رہنما ضروری ہے منزل کے لیے!
11 مئی 2018 2018-05-11

پاکستان کا المیہ ہے کہ آج اس ملک میں اعلی پایہ کا سیاستدان ندارد ہے ؛ مختلف روایتی سیاسی جماعتوں پر نظرڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ عام اوسط سے بھی نیچے کی ذہانت و دانش رکھنے والیبڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما ہیں۔ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کیونکہ زیادہ تر اسی طرح کی سیاسی جماعتوں سے اوپر آ رہے ہیں تو ان کے معیار کا بھی ان کی کارکردگی سے اندازہ ہو جاتا ہے ۔ بدقسمتی ہے اس ملک کے عوام کی رہنمائی کرنے والے سیاسی لیڈران انتخابی سیاست کے ماہر ہیں لیکن انقلابی ، رفاحی اور جمہوری سیاست کے قائل نہیں۔ اکثر کی قسمت میں خاندان، وراثت اور وصیت کی موجودگی ان کی سیاست میں براہ راست قیادت کی وجہ بنی ہے ۔ ایک سیاسی لیڈر جو ازخود کبھی سیاسی کارکن نہیں رہا ہو ، عوام کے بنیادی معاملات اور ضروریات زندگی کے تجربات سے نہ گزرا ہو، مسائل اور ان کے حل کیلئے عملی جدوجہد یعنی سرکاری دفتروں کے دھکے نہ کھائے ہوں، وہ کیسے عوام کی نمائندگی کا دعویدارہو سکتا ہے ۔
اپنے اپنے مینڈیٹ کا سب تذکرہ کرتے نظر آتے ہیں ، وہ بھی جو حکومت میں ہیں اور وہ بھی جو اپوزیشن میں موجود ہیں۔ حکومت میں آنے والی پارٹی کا کام ہوتا ہے بلاتفریق سب کی خدمت کو یقینی بنانا اور تمام تر تعصبات سے بالاتر ہو مسائل کو حل کرنا لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایسا نہیں ہے ۔ اس وقت پاکستان میں جو جماعت وفاقی حکومت میں ہے وہ بھی اپوزیشن جماعت کی طرح جلسے جلوس کر رہی ہے اور جو جماعت صوبائی حکومت میں ہے وہ بھی اپنے شہروں میں جلسے جلوس کر ہے ہیں۔ دراصل ان تمام جماعتوں کے پاس عوام کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ؛ عوام کا غصہ ان سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی، سیوریج ، کچرا نہ اٹھنا، تعلیم ، صحت ، امن و امان ، روزگار سے متعلق ہے جس کا سامنا کرنے کے بجائے وفاق میں مسلم لیگ ن ، پی ٹیّ آئی اور پی پی پی بڑی ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایشوز پر سیاست کم اور ایک دوسرے کے رہنماؤں پر جھوٹے سچے الزامات لگا کر ہیرو اور ولن والی سیاست کر کے کام چلا رہے ہیں؛ اسی طرح صوبائی سطح پر ڈرامہ بازی بھی عروج پرہے؛ کراچی ، حیدرآباد، لاڑکانہ، دادو، خیرپور، نوابشاہ، سکھر، میرپورخاص ، تھرپارکرکے عوام نے پی پی پی اور ایم کیو ایم پی کے لیڈران کی اچھی خاصی درگت بنانی ہے جس طرح انہیں گزشتہ پانچ برسوں سے بنیادی سہولیات سے محروم کیا ہے لیکن یہاں بھی ہوشیاری کہ ایکدوسرے پر الزامات کے بوچھاڑ اور لسانیت، عصبیت اور نفرت کا سہارا لے کر ایک دوسرے پر سبقت لے جا کر نیچا دکھا نے کی کوشش۔ جمہوری دنیا کا اصول ہے الیکشن سے قبل اقتدار میں بیٹھی سیاسی جماعتیں اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کرتی ہیں ، اپنے کارنامے گناتی ہیں اور کیا نہیں کر سکے وہ بھی بتلاتی ہیں، چاہے وفاقی، صوبائی یا بلدیاتی حکومت ہو۔۔۔لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ سندھ میں دونوں جماعتوں کے پاس کورے کاغذ ہیں اور کارکردگی میں دونوں کو ’’زیرو‘‘ نمبر ملیں گے اسی لئے ’’جاگ جاگ ‘‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ اب بھلا جہاں رات بھر بجلی نہ ہو ، پانی نہیں آتا ہو، کچرا نہ اٹھتا ہو، سیوریج کا نظام خراب ہو، وہاں ’’سو کون رہا ہے بھائی صاحب؟ جسے آپ لوگ جگانے چلے ہیں‘‘۔۔۔ نیند آ کیسے سکتی ہے گھر کے بڑوں ، بچوں، بیمار، بزرگ، خواتین یا معذور شہریوں کو ، معاشی پریشانی ، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کے تباہ حال انتظامات ۔۔۔ ایسے میں سو کون رہا ہے ، سکون اس ملک میں اور اس شہر میں
خصوصا کس کے پاس ہے بھائی صاحب؟ جسے آپ کہہ رہے ہیں کہ ’’جاگ جاگ‘‘۔ ارے پہلے ان کے سکون کا انتظام کریں تاکہ یہ آرام کر سے سو سکیں اور ’’نیند‘‘ کیا ہوتی ہے اس کے مزے لے سکیں ،ان کے مسائل حل کر کے دیں تب جا کر انہیں آواز دیں... جاگ جاگ۔
عوام تو الیکشن والے دن کوتاہی نہیں کرتے اور اپنی پسند کی پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں؛ اس طرح مینڈیٹ اس پارٹی کا مانا جاتا ہے لیکن ’’یہی پارٹیاں 5سال تین سو چونسٹھ دن تک اس مینڈیٹ کے نہیں ہوتے‘‘ ۔۔۔ چھوڑ دیتے ہیں اذیت بھگتنے کیلئے مینڈیٹ کو۔۔۔ ڈرامہ شروع ہوتا ہے اور پھر پانچ برس تک عوام اس کی مختلف قسطیں دیکھتے ہیں اور الیکشن سے پہلے پھر وہی سیٹ ، وہی سین، وہی اداکار، اور حد تو یہ ہے کہ وہی ڈائیلاگ ۔۔۔ روٹی ، کپڑا ، مکان ؛ کوٹہ سسٹم ، صوبہ، قرض اتارو ملک سنوارو، تبدیلی ، نیا اور دونہیں ایک پاکستان وغیرہ وغیرہ۔ کہیں سے مجال ہے سکرپٹ تبدیل ہو کیونکہ ہم عوام انہیں ایسا کرنے دیتے ہیں۔ ہم شاید ان سیاسی لیڈران کو نہیں جانتے لیکن یہ ہمیں خوب جانتے ہیں، ہماری نفسیات سے خوب واقف ہیں، ہمارے جذبات اور جذباتی رومانویت کھوکھلے نعروں کے ساتھ طلسماتی دنیا کے خواب دکھا کر ہمارے ذہنوں پر تالے لگا دیتے ہیں اور پھر ہم سوچے سمجھے بغیر ان ہی لوگوں کو اپنا ووٹ ڈال دیتے ہیں۔ جب آئین انسانی حقوق کی بات کر رہا ہے تو ہم لسانی و علاقائی حقوق میں کیوں الجھے ہوئے ہیں؟ کیا انسانیت کی جدوجہد لسانیت کی جدوجہد سے بڑی نہیں؟ اور لسانی حقوق کی بات تو میدان فن و ثقافت میں ہو سکتی ہے ، لیکن معاف کیجئے گا انتظامی اور سرکاری سیاسی معاملات میں یا سروس ڈیلوری کی جب بات کی جائے یعنی پینے کے صاف پانی کی فراہمی ، سیوریج کا نظام ، کچرا اٹھانے کا کام، تعلیم اور صحت وغیرہ تو ان بنیادی سہولیات میں انسانی حقوق کی بات کی جائے گی یا عصبیت کی بنیاد پر لسانی حقوق کی ؟ اور پھر یہ کیسے طے ہو گا کہ پینے کا صاف پانی صرف کسی مخصوص زبان بولنے والے کے گھر تو جائے گا لیکن دیگر لسانی اکائیوں کو اپنا کوئی اور انتظام کرنا ہو گا! کیا سمجھ میں آنے والی بات ہے دوستو... کچر اٹھانے پر بھی یہی فارمولا آزمائیں گے کیا؟ انسانیت اور انسانی حقوق پر لسانیت اور لسانی حقوق کو فوقیت کیسے دی جا سکتی ہے ؟ تفرقہ ، عصبیت، نفرت، تقسیم کی صرف بات کرنے سے ہی اللہ کی رحمت ختم ہو جائے گی اور عذاب نازل ہو گا۔مینڈیٹ کی کہانی الیکشن تک ٹھیک ہے ...مینڈیٹ تو آپ کا ہوا لیکن افسوس کہ آپ ہی اس میندیٹ کے نہیں۔
جب انتخابی سیاست کرنے والی سیاسی جماعتوں کے پاس عوام کو اپنی کارکردگی دکھانے کیلئے کچھ نہیں ہوتا تو وہ اپنی نااہلی،ناکامی اور دیگر کمزوریوں کو چھپانے کیلئے عوام کو جذباتی، رومانوی باتوں اور دلکش نعروں میں الجھا دیتے ہیں اور لسانیت و تعصب بنیاد رکھی جاتی ہے جو نقصان دہ اور خطرناک کھیل ہے ۔پچیس تیس برس سے لڑتے رہے، آپس میں بھی اس لڑائی نے کئی نوجوانوں کی قیمتی جانیں لی ہیں، اس کے محرکات پر زیادہ بحث نہیں کرتے لیکن اتنا ضرور یاد رکھا جائے کہ تاریخ میں کون کس وقت کہاں کھڑا تھا اور اس عرصہ میں قوم کے حقوق دلانے میں کس نے کیا عملی کام کیا ہے ؟ کراچی اور حیدرآباد کے میئرز کی کارکردگی باں نے تو کچھ نہیں؛ اسی طرح صوبائی حکومت کے پاس بھی شہری و دیہی علاقہ کے عوام کو اچھی رپورٹ پیش کرنے کیلئے کچھ نہیں؛ روٹی ، کپڑا ، مکان ، تعلیم ، صحت اور روزگار کا وعدہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل ۳۸ (ڈی) میں موجود ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری ریاست یعنی وفاقی اور صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے ۔ اگر دس برس حکومت کرنے کے بعد کوئی سیاسی جماعت روٹی ، کپڑا اور مکان غریب اور نادار افراد کو نہ دے سکی ہو تو اس کا مطلب وہ ایک ناکا م حکومت کر کے فارغ ہوئی ہے ۔
دوسری جانب پاکستان میں ایک آوارہ سیاسی جماعت ایسی ہے جو عجیب بے سروپا نعرے لگاتی ہے اور پھر شاباش ہے ہم جیسے لوگوں پر بھی کہ ہم ان نعروں کو بھرپور طریقہ سے دل سے لگا کر دفاع کر تے رہے ہیں جیسے کہ ماضی میں کہا گیا ’’ منزل نہیں رہنما چاہیئے‘‘ اس کا حشر دنیا نے دیکھ لیا کہ اور دیکھ رہی ہے ؛ آج پھر اس اسٹیج سے ایک اور کم عقلی کا جذباتی نعرہ لگا ہیکہ ’’ہمیں رہنما نہیں منزل چاہئے‘‘؛ دنیا بنانے والے نے ایک نظام بنایا ہے جس میں رہنما کی ضرورت ہے منزل کی راہ دکھانے ، منزل کا پتہ بتانے اوریہاں تک کہ منزل پر پہنچ کراعلان کرنے کیلئے کہ منزل آ گئی ہے !دنیا کی تمام جدوجہد، تمام تحریکوں اور تمام سیاسی جماعتوں نے اس اصول پر چل کر کامیابی حاصل کی ہے ۔ سوچیں کہ اگر رہنما ہی نہیں تو راستہ بھی نہیں، پھر تو ایک آوارہ گروہ ہے اور اس کے پیچھے چلنے والا دراصل ٹرک کی لال بتی کے پیچھے چل رہا ہے ... ویسے ناکام نام نہاد لیڈران اپنے بارے میں تو ٹھیک ہی فرما رہے ہیں اور دراصل سمجھا رہے ہیں ، ’’ جاگتے رہنا ، میرے آسرے پر مت رہنا‘‘۔
ہر حال میں انتخابات وقت پر ہونے ضروری ہیں ، عوام کو ان کرپٹ اور نااہل افراد سے جمہوری انداز میں نجات حاصل کرنے کا بہترین راستہ آنے والے انتخابات ہیں۔ آپ اپنی تقدیر کا فیصلہ کم از کم ایک بار جذباتی رومانس سے باہر آ کر سوچ سمجھ کر کریں، آنے والی نسلوں کی بقا اور پاکستان کی ترقی کا سوال ہے ۔ تیس برس والی دکان کے پاس تو اب بیچنے اور آواز لگانے کو کچھ نہیں... فیصلہ کا اختیار ایک بار پھر آپ کے ہاتھ میں۔ جتنا وقت ہم جوتے، چوڑیاں، کپڑے خریدنے میں لگاتے ہیں اور ایک کے بعد ایک چیک کر تے ہیں کہ کون سا آرام دہ ہے اور جچ رہا ہے کہ نہیں ؛ کم از اکم اتنا وقت تو امیدوار کو ووٹ ڈالتے ہوئے سوچ لیں کیونکہ آگے پانچ برس آپ کی نمائندگی کی اس کی ذمہ داری ہو گی۔ اگر ایسا ہو گیا تو پھر یقین جانیں کہ معاملات کی درستگی کی جانب پہلا قدم اٹھ گیا۔ آخری بات کہ سیاسی جماعت کو ہی اگر پسند کرنا ہے تو اس کے لیڈر کو ضرور دیکھیں اور پرکھیں ؛ کیا اس نے کبھی عوعام سیاسی ورکر کی طرح کام کیا ہے ؟ کیا وہ خود کبھی کونسلر رہا ہے ، ایم پی اے ، ایم این اے رہا ہے ؟ کیا عوامی خدمت کی نرسری یعنی بلدیاتی کاموں میں اس کا کبھی کوئی کردار رہا ہے ؟ کیا وہ عام آدمی کے مسائل تعلیم ، صحت، روزگار، ٹرانسپورٹ وغیرہ جیسے معاملات میں ذاتی تجربہ رکھتا ہے اور ان مسائل کے حل کیلئے اس کی کوئی خدمات ہیں؟ کیا وہ آپ کے درمیان ہے ، آپ جیسا لگتا ہے ؟ سب سے بڑھ کر پاکستان کے عام انتخابات ہیں تو کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ہم ان قابضین کو ووٹ کی طاقت سے کڑا اور واضح پیغام دیں کہ ’’بس اور نہیں‘‘ اور پنجاب، سندھ، بلوچستان یا خیبرپختونخوا کے بجائے پاکستان کا لیڈر منتخب کریں جو اس منتشر قوم کو ایک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ایک قوم ، ایک ملک، تو پھر ایک لیڈر جو اس ملک میں واقعی صحیح معنوں میں سیاسی، فلاحی اور تعمیری انقلاب کا آغاز کر نے کی اہلیت و قابلیت رکھتا ہو۔


ای پیپر