دیر آید درُست آید…!
11 May 2019 2019-05-11

تحریک لبیک پاکستان کے سبکدوش سرپرستِ اعلیٰ پیر افضل قادری کا ایک بیان سوشل میڈیا پر آیا ہے۔ جس میں اُنہوں نے حکومت ، عدلیہ اور چیف آف آرمی سٹاف کی دل آزاری پر معذرت کرتے ہوئے تحریک ِ لبیک کے قائدین ، متعلقین، متفقین، معتقدین اور متوسلین کو کچھ مثبت اقدامات کرنے کی جہاں تاکید کی ہے وہاں اربابِ حکومت اور مقتدر حلقوں کو کچھ یقین دہانیاں بھی کرائی ہیں۔ محترم پیر افضل قادری کے اِس بیان کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ دیر آید درُست آید ۔ اِس میں اُنہوں نے کہا ہے کہ تحریک ِ لبیک کے ذمہ داران صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے اور قیادت کی بھاری ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے معاملات کو بہتر کریں۔ ملک خدادادِ پاکستان کے آئین و قانون اور تمام اِداروں کا احترام کیا جائے گا۔ وطنِ عزیز پاکستان کی فلاح، سلامتی، امن و امان اور بد اَمنی کے خاتمے کے لئے کردار ادا کریں گے۔ پاکستان کے تحفظ کے شانہ بشانہ رہیں گے۔ اپنا نقطہ ء نظر قرآن و سُنت اور آئین و قانون کی روشنی میں مناسب انداز سے بیان کریں گے۔ جلائو، گھیرائو اور عوامی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی۔ دہشت گردی ، قتل و غارت،فتنہ و فساد اور فرقہ ورانہ مسلح کاروائیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ کارکن اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کریں، پُر امن رہیں اور ملکی سلامتی کے خلاف تمام امور سے اجتناب کریں۔ کوئی کارکن غیر اسلامی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوا تو تحریکی ڈسپلن کے تحت تادیبی کاروائی اور لاتعلقی اختیار کی جائے گی۔ تحریک ِ لبیک نے بہائولپور واقعہ سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔ ایسے غیر مناسب اقدامات کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ اپنے بیان کے آخر میں محترم پیر افضل قادری نے یہ اعلان کرنا بھی ضروری سمجھا ہے کہ علالت کے باعث گزشتہ سال ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیا تھا۔ احباب کو مطلع بھی کر دیا تھا۔ اب چونکہ صحت مزید علیل اور شدید جسمانی کمزوری واقع ہو چکی ہے لہٰذا تحریک کی عملی جدوجہد سے ریٹائرمنٹ کا بھی اعلان کرتا ہوں۔

تحریک لبیک پاکستان کے سبکدوش سربراہ محترم جناب پیر افضل قادری کے بیان کے تمام نکات بڑے واضح اور اہم ہیں۔ مقام شکر ہے کہ جناب پیر افضل قادری جیسی محترم اور بزرگ شخصیت نے صورت حال کا صحیح ادراک کیا ہے اور بالواسطہ اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ گزشتہ سال کے ماہ نومبر اور اُس سے ایک سال قبل نومبر 2017ء میں اُنہوں نے اور اُن کی تحریک لبیک کے متعلقین نے حرمت رسولؐ جیسے انتہائی مقدس ، محترم اور جذباتی معاملے کو بنیاد بنا کر ملک گیر احتجاج کا جو سلسلہ شروع کیا تھا اور اِس دوران جلائو، گھیرائو اور پر تشدد احتجاج کے جو واقعات رونما ہوئے تھے۔ قومی ، حکومتی اور نجی املاک اور جان و مال کا جو زیاں ہوا تھا اور عوام النا س کی اکثریت جس طرح اذیت ناک صورت حال سے دو چار ہوئی تھی وہ کوئی مستحسن صورت حال نہیں تھی۔ اِسی طرح تحریک ِ لبیک کے قائدین جن میں سرپرستِ اعلیٰ پیر افضل قادری اور مرکزی امیر علامہ خادم حسین رضوی اور مرکزی ناظم اعلیٰ محمد وحید انور کے بیانات جو اِن مواقع پر سامنے آتے رہے اور وہ اپنے بیانات اور تقاریر میں حکومتی زعماء کو ہی نہیں عدلیہ اور مسلح افواج جیسے ریاستی اِداروں اور اُن کے سربراہان کو جس طرح طعن و تشنیع اور گالم گلوچ کا نشانہ بناتے رہے وہ بھی کوئی پسندیدہ صورت حال نہیں تھی۔ پیر افضل قادری کا اس پر معذرت کا اظہار اگرچہ اُن کے اپنے خلاف قائم مقدمات سے بچنے کے لئے اختیار کی جانے والی پالیسی کا ایک حصہ ہو سکتا ہے ۔تاہم اُن کے اِس بیان کو سامنے رکھ کر اُن کے بارے میں اِس خوش گمانی کا اظہار کچھ ایسا غلط نہیںہوگاکہ پیر افضل قادری نے بڑے پن کا مظاہرہ کیا ہے۔ اُنہوں نے ایک خاص موقع یا مواقع پر جس طرح کے نامناسب اور ایک ممتاز دینی شخصیت کے مقام اور مرتبے کے منافی رویے اور اندازِ فکر و عمل کا اظہار کیا تھا اَب اُنہوں نے اس پر معذرت کر لی ہے تو اچھی بات ہے۔ تحریک لبیک کے دیگر قائدین اور ذمہ داران سے بھی یہ توقع رکھی جانی چاہیے کہ وہ بھی گالم گلوچ اور بدگمانی سے لبریز اپنے رویے اور نامناسب طرزِ عمل پر معذرت کر لیں گے۔ اِس سے جہاں اُن کے خلاف قائم مقدمات کو ختم کرنے یا التوا میں ڈالنے میں آسانی ہوگی وہاں اِن قائدین کے اپنے مقام اور مرتبے میں بھی اضافہ ہوگا۔ کہ دینِ اسلام جس کے ہم پیروکار ہیں وہ نہ صرف عُفو و درگزر کا درس دیتا ہے بلکہ وہ دُوسروں کی دلشکنی اور ایذارسانی کو بھی ناپسند کرتا ہے۔ اَب اگر ایسی کسی حرکت پر جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچی ہو یا اُن کا دِل دُکھا ہو تو اُس پر معذرت کر لی جائے تو یقینا یہ ایک مستحسن بات گردانی جا سکتی ہے۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک لبیک کے قائدین، متعلقین، متفقین، متوسلین اور معتقدین اِس ملک کے انتہائی قابل احترام اور محب وطن شہری ہیں۔ اُن کی ملک و وطن سے محبت، وفاداری اور جذبہ ء حب الوطنی ہر طرح کے شک و شبے سے بالا ہے ۔اِسلام سے اُن کا لگائو اور عشق ِ رسولؐ اور حرمتِ رسولؐ اُن کی وابستگی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اِس حوالے سے کسی طرح کی وضاحت یا کچھ ثبوت سامنے لانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن جیسے اُوپر بیان کیا گیا ہے انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تحریک لبیک نے نومبر2017ء میں راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم فیض آباد انٹر چینج کو بلاک کر کے جس طرح کے پُر تشدد احتجاج کا سلسلہ کئی ہفتوں تک جاری رکھا اور ایک سال بعد آسیہ مسیح کی توہین رسالت کیس میں سپریم کورٹ سے رہائی کے بعد از سرِ نو احتجاج کا سلسلہ شروع کیا اور ملک کی اہم شاہراہوں، راستوں اور چوراہوں کو بند کر کے عوام الناس کے لئے آمد ورفت کے مسائل ہی پیدا نہیں کیے بلکہ پُر امن احتجاج کی بجائے پُر تشدد احتجاج کے سلسلے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ۔ یقینا یہ سب کچھ انتہائی تکلیف دہ تھا۔ دینی اکابرین سے تو یہ توقع کی جاتی ہے کہ امن و آشتی اور سلامتی کے پیامبر بنیں۔ نہ کہ جلائو، گھیرائو، پکڑو، مارو، جانے نہ پائے اور گالم گلوچ کے اندازِ فکروعمل کے پیروکار بنیں۔ نومبر2017ء اور ایک سال بعد نومبر2018ء میں تحریک لبیک کے احتجاج کے دوران جو کچھ بھی ہوا اِس سے اِسلام کی کچھ خدمت ہوئی یا نہیں وہ اللہ کریم ہی بہتر جانتے ہیں لیکن بہت سارے لوگوں کو جو ایذارسانی پہنچی وہ سب کے سامنے کی بات ہے۔ کوئی بڑی دینی اور مذہبی شخصیت ہو یا کوئی عام شخص اِس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے کہ کسی بھی معاملے میں افراط و تفریظ، ضِد، ہٹ دھرمی، اَنا پرستی اور ذاتی پسند و ناپسند کے نتائج کبھی بھی اچھے سامنے نہیں آئے۔ وقتی طور پر کچھ کامیابی حاصل ہو سکتی ہے یا گُڈی اُوپر چڑھ سکتی ہے لیکن انجامِ کار زیاںہی سامنے آتا ہے اور صورت حال اِس نہج پر پہنچ جاتی ہے جہاں اپنے اندازِ فکرونظر سے قطع تعلقی ہی نہیں کرنی پڑتی بلکہ اپنے اعمال و افعال پر معذرت بھی کرنی پڑتی ہے۔ جیسا تحریک لبیک پاکستان کے سرپرستِ اعلیٰ محترم پیر افضل قادری نے اپنے اِس بیان کے ذریعے کیا ہے۔ نومبر2018ء میں اُن کے جو بیانات آئے اور اُنہوں نے جس طرح اربابِ حکومت، اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور چیف آف آرمی ستاف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا وہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا جاتا۔ چنانچہ اُنہیں اِس ضمن میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں میں 2007ء کی گرمیوں میں وقوع پذیر ہونے والے اسلام آباد کی لال مسجد کے المناک واقعہ کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ وہاں بھی دین کے نام پر ہٹ دھرمی ضد اور اَنا پرستی کے رویوں کو اپنایا گیا۔ ہر طرح کی منت سماجت اور مفاہمت کی کوششوں کو پائوں تلے روند دیا گیااور تشدد کا راستہ اختیار کیا گیا۔ اُس کا نتیجہ لال مسجد جیسی مقدس اور محترم جگہ کے خلاف فوجی آپریشن کی صورت میں سامنے آیا۔ اور حاصل کیا ہوا ؟غازی عبدالرشید کا جان سے ہاتھ دھونا، مولانا عبدالعزیز کے بیٹے کا ماں باپ کے ہاتھوں میں تڑپ تڑپ کر جان دے دینا، جامعہ حفصہ کی بیسیوں بچیوں کی شہادت اور جامعہ حفصہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دینا۔ یقینا ہمارے لئے اس طرح کے واقعات میں عبرت کے پہلو پوشیدہ ہیں اَور ہمیں اِن سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔


ای پیپر