رمضان۔یات
11 مئی 2019 2019-05-11

دوستو، رمضان المبارک کی بہاریں رواں دواں ہیں، رمضان کا پہلا جمعہ مبارک بیت گیا، کراچی میں رمضان المبارک کی آمد سے قبل اتنی شدید گرمی تھی کہ محکمہ موسمیات نے ’’ہیٹ ویو‘‘ الرٹ جاری کردیا تھا، سوچ سوچ کر دل دہلا جارہا تھا کہ رمضان میں بھی ایسا موسم رہا تو روزے تو کسمپرسی کی حالت میں گزریں گے، لیکن اللہ پاک نے بڑا کرم کیا، موسم اچانک سے تبدیل ہوا، اب پتہ ہی نہیں لگ رہا کہ رمضان کا مہینہ ہے اور ہم روزے سے بھی ہیں۔۔ گرمی بہرحال ہے لیکن وہ شدت نہیں کہ پیاس سے زبان باہر آجائے یا پھر حلق میں کانٹے چبھنے لگیں۔۔بہرحال آج رمضان کے حوالے سے ہی کچھ باتیں کرلیتے ہیں، ویسے بھی چھٹی کا دن ہے۔۔اور چھٹی والے دن بوریت مٹانے کے لئے ہم آپ کی خدمت میں لازمی حاضری دیتے ہیں۔۔

گزرے جمعہ کو ہمارے ساتھ ایک ’’سین‘‘ ہوگیا، اسے ’’شین‘‘ مت سمجھئے گا، ورنہ آپ کے ساتھ بھی کبھی عین،غین ہوسکتا ہے۔۔ہوا کچھ یوں کہ ۔۔جمعہ کی نماز پڑھنے اپنے علاقے کی جامع مسجد گئے، رمضان المبارک کی وجہ سے کافی رش کا اندازہ تھا اس لئے عین دوسری اذان کے وقت جانے کے بجائے کچھ پہلے جانے کی ٹھانی اور مسجد کے اندر سایہ دار جگہ میں ’’جگہ‘‘ بناکربیٹھ گئے۔مولوی صاحب کا اردو میں خطاب یا بیان جاری تھا، بڑے پرجوش اور ولولے کے انداز میں وہ اپنی تقریر جاری رکھے ہوئے تھے، مولوی صاحب کے لہجے سے بالکل اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ ان کا روزہ ہے(یہ ہمارے اندر کا راڈار بتارہاتھا،واللہ اعلم باالصواب)آواز میں گھن گرج، ہاتھوں کا فضا میں ہلانا، باربار ریش مبارک پر ہاتھ پھیرنا، روزے میں تو انسان بالکل ڈھیلا ڈھالا سا ہوجاتا ہے،(شاید یہ ہماری آبزورویشن ہو، ممکن ہے آپ اتفاق نہ کریں)، بہرحال مولوی صاحب کے خطاب کے دوران چندے کا بکس نمازیوں کے آگے کیاجارہاتھا، بکس ہمارے سامنے پہنچا تو ہم نے بسم اللہ پڑھ کر جیب سے دس روپے کا کڑک نوٹ نکالا اور اسے چندہ بکس کے سپرد کرڈالا، ہمارے پیچھے بیٹھے صاحب نے اسی دوران ہمارا کاندھا ہلایاپھر ممکن ہے تھپکی دی اور پانچ سو کا نوٹ ہمارے ہاتھ میں تھمادیا،ہمارے دل میں ان صاحب کے لئے جذبات امڈ آئے، ہم نے وہ نوٹ پکڑا اور اسے بھی جلدی سے چندہ بکس کی نذر کردیا اور پلٹ کر ان صاحب کو بڑے عقیدت بھرے انداز میں کہا، جزاک اللہ جناب۔۔ وہ صاحب تھوڑا سا آگے کی طرف جھکے ، ہمارے کان کی طرف اپنا منہ لائے اور بہت ہی آہستہ سے بولے، احتیاط کیا کیجئے، یہ نوٹ آپ کی جیب سے گر گیا تھا۔۔

رمضان کا مہینہ ہے، روزانہ افطاری کے لئے پھل فروٹ بھی لینا ضروری ہوتا ہے۔۔ دسترخوان پر جب تک بھرپور افطاری نہ ہو تو مزہ ہی نہیں آتا، کراچی اور لاہور کی افطار میں ہم نے یہ فرق بخوبی دیکھا کہ لاہور میں افطار ہلکی پھلکی ہوتی ہے جس کے فوری بعد کھانا کھایاجاتا ہے، جب کہ کراچی میں بہت تگڑی قسم کی افطار ہوتی ہے، جس کے بعد کسی کھانے کی گنجائش نہیں رہتی۔۔ تو ہم کہہ رہے تھے کہ جب آپ افطار کے لئے فروٹ لینے بازار جاتے ہیں تو ہآپ نے دیکھا ہوگا تربوز والے آپ کو کس انداز سے تربوز دیتے ہیں۔۔ ہم نے نے ایک تربوز والے سے سوال کیا۔۔یار تمہیں کیسے تربوزکو تھپکی دینے سے پتہ چل جاتا ہے کہ تربوز میٹھا اور لال نکلے گا؟؟ تربوز والا ہماری بات سن کر مسکرایا، پھر اس نے اپنی بڑھی ہوئی شیو والا والے کو کھجایا،پھر پیلے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔پتہ نہیں صاحب جی،لیکن میرے باپ نے مجھے سمجھایا تھاکہ دو تربوز پر تھپکیاں ماروپھر تیسرے والا تربوزگاہک کو پکڑا دو،گاہگ خوش ہو جاتا ہے۔واقعہ کی دُم: نوازشریف پہلا تربوز،آصف زرداری دوسرا تربوز۔تربوز والے نے یہی کیا، عوام کو تیسرا تربوز یعنی ’’خان صاحب‘‘ کو پکڑادیا،عوام بھی تیسرا تربوز لے کر خوش ہوگئے، وہ تو اس وقت پتہ چلا جب گھر آکر تربوز کاٹا۔۔۔

آپ کو شاید یاد ہوکہ نہ یاد ہو۔۔پچھلے رمضان المبارک میں چینی 53روپے کلو تھی،چاول 70 روپے کلو تھے،آٹا 475 روپے کا تھیلا تھا(دس کلو والا)، پٹرول 78 روپے لٹر تھا،بجلی 9 روپے یونٹ تھی،گیس بل 480 روپے تک تھا،پانی کا بل 460 روپے 2 ماہ بعد،سیب 110 روپے کلو،کیلا 70 روپے درجن،پیاز 20 روپے کلو،ٹماٹر 35 روپے کلو،لیموں 150 روپے کلواور حکومت ’’چوروں ‘‘ کی تھی۔۔اس بار رمضان المبارک میں چینی 75 روپے کلو،چاول 130 روپے کلو ،آٹا 680 روپے کا تھیلا (دس کلو )،پٹرول 108 روپے لٹر ،بجلی 18 روپے یونٹ،گیس بل 900 روپے تک ،پانی کا بل 430 روپے 1 ماہ بعد، سیب 250 روپے کلو،کیلا 150 روپے درجن،پیاز 40 روپے کلو،ٹماٹر 80 روپے کلو،لیموں 400 روپے کلواور ۔۔۔اب حکومت ’’حاجیوں‘‘ کی ہے۔۔عوام کی اکثریت اس رمضان میں پریشان اور تنگ نظر آرہی ہے۔۔مہنگائی اپنے عروج پر ہے، ہمارے کپتان کو بھی احساس ہے ، لیکن وہ بے چارہ مجبور ہے۔وہ کسی بھی منصوبے کا افتتاح کرتا ہے تو پیپلزپارٹی یا نون لیگ فوری دعویٰ کردیتی ہے کہ یہ منصوبہ تو ہماری حکومت نے تیار کیا تھا، لیکن جب قرضوں کی بات ہوتی ہے تو لگتا ہے سارا قرضہ کپتان نے لیا تھا۔۔تو ہم بتارہے تھے کہ اس رمضان میں سب ہی پریشان نظر آرہے ہیں۔۔ایک گوالا رمضان کے مہینے میں سحری کے وقت اپنے کسی گاہک کے مکان پر دودھ دینے گیا تو اندر سے کسی خاتون کی نے کہا۔دودھ جلدی لایا کرو۔گوالے جواب دیا۔بیگم صاحبہ، دودھ تو جلدی لے آؤں مگر کیا کروں میرے محلے کے نلکے میں پانی ساڑھے چار بجے آتا ہیں۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ کپتان کی حکومت کو کرپشن ختم کرنے کا بالکل اچھوتا فارمولہ پیش کررہے ہیں۔۔ہم نے ایک جگہ اس فارمولے کو پڑھا تھا تو ہمیں یہ آئیڈیا بہت پسند آیا۔۔ایک غیرملکی طالبعلم نے کرپشن پر ایک مضمون لکھا جس میں اس نے ایک تجویز پیش کی کہ جس طرح ہر چیز پر ایکسپائری تاریخ یعنی قابل استعمال کی مدت لکھی ہوتی ہے بالکل اسی طرح سے کرنسی نوٹوں پر بھی قابل استعمال کی مدت پانچ سال لکھی جائے اور جب تاریخ قریب آئے تو بنک والے اس نوٹ کو تبدیل کرکے نئی تاریخ والا نوٹ دے دیں اس طرح کالے دھن کو ختم کرنے میں مدد ملے گی اور سرمایہ بھی گردش میں رہے گا جس سے معاشی مسائل بھی حل ہونگے اور نوٹ لمبے عرصے تک مارکیٹ سے غائب نہیں ہونگے۔


ای پیپر