Image Source : Twitter

’’جنسی ہراساں کا الزام ‘‘ کس نے کس کو گلے لگایا ،عینی شاہد نے عدالت میں سب کچھ بتا دیا
11 مئی 2019 (13:29) 2019-05-11

لاہور :گلوکارہ میشا شفیع کے علی ظفر پر جنسی ہراساں کے الزام میں اہم پیش رفت ،عدالت میں علی ظفر کی طرف سے لائی گئی گواہ نے اہم انکشاف کر تے ہوئے کہا کہ جب جنسی ہراساں کا الزام لگا یا اس وقت وہ نجی سٹوڈیو میں موجود تھیں ،کنیزہ منیر نے اپنے بیان میں کہا اسٹوڈیو میں کنسرٹ کی ریہرسل چل رہی تھی اوردس سے گیارہ لوگ ریہرسل میں موجود تھے۔گواہ کنزہ منیر نے کہا کہ لگ بھگ 45 منٹ تک ریہرسل سٹوڈیو میں جاری رہی۔میشا شفیع جب اسٹوڈیو پہنچی تو علی ظفر کو گلے سے لگا کر سلام کیا اورریہرسل کا عمل مکمل ہونے کے بعد اسی طرح بائے بائے کہا۔

تفصیلات کے مطابق میشا شفیع کیس میں اہم پیش رفت سامنے آگئی ،علی ظفر کی طرف سے اہم ترین گواہ کو پیش کر دیا گیا ،اس سے قبل سیشن کورٹ نے گلوکارہ میشا شفیع کی گواہوں کے بیانات رکارڈ نہ کرنے کی استدعا مسترد کردی ہے ۔سیشن کورٹ میں اداکارعلی ظفر کی طرف سے دائر گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوی پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج امجد علی شاہ نے کی ۔عدالت نے استفسار کیا کہ گواہان عدالت میں آگئے ہیں؟میشا شفیع کے وکیل نے کہا گواہان کے بیانات قلمبند کروانے کے حوالے سے کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔سپریم کورٹ کے حکم کا انتظار کیا جائے۔عدالت ہمیں سپریم کورٹ کے حکم تک مہلت فراہم کرے۔علی ظفر کے وکیل نے کہا وہ دو گواہان عدالت میں لیکر آئے ہیں۔ عدالت ان کی شہادت قلمبند کرے۔

ادکار علی ظفر کی جانب سے ماڈل کنزہ منیر کی شہادت قلمبند کی گئی۔ کنیزہ منیر نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ نجی اسٹوڈیو میں موجود تھی جہاں میشا شفیع نے علی ظفر پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا۔ اسٹوڈیو میں کنسرٹ کی ریہرسل چل رہی تھی اوردس سے گیارہ لوگ ریہرسل میں موجود تھے۔گواہ کنزہ منیر نے کہا کہ لگ بھگ 45 منٹ تک ریہرسل سٹوڈیو میں جاری رہی۔میشا شفیع جب اسٹوڈیو پہنچی تو علی ظفر کو گلے سے لگا کر سلام کیا اورریہرسل کا عمل مکمل ہونے کے بعد اسی طرح بائے بائے کہا۔کنزہ منیر نے کہا ریہرسل کے درمیان ویڈیو بھی بن رہی تھی۔دونوں گانے کے دوران چار سے پانچ فٹ دور کھڑے تھے۔میشا شفیع کے الزامات کا اچھی طرح علم ہے وہ جھوٹ ہیں ۔گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کی درخواست پر سماعت 18 مئی تک ملتوی کردی، عدالت نے گواہ کنزہ منیر کا بیان ریکارڈ کرلیا اور آئندہ سماعت پر مزید گواہان کو شہادت کے لیے طلب کرلیا۔


ای پیپر