اپنی نبیڑ تو…
11 مئی 2019 2019-05-11

شانِ رسالت ؐ میں گستاخی کے الزام پر زیر تفتیش رہنے والی آسیہ بی بی کینیڈا پہنچ گئی۔ یہ بیان دنیا کو بہ صدا اہتمام امریکی سیکرٹری سٹیٹ نے جاری کر کے یہ خوشخبری سنائی کہ امریکہ اس خبر کا خیر مقدم کرتاہے کہ آسیہ بی بی بہ حفاظت اپنے خاندان سے جا ملی۔ اسکے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کرتے ہوئے حسبِ سابق دنیا بھر میں شان رسالت ؐ بارے قوانین پر ہرزہ سرائی بھی فرمائی۔ انہیں شخصی آزادی کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ یہ خبر بریکنگ نیوز بن کر ورلڈ میڈیا پر چلی۔ مغرب کی نفسیات اس رد عمل میں کھل کر سامنے آتی ہے۔ پاکستان کے پسماندہ دیہات کی ایک مفلس عورت تمام مغربی ممالک کی ہتھیلی کا پھپھولا اور وی آئی پی بن گئی ، اس الزام کی زد میں آ کر ان سبھی ممالک کا پاکستان پر شدید دبائو رہا۔ پورے خاندان کو سایہ عاطفت میں لینے کے لیے یہ ممالک بے قرار ہو گئے۔ گلو بل چوہدری کی ذاتی دلچسپی اسمیں دیدنی ہے۔ دنیا بھر کے مسلم مردوزن کو میزائیلوں کی نوک پر رکھ کر پرخچے اڑانے والے ( بلواسطہ یا بلا واسطہ) ایک عیسائی عورت کے لیے کتنے متحرک، جذباتی ثابت ہوتے ہیں۔ غیرت بھڑک بھڑک اٹھتی ہے! ادھر شاندار تعلیمی پس منظر رکھنے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی ناکردہ گناہ پر انہی کی عدالت میں 86 سال قید کی سزا پاتی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ یہ مقدمہ اور فیصلہ صدی کا سب سے بڑا فراڈ ہے۔ اس جرم میں ہم خود برابر کے شریک ہیں! فواد چوہدری کے وزیر انہ عزائم میں حکومت کی ترجیحات دیکھی جا سکتی ہے۔ جھوٹی طفل تسلیاں دیتی تحریک انصاف کی حکومت نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے سنجیدہ کوشش کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ ان کا وزیر ناسا کے ’ ہبل‘ ( امریکی ٹیلی سکوپ جس کا نام قریش مکہ کے بڑے بت کے نام پر ہے! قبل ازیں ’ ISAF ‘ اساف، افغانستان میں کار فرما فوجی اکٹھ بھی ایک اور بت کے نام پر تھا!) پر سپارکو کا ٹھپا لگائے چاند کی تلاش میں سرگرداں ہونے کو ہے۔ حقیقی قومی مسائل سے منہ موڑے نت نئے تنازع کھڑے کر نا کوئی آپ سے سیکھے۔ یہ بھی عجب تماشا ہے کہ ایک طرف سیکولرزم کے تحت مغرب ہم مسلمانوں کو دین، مذہب بیزاری پڑھانے سکھانے کے در پے رہتا ہے۔ شان رسالت ؐ میں گستاخی سب سے بڑآزادی رائے کا حق قرار پاتا ہے۔ دوسری جانب کسی عیسائی کی نکسیر بھی پھوٹ جائے تو ہم مسلمانوں پر چڑھ دوڑتا ہے۔ اگرچہ اقلیتوں کا تحفظ تو ہمارا دینی فریضہ ہے اور پاکستان اقلیتوں کی جنت ہے۔ جنوبی سوڈان، مشرقی تیمور کوفی الفور آزادی دلوانے والے پوری مسلم دنیا جنگوں، فلسطین، غزہ مسلسل بمباریوں کی زد میں ہے۔ شام میں روس کے ذمے ہے کہ وہ رہی سہی شامی مسلم آبادیوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دے۔ حقوق انسانی کے عالمی ڈیکلریشن کا حوالہ انہیں اپنے مفادات کے تحفظ کے وقت یاد آتا ہے۔ جس کا سال اجراء بھی 1948 ء ہے ۔ فلسطینیوں کی ظالمانہ بید خلی اور مقبوضہ سر زمین پر اسرائیل کی بنیاد رکھے جانے کا سال۔ حقوق انسانی کا یہ نام نہاد ڈیکلریشن جاری ہوا جس کی روح میں یہ مضمر تھا کہ انسانوں کے زمرے سے دنیا بھر کے مسلمان خارج ہیں۔ روزانہ کی کندھوں پر لدے جنازوں کی تصاویر غزہ، کشمیر، افغانستان ، یمن، شام کی ہیں۔ غزہ کا سکول، شام کے یکے بعد دیگر 4 ہسپتال بمباریوں سے تباہ کیے ہیں۔ انسانی حقوق یہاں آڑے نہیں آتے۔ بنیادی انسانی اخلاقیات بھی مجروح، تار تار ہوتی نظر نہیں آتیں۔ اس ظلم و جبر قہر کے طوفان میں یورپی پارلیمنٹ کے 52 ممبران نے وزیر اعظم عمران خان کو دھمکی آمیز خط لکھا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری نہیں کی جا رہی۔ اگر اس کا مداوانہ کیا گیا تو۔؟ یورپین کمیشن تمام تجارتی سہولتیں روک دے گا۔ GSP پلس والی معاشی تڑی ایک مرتبہ پھر لگائی ہے۔ آسیہ کو بہ صد اہتمام والصرام و احترام ، رمضان کے مبارک مہینے میں تحفتہً کینیڈا روانہ کر دیا پھر بھی انسانی حقوق، اقلیتی حقوق تشنہ ہی رہ گئے۔ دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی، لوگوں نے میرے صحن سے رستے بنا لیے۔ معاشی کمزوری نے ہمیں بے وقعت کر رکھا ہے۔ ہمیں مذہبی تنظیموں کے طعنے دینے والوں کو اسرائیل اور بھارت کی انتہا پسندی اور مسلم اقلیت پر زندگی اجیرن، تباہ کرنے پر اُف بھی کہنے کا تصور نہیں ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی حد درجہ بے حسی، بے حمیتی ہے کہ وہ واشگاف بے انصافی، زیادتی پر بھی دبے جھکے چلے جانے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں۔ بھارتی میڈیا مزے لے لیکر، مرچ مسالے لگا کر اس خط کو اچھال رہا ہے۔ ہم منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے ہیں۔ ہم امریکی ڈومور سے نکل کر اب IMF کے ڈومور میں آ پھنسے ہیں۔ IMF کے کارندے ساری معاشی کرسیاں سنبھال بیٹھے ہیں۔ مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے فرمایا: ’ اچھی کارکردگی والوں کو لایا جا رہا ہے۔ ‘ یعنی ڈوموریے لائے جا رہے ہیں۔ سو عوام پر مزید پٹرول چھڑک کر مہنگائی کی تیلی دکھائی جا چکی ہے۔ وزیر اعظم نے فرمایا: میں کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا۔ جناب نہ آپ آگے دیکھ رہے ہیں نہ پیچھے۔ صرف بڑی سرکار کے حکم لاگو کر کے تقریریں کرنے، بیان جاری کرنے پر مامور ہیں۔ بس یہی ملازمت ہے وزیر اعظم کی۔ بطور کھلاڑی، سر پھوڑ، ناک توڑ قسم کی کھیل جاری ہے۔ اب سمجھ آ رہی ہے قوم کو۔ حکومت کھیڈ نئیں ہوندی کھلاڑیاں دی!

IMF کا ایک اور ملازم رضا باقر بطور گورنر سٹیٹ بینک آ گیا۔ یہی کا لونیوں کا مقدر ہوا کرتا ہے۔ دیسی طارق باجوہ آئی ایم ایف پر تھوڑے بہت بھاری پڑے تو چلتا کیا۔ پاکستان کلیتاً غیر ملکی معاشی شکنجے میں آ چکا ہے۔ ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کو وزیر بیٹھے ہیں۔ فیصل واوڈا فرماتے ہیں: قوم 200 روپے لیٹر پٹرول بھی برداشت کر لے گی! آپ صرف وزیروں مشیروں امراء کو اپنی قوم سمجھے بیٹھے ہیں؟ کیوں عوام کی آہیں لینے پر تلے ہوئے ہیں۔ مانگے تانگے کی کابینہ ہے۔ اب بہت سے وہ آ گئے ہیں جن کا نہ گھر بار پاکستان میں نہ بال بچے۔ بے جڑ بنیاد۔ ( Rootless ) سو بات ان کی یہی ہے کہ … تم درد ہمارا کیا جانو! سرکاری ہسپتالوں میں اب عملے کو پنشن اور مالی فوائد سے محروم کرنے کی تیاری ہے۔ مریضوں کو مفت دوا، آسان علاج کی سہولت سے محرومی درپیش ہے۔ پاکستان چونکہ ایٹمی طاقت ہے سوا س پر الجزائر لیبیا فلسطین فارمولے استعمال نہیں ہو سکتے۔ مفلسی بم گرا کر اندر سے کھوکھلا کیا جانا، بے موت مارنا مقصود ہے۔ عوام کا دھیان بٹانے کو کہیں یونیورسٹیاں بنانے اور کہیں چاند پر جا کر چاند دیکھنے کی تیاریاں ہیں۔ آپ دین کو معاف ہی رکھیں تو بہتر ہے۔ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ نانبائی سے ایٹم بم نہیں بنوایا جا سکتا تو فواد چوہدری بھی اسی تناظر میں رویت ہلال کے اہل نہیں۔ ایوب خان نے ایک مرتبہ شوال کا چاند زبردستی نکالا مسلط کیا تھا اسکی کہانیاں پڑھ لیں۔ زبردستی امامت پر مجبور کیے گئے مصنوعی عید نماز پر کھڑے کیے امام صاحب سجدے میں نمازیوں کو چھوڑ کر نکل گئے تھے۔ یہ حضرت مشرف دور کے وزیر ہیں۔ رمضان کا چاند اس دور میں پرائم منسٹر ہائوس میں تو طلوع بھی نہیں ہوا کرتا تھا۔ سو دنیا تو عوام سے چھین ہی لی ہے۔ کم از کم سکون سے صیام، قیام کر لینے دیں۔ مدارس، علماء، رویت ہلال۔ ان معاملات میں ہاتھ نہ ڈالیں تو بہتر۔ لینے کے دینے ہی نہ پڑ جائیں! بلکہ اپنے دوست گوروں کو بھی سمجھا لیں۔ افغانستان میں سینگ پھنسا کر بھی آرام نہیں آیا۔؟ پاکستان کے ساتھ زیادہ چھیڑ چھاڑ ، گلے نہ پڑ جائے، جذباتی قوم ہے۔ ہمیں مطعون کرنے سے پہلے یورپ امریکہ اپنے ہاں انسانی سطح پر جو صورت حال انہیں در پیش ہے اس کی فکر کریں۔ اخلاقی معیارات کی تباہی و بربادی، معاشرتی بگاڑ، نفسیاتی بلائیں، بچوں کی جگہ سگ پرستی ، انسانیت کے ناطے مسائل کیا کیا ہیں۔ گویا چیونٹیوں بھرا کباب ہے۔ ہمیں نصیحتیں نہ فرمائیں۔ مغرب میں سرتاپا نصاب بدلنے، قوانین کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ دنیا تباہی کے دہانے پر لے جا کھڑی کرنے کی تمام تر ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔ سو تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو… کا معاملہ ہے۔ ہم روکھی سوکھی کھا کر بھی خوش ہیں! ہمارے پاس سجدے کی لذت ہے جس سے تم محروم ہو! میرا ایک سجدہ بہ چشم نم۔ سارے دکھوں کا مداوا ہے!


ای پیپر