رہے اور ہماری فضائیں ملتے جلتے نعرے سے گونج اٹھیں کہ ’راج کرو گا خالصا باقی نہ رہے کو‘…شاید یہی مرضی میرے صیاد کی ہے۔


ای پیپر