مہنگائی اور نیازی کی بے نیازیاں
11 May 2019 2019-05-11

میں بات کررہا تھا، کہ اعمال صالح ، اور زندگی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے فرمان کے تحت انسان بسر کرے، تو پھر خدا بھی آپ کی مانتا ہے، بقول شاعر

اگر چاہو خدا سے خدا لینا

محمد مصطفی کا نام لینا

اورپھر اللہ تعالیٰ حضرت بابا فریدالدین گنج شکرؒ کے بھانجے صابر کلیرشریف والے جیسا بنا دیتا ہے، وہ دن میں کئی بار اپنے خادم کو لنگڑا کر دیتے اور کبھی اندھے بننے پہ مجبور کردیتے، اگر کسی کام کے لیے ان کے خادم کو دیرہوجاتی، تو لاشعورطورپر وہ جب یہ کہتے کہ اتنی دیر کیوں کردی کیا تم لنگڑے ہوگئے ہو، اور پھر وہ واقعی، لنگڑا ہوجاتا، اور اگر اندھا کہتے تو اندھا ہو جاتا، قبولیت دعا کے کئی مناظر راقم بھی بچشم خود دیکھ چکا ہے۔ اور پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور دعا کرتے، کہ اللہ میاں میرا ایک ہی خادم ہے اسے آپ نے اندھا کردیا ہے، تو وہ فوراًٹھیک ہوجاتا، حتیٰ کہ وہ ایسا بے دھیانی میں ایک دن میں کئی دفعہ کرتے۔

ہماری تاریخ کے اوراق بھی اس طرح کی مثالوں سے بھرے پڑے ہیں حضرت عمر ؓ کو جب مسلمانوں کی دشواری کا علم ہوا کہ مصر میں ایک دوشیزہ کو ہرسال دریائے مصر میں طغیانی تھمنے کے لیے قربان کردیا جاتا ہے، تو جوش کے عالم میں حضرت عمرؓ نے فرمایا، کہ قلم دوات لاﺅ، اور آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ ہم اللہ کے کام کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے کام کیوں نہیں کرے گا، اور پھر انہوں نے دریائے نیل کے نام خط لکھا، کہ اگر ہم اللہ کے کام کرتے ہیں، تو یہ خط ملتے ہی تھم جا، اور پھر جب ان کا لکھا ہوا رقعہ دریائے دجلہ میں پھینکا گیا تو اس دن کے بعد آج تک وہاں طغیانی نہیں آئی۔

اور یہ بات بھی انہیں سے منسوب ہے، کہ ایک دفعہ رحمت اللعالمین کے ساتھ حضرت عمرؓ اُحد کے پہاڑ پہ جارہے تھے، تو زلزلہ آگیا، تب آپ نے اپنا قدم مبارک پہاڑ پہ مارکر کہا تھا، کہ تمہیں معلوم نہیں کہ تم پہ دوشہدا، ایک نبی اور ایک صدیقؓ کھڑا ہے، اور وقت نے ثابت کردکھایا کہ واقعی دوشہید ہوئے تھے ایک دفعہ حضرت عمرؓ کہیں جارہے تھے، کہ زلزلہ آگیا ، تو حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا کہ رُک جا، کیا میں نے زمین پہ انصاف نہیں کیا، اور زلزلہ یہ الفاظ سنتے ہی رُک گیا، عام انسانوں کی نسبت حکمران اللہ تعالیٰ کے بہت قریب ہوتے ہیں حتیٰ کہ اگر خشک سالی معاشی بدحالی اور قحط سالی کا خطرہ ہو، تو حکمران کے نماز استقاءپڑھنے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آجاتی ہے، اور بارش برسنے لگتی ہے ماضی قریب میں صدر ممنون حسین نے کراچی میں نماز استسقاءپڑھی تھی، تو پورا کراچی جل تھل ہوگیا تھا، مجھے صدرممنون حسین کے ساتھ کوئی خوش گمانی نہیں ہے بلکہ گلہ ضرور ہے کہ اگر وہ ممتاز قادری صاحب کی سزا معاف کردیتے تو پاکستانی تاریخ میں امر ہوجاتے۔ تو یہ ان کا آئینی حق تھا، ان پہ اگر زیادہ دباﺅ تھا، تو وہ بعد میں مستعفی ہو جاتے۔

قارئین کرام، محض اللہ کے محبوب بانی ریاست مدینہ نے ہی نہیں ان کے تربیت یافتہ خلفاءنے بھی اللہ تعالیٰ سے بے شمار باتیں منوائیں، کبھی وہ قلیل تعدادمیں ہونے، بلکہ نہتے ہونے کے باوجود وہ جنگ جیت جاتے کبھی منافقوں، کافروں، اور یہودیوں کے دل میں اپنی دھاک بٹھا دیتے، اور کبھی سمندروں ، صحراﺅں اور بیابانوں سے بھی اپنی بات منوالیتے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ اب ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟ اللہ تعالیٰ تو وہی ہے، اور اللہ کے محبوب بھی وہی ہیں جن کا دیا ہوا نظام بھی موجود ہے، تو پھر کیوں ہمارے حکمرانوں کے اٹھے ہوئے دعا کے ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں ؟ یا پھر وہ خدا کے حضور ہاتھ ہی نہیں اُٹھاتے۔

اب جتنے مہینے تحریک انصاف کو ہوگئے ہیں ، حکومت کرتے ہوئے اتنی مدت میں ریاست مدینہ کے بانی نے اتنے اصلاحی وفلاحی کام کرلیے تھے کہ جن کے بارے میں ہم تصور بھی نہیں کرسکتے، اس وقت ریاست مدینہ کے گرد منڈلاتے خطرات اس قدر زیادہ تھے کہ ان کی پوری کوشش تھی کہ اسلامی ریاست کا قیام عمل میں نہ آنے پائے، آج اللہ کا فضل ہے ، حکومت پاکستان کو وہ والے خطرات تو نہیں ہیں، تاہم وہ کون سا ملک ہے، کہ جو اسلامی ہونے کے باوجود دشمنوں سے پاک ہے؟ اس میں مسلمانوں کی اپنی ریشہ دوانیوں کم فہمیوں اور لاغرضی ضرور شامل ہے۔

اپنی ناکامیوں کو گردش زمانہ کہنا، بالکل نامناسب ہے، بلکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا تو فرمان ہے، کہ زمانے کی گردش عجیب ہے، اور حالات سے غفلت عجیب تر ہے، دانشوران ملت کا کہنا ہے کہ نادان گزشتہ زمانے کو ہر وقت یاد کرتا رہتا ہے۔ اور کاہل و سست انسان، آئندہ آنے والے زمانے کی موہوم امید کا گیت گاتا رہتا ہے، مگر ہمارے خیال کا بڑا راز آج ہی کا دن ہے۔

قارئین اب آخر میں ریاست مدینہ کا ذکر کرتے ہیں کہ حضور نے کون سے اقدامات کیے تھے، کن کی بنا پر مہنگائی ، جو اس حکومت کا سب سے بڑا عوام کو دیا گیا تحفہ ہے، اس پر نہ صرف اس وقت ، بلکہ اب تک سعودیہ میں مہنگائی پہ قابو پایا جانا ممکن بنا دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ آج سے تیس سال یا اس سے بھی زیادہ شاہ فیصل شہید کے زمانے کے جونرخ تھے، ان میں محض معمولی سا فرق ہے، حالانکہ اب تک وہاں ٹیکس کسی بھی چیز پہ نہیں لیا جاتا رہا۔ حتیٰ کہ اب تک سعودی عرب FREE PORT تھا، اور وہاں کسٹم بھی نہیں لیا جاتا تھا۔

سعودی عرب میں مہنگائی نہ ہونے کے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں درمیانی واسطے کو ختم کردیا گیا ہے، سامان کھیتوں سے منڈیوں تک براہ راست پہنچا دیاجاتا ہے جیسے سبزیاں ہیں، ان کو آڑھتیوں کے چنگل سے نکال دیا گیا ہے، کیونکہ ان کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان آتا ہے، حکومت خصوصاً مدینہ شریف میں حکومتی کارندے براہ راست متعلقہ جگہات سے سامان لے کر منڈیوں تک پہنچاتے ہیں، اور جو قیمت حکومت خود مقرر کردیتی ہے، اس پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے جتنی سخت سزا سعودیہ میں ملاوٹ پہ دی جاتی ہے، میرے خیال میں دنیا میں سب سے زیادہ ملاوٹ کی سزا سعودی عرب میں دی جاتی ہے ، حکومت پاکستان نے بھی سابقہ حکومت کے دور سے فوڈ اتھارٹی کا محکمہ بنایا ہوا ہے اور روزانہ ہزاروں لیٹر دودھ تلف کردینے کے باوجود پاکستان کے کسی شہر میں خالص دودھ ملنا ناممکن ہے، شاید اسی لیے کہ ملاوٹ کرنے والوں نے اپنے ماں باپ کو بھی ایسا کرتے ہی دیکھا ہے، وزیراعظم کہتے ہیں کہ حکومت کرنا آسان ہے، تو پھر مہنگائی پہ قابو پانا کس کا کام ہے ؟ نواب آف کالا باغ کا .... نیازی صاحب، آپ بھی وہیں کے ہیں، جہاں کے وہ رہنے والے تھے، صرف کردار کا فرق ہے، اور افکار کا بھی وہ نہایت کم گو تھے۔


ای پیپر