مُردہ سیاست کا ایک زندہ کردار !
11 مئی 2019 2019-05-11

کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں دلوں سے مگر کبھی رخصت نہیں ہوتے۔ ان کی خوبیاں دلوں سے اُنہیں رخصت نہیں ہونے دیتیں۔ سیالکوٹ کی ایک ممتاز سماجی شخصیت امتیاز الدین ڈار کا شمار بھی ایسے ہی خوبصورت اور زبردست کردار کے حامل لوگوں میںہوتا ہے، وہ اخلاقی خوبیوں سے مالا مال ایک شخص تھے، ایسے لوگوں سے دھرتی بڑی تیزی سے خالی ہوتی جارہی ہے۔ سچ پوچھیں تو یہ جو ہماری زندگیوں سے برکت اُٹھتی جارہی ہے اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ امتیاز الدین ڈار ایسے لوگ نہیں رہے، وہ وزیراعظم کے معاون خصوصی عثمان ڈار کے والد محترم تھے۔ ساری اولاد ہی بڑی پیاری ہوتی ہے مگر ڈار صاحب اپنی اولاد میں سے سب زیادہ محبت عثمان ڈار سے شاید اس لیے کرتے تھے یہ ایک انتہائی محنتی اور لگن والا نوجوان ہے۔ مجھے نہیں پتہ پی ٹی آئی میں شامل ہوکر یا وزیراعظم کا معاون خصوصی بن کر اس کے وہ خواب پورے ہوسکے ہیں یا نہیں جو پاکستان کی تعمیر وترقی کے لیے اس نے دیکھے تھے اور اس جدوجہد کا حصہ بننے کے لیے اپنا کاروبار بلکہ اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر میدان سیاست میں اس نیت اور جذبے کے ساتھ اُترآیا تھا کہ خان صاحب کے ساتھ مل کر اِس ملک سے کرپشن اور دیگر خرافات کا خاتمہ کرے گا۔ اس جدوجہد میں ہم بھی اُس کے ساتھی تھے، اب کبھی کبھی جی چاہتا ہے جس طرح وہ مجھے ایک زمانے میں یورپ اپنے ساتھ لے جایا کرتا تھا، اب میں اُسے کاروبار سیاست سے ذرا الگ کرکے دور کہیں اپنے ساتھ لے جاﺅں اور اُس سے پوچھوں تمہارے اُن خوابوں کا کیا بنا جو پاکستان کی محبت میں تم نے دیکھے تھے اور اِس کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے پر تیار ہوگئے تھے؟ سیاست بڑی بے رحم چیز ہوتی ہے، خاص طور پر ان کے لیے تو بہت ہی بے رحم ہوتی ہے جو سیاست کو صرف اور صرف عبادت سمجھتے ہیں، امتیاز الدین ڈار مرحوم کا بس چلتا تو بزنس کے اعتبار سے اپنے اس انتہائی باصلاحیت صاحبزادے کو کبھی میدان سیاست میں نہ اُتارتے۔ اُس کی توجہ صرف بزنس کی طرف رہتی تو اس شعبے میں اب تک جانے کتنی ترقی وہ کرچکا ہوتا، مگر عمران خان کی محبت اسے سیاست میں لے آئی۔ سیاست میں آکر لوگوں کی جائیدادیں، کاروبار سب کچھ کئی کئی گنا بڑھ جاتے ہیں، عثمان ڈار کے اثاثے ممکن ہے کم ہوگئے ہوں مگر جو عزت اس نے کمائی یہی اس کی اصل کمائی ہے جس سے اس کے والد محترم کی روح یقیناً خوش ہوتی ہوگی، .... مرحوم امتیاز الدین ڈار سیالکوٹ کے ڈپٹی میئر رہے، اس حیثیت میں جو کارنامے انہوں نے کیے اور سیالکوٹ کے عوام کی جتنی خدمت کی شاید اُسی کا نتیجہ تھا اُن کے صاحبزادے عثمان ڈارنے دوبار سیاسی حوالے سے خودکو سیالکوٹ کی سب سے بڑی شخصیت قرار دینے والے خواجہ آصف کے مقابلے میں الیکشن لڑا اور دونوں بار اسے ناکوں چنے چبوادیئے، کچھ ”خفیہ قوتیں“ دونوں بار خواجہ آصف کی خصوصی مدد نہ فرماتیں تو عثمان ڈار بھاری اکثریت سے الیکشن جیت کر سیالکوٹ کو پاکستان کا سب سے منفرد اور مختلف شہر بنا دیتا، جس کے لیے اب بھی وہ کوشاں ہے، وزیراعظم عمران خان کی ٹیم میں چند شخصیات جن پر کسی بھی حوالے سے کوئی ایک اُنگلی نہیں اُٹھتی میرے خیال میں عثمان ڈار اُن میں سرفہرست ہے، ایک طرف وزیراعظم نے اُسے اپنے یوتھ پروگرام کی جو ذمہ داریاں سونپ رکھی ہیں اُس میں اپنی صلاحیتیں دیکھانے میں وہ مصروف ہے اور دوسری طرف روزانہ رات کو کسی نہ کسی نیوز چینل پر انتہائی مدلل اور مہذب انداز میں اپنی پارٹی اور پارٹی لیڈر کا وہ دفاع بھی کررہا ہوتا ہے۔ کم ازکم میں نے نہیں سنا کسی مخالف کے بارے میں کوئی غیرمہذب بات اس نے کی ہو، اصل میں اس کی تربیت ہی ایسی نہیں ہوئی، اس کے والد محترم خود بھی ایسے ہی اعلیٰ ظرف انسان تھے، وہ بہت عرصہ نون لیگ میں رہے۔ 1999ءکی ”بارہویں شریف“ کے بعد نون

لیگ پر جب مشکل وقت آیا، اور نون لیگ کے تمام بڑے رہنما دُم دبا کر بھاگ گئے یا چُھپ گئے تو امتیاز الدین ڈار کسی خوف اور خطرے کی پرواکئے بغیر پہلے سے زیادہ سرگرم ہوگئے۔ جس کے نتیجے میں انہیں کئی طرح کی کاروباری وذاتی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ ڈٹ کر کھڑے رہے ، ان دنوں خواجہ آصف کے گھر کے دروازے مسلم لیگی کارکنوں پر مکمل طورپر بند ہوگئے تھے، امتیاز الدین ڈار اگر اس وقت مسلم لیگی کارکنوں کو ”جناح ہاﺅس“ کی صورت میں ایک ٹھکانہ فراہم نہ کرتے، اور کارکنوں کو ہرطرح کی مدد فراہم نہ کرتے سیالکوٹ سے نون لیگ کا نام ونشان مٹ چکا ہوتا، امتیاز الدین ڈار مرحوم کی ان ہی کوششوں اور کاوشوں کے نتیجے میں خواجہ آصف کو یہ احساس ہونا شروع ہوگیا تھا کہ اس کے مقابلے میں مسلم لیگی کارکن اب امتیاز الدین ڈار کا زیادہ دم بھرنے لگے ہیں، اس کی سیاسی حیثیت آہستہ آہستہ کم ہوتی جارہی ہے، چنانچہ اس نے مختلف حوالوں سے امتیاز الدین ڈار کے خلاف سازشیں شروع کردیں اور وہ شریف برادران جو امتیاز الدین ڈار مرحوم کی قربانیوں کی وجہ سے ان کی دل سے عزت کرتے تھے آہستہ آہستہ ان سے دور ہوتے گئے ، بلکہ خواجہ آصف کی کم ظرفی کی یہ انتہاتھی اس نے شرط رکھ دی تھی اگر امتیاز الدین ڈار کو کوئی اہمیت یا عہدہ دیا گیا وہ جماعت سے الگ ہو جائے گا، ان حالات میں امتیاز الدین ڈار مرحوم کے پاس اور کوئی آپشن نہیں بچا تھا کہ وہ نون لیگ کو خیر باد کہہ دیتے۔ اُس وقت بے شمار نون لیگیوں نے کسی نہ کسی مفاد یا خوف کے تحت نون لیگ کو خیرباد کہا تھایا شریف برادران کا ساتھ چھوڑا تھا۔ مگر امتیاز الدین ڈار اُن چند شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے صرف اِس مجبوری کے تحت پارٹی کو خیرباد کہا تھا کہ پارٹی میں موجود کچھ پارٹی دشمنوں نے ان کے لیے حالات ہی ایسے پیدا کردیئے تھے جِس سے کوئی بھی عزت آبرو والا انسان پارٹی کے ساتھ زبردستی جُڑے رہنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا، نون لیگ آج حکومتی تنزل کے جِس بلند ترین مقام پر کھڑی ہے اُس میں سب سے اہم کردار میری نظر میں خواجہ آصف کا ہے۔ مگر اللہ جانے اُس کے پاس کون سی ایسی گیدڑسنگھی ہے جِس کی بنیادپرشریف برادران خصوصاً نواز شریف کے وہ اتنا قریب ہے ۔ (جاری ہے)


ای پیپر