گھبرانا نہیں
11 مئی 2019 2019-05-11

لولی لنگڑی اندھی گونگی بہری لڑکی سے شادی جس کو راس آئی اس کی ریاضت تک کون پہنچ سکا؟ نیم کے بیج سے بیری کا درخت کس نے کاشت کیا؟ دن رات کرپشن کرکے چاہتے ہو حکمران عادل ہوں، عجب بات ہے، ماہ صیام میں چور بازاری کرتے ہو، زکوٰۃ کی نمائش کرتے ہو، اور سمجھتے ہو اللہ کا عذاب نازل نہیں ہوگا۔

6،7 ارب ڈالر کیلئے ملک آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا گیا، ابھی چند روز بعد ایف اے ٹی ایف کے سامنے بھی سر بسجود ہوا جائے گا، کیسے چلے گا؟ دسویں منزل سے الٹا لٹکا رکھا اور کہتے ہیں گھبرانا نہیں ، کیسے سنجیدہ مزاج مزاح نگار ہیں یہ؟ گیس کی قیمت میں تین گنا اضافہ کرکے جی نہ بھرا، تیس گنا اضافی بل بھیج دئیے، وزیراعظم نے لوٹی گئی رقم واپس کرنے کا وعدہ کیا، کیا وفا ہوا؟ راتوں رات ادویات کی قیمتیں پچاس فیصد بڑھا دی گئیں، حکومتی سرپرستی میں اربوں روپے کا تاریخی ڈاکا ڈالا گیا، وزیراعظم نے کمپنیوں کو قیمتیں کم کرنے کیلئے 3 دن کا الٹی میٹم دیا، 30 روز سے زائد بیت گئے، کیا بنا؟ ایک سال سے کم عرصے میں ایسے ایسے ظلم ڈھائے گئے کہ پہلے حکمران اپنی کم مائیگی پر حیران پریشان ہیں، وہ کفن چور تھے یہ لاش کی بے حرمتی بھی کر رہے ہیں اور فرماتے ہیں، گھبرانا نہیں ۔

1970ء سے اب تک 21 بار قرض کے معاہدے ہوئے، کبھی کسی معاہدے کو باضابطہ بیل آؤٹ پیکج نہیں کہا گیا، پہلی بار قرض معاہدے کو باضابطہ بیل آؤٹ پیکج قرار دے کر ملک کا سارا مالیاتی نظام آئی ایم ایف کے کنٹرول میں دینے کی راہ ہموار کی گئی۔ وہ بھی محض چند ارب ڈالرز کیلئے، اتنے ارب ڈالر کی تو ایک عرب زکوٰۃ دیتا ہے۔ ایک طرف سی پیک اور ون بیلٹ جیسے سیکڑوں ارب ڈالرز کے منصوبوں کی بڑھکیں تو دوسری جانب حقیقت یہ کہ چند ارب ڈالر کیلئے ملک گروی رکھ دیا گیا۔ کیا بیس کروڑ عوام اور ریاستی اداروں کا اتنا سستا سودا کرنے والا صادق اور امین ہوسکتا ہے؟ نااہلی کرپشن سے کہیں بڑا سنگین جرم ہے، پاکستان کو باضابطہ اور اعلانیہ غلام بنا دیا گیا، عمران خان اس ساری صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ ملکی خود مختاری پر اس حد تک سمجھوتوں کے بعد ملکی سلامتی کے ضامن ادارے یقیناً آنکھیں بند کرکے نہیں بیٹھے ہونگے۔

حفیظ شیخ، رضا باقر یا شبر زیدی بیل آؤٹ پیکج کیلئے حتمی مذاکرات میں میز کے دونوں جانب ہی آئی ایم ایف کے ملازم براجمان تھے، قاضی قاتل کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرا رہا ہو تو فیصلہ سننے کی جستجو کس کو ہوگی۔

اپوزیشن حکومت کے مسائل میں اضافے سے خوش ہے، لیکن اگر معاملات ہاتھ سے نکل گئے تو کسی جماعت کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ حکومتی پالیسیوں کے باعث عملی طور پر ملکی معیشت عالمی مالیاتی اداروں کے قبضے میں آچکی ہے جو پہلے ہی سی پیک اور چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت سے خوفزدہ ہے۔ اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں امریکا کے پاس 17 فیصد، جاپان کے پاس سات فیصد، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے پاس 15,15 فیصد، بھارت اور آسٹریلیا کے پاس دو دو فیصد فیصلہ سازی کی طاقت ہے۔ یہ تمام ممالک سی پیک کے مخالف ہیں، اور ان کا عالمی ادارے کی فیصلہ سازی میں حصہ 73 فیصد بنتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں آئی ایم ایف جو مطالبات پاکستان سے منوا رہا ہے اس سے امریکا، بھارت اور دیگر سی پیک مخالف مغربی اور امریکی حلیف قوتوں کو اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مدد مل رہی ہے۔ جو حالات ہیں ایسے میں حکومت کو کسی اپوزیشن کی ضرورت نہیں ، حکومت خود اپنے بوجھ تلے دبتی چلی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کی قیادت اور ان کے اہم رہنما جیلوں میں ہیں یا پھر گرفتاری سے بچنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ اپوزیشن حکومت مخالف تحریک چلانے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتی، لیکن جس تیزی سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اور عوام میں غم و غصہ زور پکڑ رہا ہے، لگتا نہیں حکومت مخالف عوام کا سونامی شہر اقتدار سے زیادہ دن دور رہ پائے گا۔

پاکستان کو رواں مالی سال کے آخری دو مہینوں میں ڈھائی ارب ڈالرز کا قرض ادا کرنا ہے۔ موجودہ مالی سال کے دوران چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے مجموعی طور پر 9ارب ڈالرز موصول ہوئے، جبکہ دو مئی کو غیر ملکی ذخائر 8.8ارب ڈالرز تھے، جو آئندہ چند ماہ کے دوران تاریخ کی کم ترین سطح تک گر سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں موجودہ حکومت کو وراثت میں جس طرح کی زبوں حالی کا شکار معیشت ملی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، جاری کھاتے کا خسارہ 19ارب ڈالر سے زائد جبکہ بجٹ خسارہ 7فیصد سے زائد تھا۔ لیکن بیمار ہوئے جس کے سبب اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے کا فائدہ؟ کوئی اور چارہ کرنا ہوگا، آئی ایم ایف کے بغیر رہنا سیکھنا ہوگا۔ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام اگست 2016ء میں مکمل ہوا۔ عالمی مالیاتی ادارے کی گزشتہ برس شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا پاکستان ترقی کیلئے تیار ہے اور آئی ایم ایف کے بغیر بھی گزارا کرسکتا ہے۔ لیکن آج پاکستان کے پاس آئی ایم ایف کے پاس جائے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔ اگر کوئی مریض بیماری کے فوراً بعد ہی دوبارہ اسی مرض میں مبتلا ہوجائے،21 بار جس دوائی کے استعمال سے مریض کو افاقہ نہ ہو22 ویں بار میں کیا تبدیلی آسکتی ہے؟

عمران خان رحونیت میرا مطلب ہے روحانیت کا علم حاصل کرتے رہے، دور حاضر کے بہت بڑے عارف بھی خان صاحب کو پڑھ نہ سکے، ہاں عارفین کی صحبت نے خان صاحب کو گہری بات کرنے کے ہنر میں کمال بخش دیا۔ عمران خان کہتے تھے میں ان کو رلاؤں گا ان کو تکلیف پہنچاؤں گا، ہم سمجھتے رہے ظالم اشرافیہ کی بات ہو رہی، آج عوام کی چیخیں سن کر خان صاحب کا مخاطب سمجھ میں آئے۔ پھر کہا، باہر کے ممالک سے قابل لوگ روزگار کیلئے پاکستان آئیں گے، آج وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کا تعلق ورلڈ بینک سے ہے، دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے ریٹائرڈ ملازمین بھی وزارت خزانہ میں سی وی جمع کرارہے ہیں، یورپی یونین کے امیدوار بھی وزارت خزانہ میں نوکریاں ڈھونڈ رہے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں میں نان کیڈر کا نوجوان اسٹاف بھی وزیراعظم کے دفتر سے جڑچکا ہے۔ کہتے تھے مدینہ جیسی فلاحی ریاست بناؤں گا، آج ملک میں حالات حاضرہ سے باخبر رکھنے والے نیوز چینلز بند ہورہے ہیں، انٹرٹینمنٹ انٹرٹینمنٹ اور انٹرٹینمنٹ کے چینلز قائم ہورہے ہیں۔ "فنکار" کی فلاحی ریاست کا قیام اور اللہ کا عذاب زیادہ دور نہیں ۔ صرف بے ایمانی کا کام ایمانداری سے کرنے والی قوم پر عذاب تو ابھی شروع ہوا ہے۔


ای پیپر