ریاست دشمن فارن فنڈڈ این جی اوز

11 مئی 2018

حافظ شفیق الرحمن

دنیا کے وہ تمام ممالک جہاں فارن فنڈڈ این جی اوز ، فارن ڈونر ایجنسیوں کے سرمائے کے بل بوتے پر مختلف شعبوں میں ’’زیر زمیں ندی ‘‘کی طرح کام کر رہی ہیں، ان کے حوالے سے عوامی اور حکومتی حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ اب یہ تشویش احتجاج کی سرحد پھلانگ کر غم و غصہ کے دائرے میں داخل ہو چکی ہے۔ ناقابل تردید حقائق اور ٹھوس شواہد سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ تیسری دنیا کے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں فارن فنڈڈ این جی اوز کا کردار نہ صرف یہ کہ مشکوک ہے بلکہ ان کے عوامی، شہری، سماجی اور سیاسی حلقوں کے نزدیک ریاست دشمن بھی ہے۔ ان میں سے اکثر کی سرگرمیاں ان ممالک کے مروجہ قوانین اور اقدار کے منافی ہیں۔ پہلے پہل جب کسی حلقے کی جانب سے ان این جی اوز کی سرگرمیوں پر اعتراض کیا جاتاتو اس اعتراض کوان کے سرپرست بیک جنبش لب یہ کہہ کر مسترد کر دیتے کہ معترضین انسانی حقوق کی بحالی، مساوی نسوانی حقوق اور چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے خلاف ہیں اس لئے وہ فارن فنڈڈ این جی اوز اور ان کے عہدیداروں کی ’’کردار کشی‘‘ کر رہے ہیں۔ پسِ پردہ حقائق سے آگاہ اربابِ خبر و نظر جانتے ہیں کہ مذکورہ این جی اوز نے ملائیشیا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، سوڈان ،پاکستان اور افغانستان کو اپنا خصوصی ہدف بنا رکھا ہے۔ یہ این جی اوز مذکورہ ممالک میں ان کے حریف اور دشمن ممالک،دینی اقدار و مشرقی روایات کی مخالف قوتوں، عالمی طاقت اور بعض مغربی ممالک کے لئے باقاعدہ جاسوسی کا ’’فریضہ‘‘ بھی انجام دیتی ہیں۔ افغانستان اورپاکستان خطے میں ان این جی اوز کی خطرناک ترین سرگرمیوں کی جولان گاہ بنے ہوئے ہیں ۔ ان این جی اوز کے ’’پالنہار ‘‘ان دونوں ممالک کو اپنی پروردہ این جی اوز کے لئے’’ آسان ہدف ‘‘تصور کرتے ہیں۔ عالمی طاقت، عالمی ادارے اور مغربی ممالک کے دباؤ کا نتیجہ ہے کہ ان ممالک کی جمہوری حکومتیں بھی ان این جی اوز کی غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر جمہوری سرگرمیوں کا نوٹس لینے سے گریز کرتی ہیں۔ ان ممالک میں اگر کوئی ان این جی اوز کا محاکمہ اور محاسبہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو مغربی ممالک کے سفارتکار اس کی راہ مسدود کرنے کے لئے فی الفور سرگرمِ عمل ہو جاتے ہیں۔ ان ممالک کے منتخب کرپٹ حکمرانوں کے مرعوبانہ مزاج اور فدویانہ افتادہ طبع کے باعث ان این جی اوز کے حوصلے سربلند ہیں اور وہ غیر ملکی سرمائے کے ہتھیار کا استعمال کر کے ان ممالک میں معاشی دہشت گردی کی مرتکب ہو رہی ہیں۔
اس امر کے واضح شواہد ریکارڈ پر ہیں کہ بنگلہ دیش ، افغانستان اور پاکستان میں اکثر فارن فنڈڈ این جی اوز ارتدادی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ افغان طالبان حکومت کے خلاف بین الاقوامی رائے عامہ ہموار اور تیار کرنے کے لئے ان این جی اوز نے انتہائی گھناؤنا کردار ادا کیا تھا۔ وہ تو بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کے مصداق ورلڈ ٹریڈ سنٹر’’ نامعلوم دہشت گردوں‘‘ کی تخریبی کارروائی کا نشانہ بنا اور ان این جی اوز کو افغانستان میں مزید کھل کھیلنے کے مواقع میسر آئے۔ افغانستان میں ’بون معاہدہ ‘کے نتیجہ میں معرضِ وجودمیں آنے والی ’افغان عبوری ابراڈ بیسڈ بونی حکومت ‘کے سربراہ حامد کرزئی نے شروع شروع میں ان این جی اوز کو افغانستا ن کے طول وعرض میں ’’آقاؤں‘‘ کے دئیے گئے ایجنڈے کے تحت بلا روک ٹوک کام کرنے کی اجازت دی۔ اڑھائی برس کے مختصر عرصہ ہی میں افغانستان کی نگران حکومت پر حقائق آشکار ہو گئے۔ واضح رہے کہ 2003ء میں افغانستان کے وزیر منصوبہ بندی رمضان بچار دوست نے ایک فرانسیسی خبر رساں ادارے کو انٹرو یو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’یہ این جی اوز ہماری روایات کے مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں، سرمایہ کا صحیح استعمال نہیں کر رہیں اور نہ ہی ٹیکس ادا کر رہی ہیں، افغانستان میں کشیدہ ماحول پیدا کرنے میں غیر ملکی این جی اوز کا ہاتھ ہے‘‘۔یہی بات پاکستان کے بارے بھی کہی جا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ تک کہاکہ ’’یہ این جی اوز ہمارے امدادی کارکنوں کے لئے مشکلات پیدا کر رہی ہیں اور طے
شدہ حکمت عملی کے تحت اپنے مفادات کے لئے کام کرنے والے افغان ورکروں کو 500ڈالر ماہانہ ادا کر رہی ہیں جبکہ حکومت اپنے ملازمین کو 40ڈالر سے زیادہ تنخواہ دینے کی پوزیشن میں نہیں‘‘۔ نوبت باایں جا رسید کہ افغانستان کے وزیر منصوبہ بندی افغان وزیر نے ’’سرِ نہاں‘‘ کو ’’حدیثِ دیگراں‘‘ کا عنوان دیتے ہوئے انتہائی بے بسی اور بیچارگی کے مظہر الفاظ میں کہا ’’اب تو افغان ایسی این جی اوز کے ملک سے انخلاء کے لئے دعائیں مانگتے ہیں‘‘ ۔واضح رہے کہ افغانستان کی تعمیر نو کے لئے 2000ء میں ٹوکیومیں منعقدہ امدادی کانفرنس میں بعض ممالک نے کئی ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ بدقسمتی سے امداد دینے والے ممالک نے یہ امدا د افغانستان میں کام کرنے والی فارن پیڈ این جی اوز کے عہدیداروں کے سپرد کر دی۔ اس اقدام کا اِن این جی اوز نے ناجائز فائدہ اٹھایا۔اب اندھے ریوڑیاں بانٹ رہے تھے ۔ان این جی اوز میں سے بعض ملین ڈالرز کی یہ امداد خستہ و شکستہ، زخم زخم اور لخت لخت افغانستان کی تعمیر نو پر صرف کرنے کے بجائے افغانستان کی ’’اسپینا ئزیشن‘‘ پر خرچ کررہی ہیں۔ افغانستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ 1990ء تک پورے افغانستان میں ایک بھی چرچ نہیں تھا لیکن افغانستان سے سوویت روسی فوجوں کے انخلاء کے بعد جب سے’ تبشیری این جی اوز ‘نے کام کرنا شروع کیا ہے، کابل ایسے شہر میں بھی گرجوں کے سپائرل دکھائی دینے لگے ہیں۔ یہ این جی اوز مغربی ممالک کے ویزوں، پرکشش ملازمتوں، جنسی آزادی کے وافر ساز و سامان اور سنہرے مواقع کا لالچ دے کر محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے بھوکے، ننگے اور مجبور افغانوں کے افلاس کا استحصال کر رہی ہیں۔ یہی عمل پاکستان میں بھی دہرایا جا رہا ہے۔
یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ فارن فنڈڈ این جی اوزپاکستان اور افغانستان میں بالائی استحصالی طبقات سے تعلق رکھنے والے چند عہدیداروں کی ذاتی جاگیروں کا روپ دھار چکی ہیں۔ پاکستان میں ایک طویل عرصے تک اس ’’جاگیر‘‘ کی ’’تن تنہا ملکانی‘‘ اور ’’چودھرانی‘‘ آنجہانی عاصمہ جہانگیر رہیں۔ افواج پاکستان، عدلیہ ، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ان کی ہرزہ سرائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ انہوں نے تو زنجیریں توڑد کا نعرہ لگاکر پاکستان کی بین الاقوامی سرحدیں ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ زندگی بھر انہوں نے کبھی پاکستان کا یوم دفاع، یوم آزادی اور یوم قراداد پاکستان نہیں منایا لیکن وہ بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر واہگہ بارڈر پر بھارتی دانشوروں، فوجیوں اور این جی اوز کے عہدیداروں کے ساتھ جشن منانے کے لیے پہنچتی رہیں۔ اور تو اور پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کے جرائم کے مرتکب را کے ایجنٹوں کی وکیل صفائی بننے کے لیے بھی بے تاب رہیں۔ اسی پر بس نہیں بھارت جاکر وہ پاکستان اور مسلم دشمن دہشت گرد ہندو رہنماؤں بال ٹھاکرے اور نریندرا مودی سے بھی ملاقاتیں کرتی رہیں۔پاکستان مخالف رسوائے زمانہ تحریریں اور کتابیں لکھنے والے مصنف سے وہ دہلی جاکر ون آن ون ملاقاتیں اور کیمرا میٹنگز بھی کرتی رہیں۔ پاکستان میں پاک افواج کا دفاعی بجٹ کم کرنے کا مطالبہ بھی عاصمہ جہانگیر کی زیر قادت کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے بہ تکرار کیا جاتا رہا ۔
یہ ایک ناقابل تردید زمینی حقیقت ہے کہ پاکستان میں 1985ء کے بعد سے ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکی فنڈز سے ایسی این جی اوز قائم کی گئیں جن کا ایجنڈا فنڈ اور عطیہ فراہم کرنے والے ممالک کے ایجنڈے کو محض آگے بڑھاتے ہوئے قومی سلامتی، اتحاد اور استحکام کی دیواروں میں رخنے پیدا کرنا ہے۔ ایسی این جی اوز بارے باخبر اور باشعور شہری حلقے33برسوں سے انتباہ کرتے چلے آ رہے تھے کہ پاکستان میں ان کا وجود اور ان کی سرگرمیاں دین مخالف اور وطن دشمن عزائم و اہداف کی آئینہ دار ہیں۔ یہ امر پیش نظر رہے کہ 9/11 کے بعد ان این جی اوز کی مذموم سرگرمیوں میں خفی و جلی انداز میں خوفناک اور خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ کو چیلنج کرنے کی بھیانک کاوش اور مذموم سعی کی شکل میں سامنے آیا۔ عوامی اور شہری حلقے گزشتہ17 برسوں سے شد و مد کے ساتھ مطالبہ کرتے چلے آ رہے تھے کہ اگر وطن عزیز میں مسلکی، لسانی، صوبائی اور علاقائی انتہا پسندانہ رجحانات اور تصورات کے سیلاب کے راستے میں بند باندھنا ہے تو فارن فنڈڈ این جی اوز کے فنڈ کو مسدود کر دیا جائے اور جس طرح بعض تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا، ان پر بھی پابندی عائد کی جائے ، ان کے دفاتر کوسیل کیا جائے ، ان کے عہدیداروں کی ڈی بریفنگ کی جائے، ان کو موصول ہونے والے فنڈز کی تحقیقات کی جائیں کہ وہ کس مد اور مصرف میں صرف ہوتے رہے۔ قومی اسمبلی کے فلور پر بھی 2002ء کے بعد قائم ہونے والی حکومت کے دوران قومی اسمبلی کے ایوان میں ایک حکومتی ایم این اے نے مطالبہ کیا تھا کہ ایسی تمام این جی اوز کو ملنے والے فنڈز کا شفاف آڈٹ کیا جائے اور ان این جی اوز کو پابند کیاجائے کہ یہ بذریعہ سٹیٹ بینک آف پاکستان اپنے فنڈز وصول کریں تا کہ حکومت کے علم میں رہے کہ اِنہیں کون کون سے مغربی ممالک، ہمسایہ ممالک اور انٹرنیشنل ڈونر ایجنسیاں پاؤنڈز، یوروز، ڈالرز اور دیگر غیر ملکی کرنسیوں کی شکل میں کتنی امداد فراہم کرتی ہیں۔ یہ مطالبہ عوامی امنگوں کے عین مطابق ہے لیکن کسی حکمران نے اس پر کان نہیں دھرا ۔ یہ این جی اوز آج بھی کھلم کھلا غیر ملکی اور بالخصوص بھارتی ایجنڈے کے تحت کام کر رہی ہیں۔ غیر ملکی فنڈز وصول کرنے والی ان این جی اوز اور اُن کے ذمہ داران کو یہ حقیقت ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ وہ کسی بنانا ری پبلک میں کھل نہیں کھیل رہے بلکہ وہ دنیا کی ساتویں ایٹمی خود مختار ریاست کے حدود و دوائر میں رہتے ہوئے حکومت پاکستان کی خود مختاری، اختیارِ اعلیٰ اور حاکمیت اعلیٰ کو چیلنج نہیں کر سکتے۔ اُنہیں غیر ممالک سے ملنے والے ایک ایک پیسے کا حساب دینا ہو گا اور وزارت خزانہ اور وزارت داخلہ کو بتانا ہو گا کہ تقریباً 33 برسوں سے انہوں نے کتنی عالمی عطیاتی، خیراتی اور مالیاتی اداروں سے رقم وصول کی ہے، وہ اس کی ایک ایک پائی کا حساب دینے کے پابند ہیں۔

مزیدخبریں