دو دانہ ۔۔’آئی فون ‘۔۔ والی سرکاراور ہم نوا ۔۔۔!
11 مئی 2018 2018-05-11

یہ جون 2010ء کی بات ہے، نجی نیوز چینلز پاکستانیوں کے اذہان پر چھائے تو ہوئے تھے لیکن عمومی ٹاک شوز دیکھ دیکھ کر لوگ اکتا چکے تھے ،ریٹنگ لانا اور اپنے کردار سے لوگوں کے دلوں میں گھر کرنا ناممکنات میں سے تھا۔اور کراچی جیسے شہر میں جہاں ایم کیوایم سمیت دیگر متحارب لسانی گروپوں کی اجارہ داری سے لوگوں میں خوف کا سماں پایا جاتا ہووہاں لوگوں کی بدعنوانیوں کا پردہ چاک کرنا خودکشی سے کم نہیں تھا۔بڑے بڑے رپورٹرز کسی بدعنوان شخص یا دونمبر اداے سے متعلق بات کرنے سے کتراتے تھے ۔ناچیز ان دنوں لاہور کے نجی نیوز چینل میں’ جائزہ‘ کے عنوان سے رات دس بجے کا کرنٹ افئیرز پروگرام کیا کرتا تھا جس میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا تھا۔مجھے اس وقت میڈیا میں آئے ہوئے نصف دہائی کا عرصہ ہوچکا تھا ۔ میرے کریڈٹ پرکراچی سے آن ائیر ہونیوالے معروف نیوز چینل ’سماء‘ کی ابتدائی لانچنگ ٹیم کا حصہ ہونا بھی شامل تھا۔یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ سماء میرے کرئیر کے بہترین اداروں میں سے ایک ہے۔ایک دن میں لاہور کے معروف علاقے گلبرک کے ایک ہوٹل میں ظہرانہ کر رہا تھا کہ میرے اینالاگ موبائل(اس وقت اینڈرائیڈ فون خال خال ملتے تھے) پر برقی پیغام یعنی ایس ایم ایس کی گھنٹی بجی۔ یہ میسیج فرحان ملک صاحب کا تھا۔سی این بی سی پاکستان کے سربراہ ادارہ فرحان ملک صاحب کچھ عرصہ قبل ناچیز کے ساتھ سماء میں کام کرچکے تھے اور ٹیلنٹ کو درست جگہ استعمال کرنے کا اصولی موقف رکھتے تھے۔اس میسیج کے ذریعے انہوں نے ناچیز کو انٹرویو کے لئے بلایااور اگلے ہی روز میری ان سے ملاقات ہوگئی ۔ملاقات مختصر ضرور تھی لیکن بیانیہ بالکل واضح تھا ۔ انہوں نے مجھے ایک ’آوٹ ڈور‘ پروگرام کی آفر کی جو حالات حاضرہ یا سوشل معاملات سے متعلق تھا۔ وقت شام سات بجے تجویز کیا گیا اور ادارہ وہ تھا جس نے سما ء ٹی وی کو بنایا تھا ۔ اسے لوگ مدر آف سما ء یعنی ’سی این بی سی پاکستان‘ کے نام سے جانتے تھے۔ میری تنخواہ نہایت معقول مقرر گئی اور کچھ ہی دن بعد کراچی بلا لیا گیا ۔کراچی جیسا شہر، آوٹ ڈور پروگرام اورعام لوگوں سے حالات حاضرہ پہ محض براہ راست باتیں، ناچیز کو مزہ نہیں دے رہی تھیں۔ طبیعت چونکہ ایڈونچر پسند تھی اور تحقیقی صحافت اور حالات کو بدلنے کا جذبہ ناچیز میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہواتھا اس لئے میں اور میری ٹیم نے ’آوٹ ڈور‘ پروگرامز میں تحقیق کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے بنا کسی سکیورٹی بدعنوان چہروں کو بے نقاب کرنے کے لئے ’سڑک کنارے‘ کے نام سے پہلا تجربہ کیا۔ جو پاکستان کی تاریخ میں کراچی سے اپنی نوعیت کا پہلا ’رئیل ٹائم آوٹ ڈور انوسٹی گیٹو ‘پروگرام تھا۔ ناچیز کو معلوم نہیں تھا کہ اس پروگرام نے آنے والے دنوں میں پذیرائی کے ریکارڈ توڑتے ہوئے نیا رجحان متعارف کروا دینا ہے جسے لوگ کاپی کرنے لگ جائیں گے۔ فرحان ملک صاحب کو بطور سربراہ ادارہ میری ٹیم کی تحقیقی کاوش پسند آئی اور انہوں نے آئندہ پروگرامز کو انہی سطور پر گامزن رکھنے کی ہامی بھر لی۔ ہامی تو بھری ساتھ ہی کچھ سخت نصیحتیں بھی کرڈالیں ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ سی این بی سی پاکستان کے کانفرنس روم میں ناچیز کی ٹیم سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ’جمیل فاروقی ۔صحافت عبادت کا نام ہے ، تم لوگ جان پر کھیل کر ملک میں تبدیلی لانے کی سعی کر رہے ہو ، تمہیں بہت سی مشکلات کا سامنا ہوگا، تحقیقی جرنلزم کی اس پرخطر راہ میں بہت سی تکالیف آڑے آئیں گی ، پہلے اپنی جان کی پرواہ کرنا ، لوگ تمہیں خریدنے کی کوشش کریں گے ۔ لوگ تمہارے آگے دانہ ڈالیں گے ۔ تم بکنا نہیں ، تم پر الزامات لگیں گے تو جھکنا نہیں ، براوقت آجائے تو مٹی کھا کے گزارا کر لینا لیکن بدعنوانی سے دور رہنا ، جنہیں تم بے نقاب کروگے ، وہ تمہیں پھولوں کا ہار نہیں پہنائیں گے ۔ وہ یا تو تم کو خریدنے کی کوشش کریں گے یاپھرگولی مارنے کی ۔ دونوں صورتوں میں اپنے کردار کو بچانے کی کوشش کرنا ‘ ۔یہ وہ الفاظ تھے جو آج تک میرے ذہن پر نقش ہیں ۔ پروگرامز ہوتے رہے ، پذیرائی ملتی رہی ، ٹرینڈ سیٹ ہوتا گیا ۔ دوسرے مین سٹریم میڈیا کے لوگ کاپی کرنے کی کوشش کرتے گئے اور میڈیا پروان چڑھتا گیا۔ لیکن ناچیز نے اصولوں کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔کھلے عام دھمکیاں دی گئیں ۔ دفتر پر پتھراؤ کیا گیا ۔ گاڑیوں کو راستے میں روک کر گن پوائنٹ پہ ہراساں کیا گیا لیکن ناچیز اور پوری ٹیم نہ تو بکی اور نہ جھکی۔کیونکہ ہماری تربیت ہی ان سطور پر کی گئی تھی جو تحقیقی صحافت کی بنیادی اساس ہیں۔ بعدازاں ڈان نیوز پر ’خبردار ‘ کے نام سے تحقیقی شو کی بنیاد رکھی اور کرتا چلا گیا ۔ ادراہ شروع دن سے سپورٹ نہیں کر رہاتھا ۔ مسلسل کہا گیا کہ آپ نے سچ بولنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ۔ ڈرامہ کریں اور ریٹنگ لائیں ۔پھر کچھ ہی مہینوں میں ایک وقت آیا کہ ناچیز کومع ٹیم نوکری چھوڑنی پڑی ۔۔ کیونکہ ہم سسٹم کا حصہ بن کر نہیں چل سکتے تھے ۔ اصولوں پر سودا نہ کرنے کی سزا ۔ کئی مہینوں تک میں اور میری ٹیم نے بھگتی لیکن نہ تو بکے اور نہ ہی جھکے ۔ اور جب اندازہ ہو گیا کہ کارپوریٹ میڈیا کے کمرشل چینلز میں سوائے کرپشن اور دوست بچاؤ پالیسی کے اور کچھ نہیں ہوتا تو ناچیز نے اس طرح کے رسکی کام جس میں ادارہ ساتھ نہیں دے رہا تھا اسے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ۔
آج الحمدللہ میں ملک کے معروف ٹاک شو ’حرف راز‘ کا میزبان ہوں، صاف ستھری اور کھری صحافت کر رہا ہوں اور’ کنٹرول روم ‘ کے عنوان سے روزنامہ ’نئی بات‘ میں کالم لکھتا ہوں ۔ مطمئن بھی ہوں کہ حق حلال کی کمائی کے ساتھ درست سمت میں کام کر رہاہوں ۔آج بڑے بڑے چینلز پر صحافت کا علم تھامے کچھ صاحبان سوشلستان میں انقلاب برپا کرنے کے لئے پاکستانیت اور تبدیلی کا دعوی کرتے نہیں تھکتے ، ذرا ان سے پوچھیے کوئی کہ آپ پانچ پانچ سال سے بنا کوئی ٹھوکر کھائے ’تحقیقی‘ صحافت کر کیسے رہے ہیں۔جبکہ ناچیز کو علم ہے کہ اگر کسی نے ایک بھی ’ ستر فیصد ‘درست تحقیقی شو کیا ہو تو ا س کے لئے لاکھوں رکاوٹیں آتی ہیں ۔جان کی دھمکیان ملتی ہیں ، شو روک دیئے جاتے ہیں اور بیروزگار رہنا پڑتا ہے ۔ یہ کیسا جادو ہے کہ تحقیق کے نام پر ’ ڈرامائی‘ جرنلزم بھی جاری ہے ، کوئی روکتا بھی نہیں ، پیسے بھی پورے مل رہے ہیں ، شو بھی’ ٹناٹن‘ چل رہے ہیں ،گلیمربھی بڑھ رہا ہے ، تبدیلی کے نعرے بھی بلند ہو رہے ہیں ، جلسہ نما مہماتی جلوس بھی نکالے جا رہے ہیں لیکن آپ اپنی جڑوں پر قائم ہیں ۔ اس سسٹم میں دو طرح کے لوگ چل سکتے ہیں ، یا تو وہ جو سسٹم کا حصہ بن جائیں یعنی چھپ چھپا کے بکنے بکانے لگ جائیں یا وہ جو کبھی کبھار بکیں اور اکثر اوقات تحقیقی شو زکے نام پر ڈرامہ تشکیل دیں ۔بس ایسے لوگوں کی ہی بقا ہے ۔ سچا اور کھرا صحافی علاقے کے اس ایس ایچ او کی مانند ہوتا ہے جسے ایمانداری کی پاداش میں یا تو علاقہ بدر کردیا جاتا ہے ، یاگولی مار دی جاتی ہے یا بدعنوانی کا الزام لگا کر مستقل پتہ صاف کر دیا جاتا ہے۔ ثبوت نہ ہوں تو یہ سب مفروضے ہوتے ہیں اور اصل بات تک پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ لیکن سوشل میڈیا کے دور میں اب بچنا بہت ہی مشکل ہے ۔تحقیقی جرنلزم کو چھوڑیے صاحب ! عام اینکرز ایسے بول رہے ہیں کہ الامان والحفیظ ۔’ نیادن‘ کے نام سے پروگرام کرنے والے صاحب کا قصہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا ، موصوف ایک فون ٹوٹنے کے بدلے دو آئی فونز کا مطالبہ کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔’ دو دانہ آئی فونز والی سرکار‘ کی آڈیو کال وائرل ہوچکی ہے ۔ ناچیز کی
مصدقہ اطلاعات کے مطابق اِن صاحب کو بھی تحقیقی جرنلزم کے نام پر ’ ڈرامہ‘ کرنے والوں کی ’ ہم نوائی‘ لے ڈوبی ہے۔معاملات مل بیٹھ کر طے نہ کرنے کے غم نے یاروں کو دشمن بنا دیا ہے۔وعدہ کیا گیا تھا کہ مل کر ڈیل ہوگی اور موصوف نے جلد بازی میں پہل کردی ، اب بھگت رہے ہیں۔میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ موصوف کے نئے دن کی شام ہونے والی ہے کیونکہ فرحان ملک صاحب جیسے سربراہ ادارہ کی پالیسیوں سے میں واقف ہوں ، وہ صحافت کے نام پر لگے ایسے کلنک کے ٹیکے کو کبھی برداشت نہیں کریں گے اور کچھ ہی دنوں میں ایکشن ہوتا ہوا دکھائی دے گا۔ ایک ادنی سے صحافی کی حیثیت سے میں ان سے امید کرتا ہوں کہ جرنلزم کے ان نووارد ’چوزوں‘ کی تربیت میں کسر نہ چھوڑیں ورنہ ہم تو کیا کوئی بھی میڈیائی دانشوروں کی تیزی سے گرتی ہوئی ساکھ کو بچا نہیں پائے گا۔اور نووارد اینکردوستوں سے بھی استدعا ہے ، دوستو ! آپ کے لئے آپ کا کردار سب سے اہم ہونا چاہیے ، مشکلوں سے جیتنا سیکھیں ، محنت سے اپنے راستے بنانا سیکھیں ، شارٹ کٹ کے چکر میں نہ پڑیں ۔ آپ کی محض ایک غلطی آپ کے کرئیر کو تباہ کر سکتی ہے ۔ صحافتی اداروں کے سربراہوں کو بھی اس مد میں تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کرنا چاہیے تاکہ اینکرز کی نئی پود مثبت راہوں پر گامزن کی جاسکے۔ صاف ستھری صحافت زندہ باد ، پاکستان پائندہ باد


ای پیپر