تھے ہم ’’جن‘‘ کے سہارے ۔۔۔ ؟
11 مئی 2018 2018-05-11

ہم تھے ’’ جن ‘‘ کے سہارے ۔۔۔
وہ ’’ہوا‘‘ نہ ہمارا ۔۔۔
آپ کہیں گے اک پرانے گانے کا بیڑا غرق کر دیا ۔۔۔؟ یہ ’’ جن ‘‘ تھوڑا ۔۔۔ لوگوں کا بیڑا غرق کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ آج تو لکھنے والے بچوں کے لیے سائنسی کہانیاں بھی لکھ رہے ہیں۔ کچھ اچھے انداز میں محمد فہیم عالم کے سے انداز میں لکھ رہے ہیں اور ہر سال سیرۃ النبیؐ ایوارڈ بھی وصول کرتے چلے جا رہے ہیں ۔۔۔ یہ محمد فہیم عالم اصل میں مزاح لکھنے کے لیے پیدا ہوا ہے مگر اس کے اندر ایک مذہبی ’’نہایت طاقتور‘‘ لکھاری بھی موجود ہے یہ شخص نہایت نازک مزاج ہے ان شاء اللہ بہت سی اعلیٰ پایہ کی مذہبی تحریریں بھی لکھے گا ۔۔۔ قصور کی مٹی بڑی زرخیز ہے ۔۔۔! ہے ناں محمد فہیم عالم ۔۔۔ !! بہت اچھے لکھاری اور ’’جذباتی‘‘ انسان علی اکمل تصور بھی شہر قصور سے تعلق رکھتے ہیں اور ’’وہ‘‘ بھی آجکل قصور میں ہی قیام پذیر ہیں؟ ۔۔۔
ایسے جیتے جاگتے لکھاریوں کی جیتے جاگتے کرداروں سے پہلے ’’بہت زیادہ طاقتور‘‘ کرداروں کے گرد کہانیاں گھومتی تھیں ۔۔۔ مجھے نہیں یاد میں نے بچوں کے آج کے سب سے بڑے لکھاریوں نذیر انبالوی، احمد عدنان طارق، علی اکمل تصور یا اسلم ناز کی کوئی بھی ’’جنات پریوں یا دیّو‘‘ کے حوالے سے کہانی پڑھی ہو۔ یہ کامیاب بچوں کے ادب کے اہم ستون بچوں کو بہت کچھ کر گزرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ مرزا ادیب اور اے حمید بھی سچے جیتے جاگتے کرداروں کے حوالے سے ہی لکھا کرتے تھے ، اشتیاق احمد مرحوم کا اپنا ایک الگ ’’فیلڈ‘‘ تھا ۔۔۔ نذیر انبالوی، احمد عدنان طارق اور علی اکمل تصور کی اپنے اپنے انداز میں تحریروں پر گرفت بھی ہے اور بچوں پر اثر کرنے والا ’’سٹائل‘‘ بھی ہے۔ مگر محمد فہیم عالم ذرا ’’وکھری ٹائپ‘‘ کا لکھاری ہے ۔۔۔ بات شروع ہوئی تھی ’’ جن ‘‘ سے ۔۔۔ ہم کو تو ’’بچوں کی دنیا‘‘ کے لکھاریوں نے ’’جنات‘‘ سے ڈراتے ہوئے بڑا کر دیا۔ ہم جنات کے بڑے بڑے ناقابل عمل کارناموں میں کھوئے رہتے یا حسین و جمیل ’’پریوں‘‘ کی دلکش لبھا دینے والی باتوں میں گم ۔۔۔ سچ ہے ناں کہ ہم ۔۔۔
’’ ہم تھے ’’ جن ‘‘ کے سہارے ۔۔۔ آج ڈائجسٹ پڑھنے والے ایسی تحریریں پڑھ کے خوابوں میں کھوئے رہتے ہیں ۔۔۔؟
میں روزانہ گزرتا اور وہ آٹھویں نویں کا لڑکا مجھے اکثر ’’گیم‘‘ والی دکان پر پوری دلجمعی کے ساتھ گیم کھیلتا دکھائی دیتا ۔۔۔ میں سوچتا کہ اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔۔۔؟!! اس کے گھر والے کہاں گم ہیں یا اسے سکول کالج یا کتاب سے کوئی دلچسپی نہیں؟ اس کا مستقبل کیا اس ’’گیموں‘‘ والی دکان سے ہی وابستہ ہے؟ (جیسا کہ آجکل لاکھوں نوجوان لڑکے لڑکیاں فیس بک سے رشتہ جوڑے بیٹھے ہیں دنیا سے، گھر والوں سے، دوستوں سے بے خبر؟) بڑا ہو کر یہ مناسب شکل و صورت والا بچہ کیا ۔۔۔ ’’بڑا ہو کر ایسی ہی دکان کھول کر بیٹھ جائے گا اور یہ ہی اس کا اوڑھنا بچھونا ہو گا؟ ۔۔۔ ’’ہیرے‘‘ کی طرح‘‘ ۔۔۔
’’ہیرا‘‘ میرا کلاس فیلو تھا اور ہم سب سے زیادہ لائق فائق ۔۔۔ ہمارے بارے میں سب کو پتہ تھا کہ ہم خیر سے علم و ادب سے دور دور ہیں، ہم کوئی بزنس کر کے زندگی گزار لیں گے یا ’’مونگ پھلیاں، چلغوزے بیچ کر‘‘؟ ۔۔۔ کلاس میں اکثریت ایسے دوستوں کی تھی جو ’’پائیلٹ‘‘ بننے کا خواب دیکھتے تھے یا پھر ۔۔۔ وہی ۔۔۔ جی جی ۔۔۔ آپ کا اندازہ درست ہے ’’ڈاکٹر‘‘ بن جانے کا شوق ۔۔۔ آج جتنا قوم ان ڈاکٹروں سے پریشان ہے؟ ! اکثر ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں یا ہڑتالوں پر رہتے ہیں ۔۔۔؟ سنا ہے دو کروڑ کے قریب ہنر مند پاکستان سے دور پاکستان سے ڈگریاں لے کر دوسرے ممالک میں ’’غریب اور دکھی‘‘ عوام کی خدمت میں مگن ہیں ۔۔۔ کاش چیف جسٹس آف پاکستان اس انوکھے موضوع پر بھی کوئی ’’حکم‘‘ جاری کریں تا کہ جن کو اعلیٰ تعلیم دلوانے پر حکومت پاکستان نے اربوں ڈالر خرچ کر ڈالے اور وہ ڈگریاں ملتے ہی ڈالر کی تلاش میں اپنے گھر والوں سے، اپنے ملک سے دور جا بسے۔۔۔
’’ہیرا‘‘ ہم سب سے زیادہ ’’ذمہ دار‘‘ ۔۔۔ طالب علم تھا اور اُس کے خواب بھی بڑے بڑے تھے ۔ ہم نے انگریزی ’’باقاعدہ‘‘ چھٹی کلاس سے شروع کی ۔۔۔ ’’ہیرا‘‘ چھٹی کلاس میں انگلش اخبار پڑھتا اور باقاعدہ ’’آرٹیکل‘‘ لکھتا اور ہم ’’جنات‘‘ ’’پریوں‘‘ کی کہانیاں پڑھنے والے ’’ہیرا‘‘ کی ’’جگت بازی‘‘ کا نشانہ بنتے ۔۔۔ وہ ہمیں ’’پنجابی میڈیم‘‘ کہہ کر خوش ہوتا ۔۔۔ ’’ہیرے‘‘ نے اپنے والد کے جنرل سٹور پر پڑھائی سے فارغ ہو کر والد کا ’’ہاتھ بٹانا‘‘ شروع کر دیا ۔۔۔ میں نے کئی بار ہیرے کے باپ کو اس ’’سنگین‘‘ غلطی سے روکا ’’ہیرے‘‘ کو بھی سمجھایا مگر ۔۔۔ ’’ہماری کون سنتا ہے؟‘‘ ہم سب اچھے نمبروں سے پاس ہو گئے اور ’’ہیرا‘‘ دو مضامین میں ’’فیل‘‘ ۔۔۔
میں نے ایک دن دکان کے پاس سے گزرتے ہوئے اُس لڑکے کو بلایا اور پیار سے پوچھا ۔۔۔ ’’بیٹا ۔۔۔ یہ تم یہاں ہر وقت ’’گیم‘‘ کھیلنے میں کیوں مصروف رہتے ہو‘‘ ۔۔۔ وہ ہنس پڑا ۔۔۔ ’’انکل کسی دن بتاؤں گا‘‘ ۔۔۔ بات آئی گئی ہو گئی ۔۔۔ ایک دن میں نے پھر سے اُسے روکا ۔۔۔ ’’بیٹا ۔۔۔ تم کہاں رہتے ہو ۔۔۔ میں تمہارے باپ سے ملنا چاہتا ہوں ۔۔۔ تم اپنا قیمتی وقت کیوں ضائع کر رہے ہو ۔۔۔؟‘‘
’’انکل وہ ۔۔۔ وہ ناں میرے پاپا فوت ہو چکے ہیں میری والدہ بھی مجھے روکتی ہیں لیکن میرا ایک "AIM" ہے یہ گیم کھیلنے کا ‘‘ ۔۔۔؟
وہ کیا ۔۔۔؟ میں نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔
یہ جو گیم میں روز کھیلتا آپ کو دکھائی دیتا ہوں اس کے جس دن دس ہزار پوائنٹ میں نے مکمل کر لئے تو اُس دن Queen آئے گی اور مجھے آنکھ مارے گی ۔۔۔؟
میرے منہ سے ہنسی کا فوارہ پھوٹ نکلا۔۔۔
ابھی تک کتنے پوائنٹ ہوئے ہیں؟ میں نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔
7600 ہوئے ہیں ۔۔۔ بس جلد میں اپنی ’’منزل‘‘ پا لوں گا ۔۔۔ ( ہر عمل میں راستے اور منزلیں بدلتی رہتی ہیں انسان کی؟) ۔۔۔
ّّاُسی شام میں ’’گیم والی‘‘ دکان کے مالک سے ملا ۔۔۔ اور میں نے اُسے التجاء کی کہ کسی طرح ’’گیم‘‘ کو ایڈجسٹ کرو اور اس بچے کے دس ہزار پوائنٹ کرواو ۔۔۔
بھائی جان میں خود اس جنونی بچے کے بارے میں فکر مند ہوں ۔۔۔ وہ بولا اور میرے سامنے اُس نے گیم کے Digits کو چھیڑا اور گیم کو 7600 کی Base پر فکس کر دیا ۔۔۔
جمعہ والے دن مسجد میں نماز کے بعد میں نے سلام پھیرا تو اُس نے مجھے دیکھ لیا اور محبت سے سلام بھی کہا ۔۔۔ ہم دونوں جمعہ کے بعد باہر نکلے تو اُس نے نہایت پر جوش انداز میں بتایا ۔۔۔ ’’انکل ۔۔۔ میں نے دس ہزار پوائنٹ مکمل کر لئے تھے ‘‘ ۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔؟ Queen کا؟ ۔۔۔ میں نے ہنستے ہوئے پوچھا ۔۔۔
وہ زور سے ہنسا ۔۔۔ جی ۔۔۔ جی ۔۔۔ انکل اُس نے پوائنٹ پورے ہونے پر ’’آنکھ ماری تھی‘‘ ۔۔۔ اُس نے شرماتے ہوئے کہا ۔۔۔
بیٹا ۔۔۔ یہ Computerized گیم ہیں ان کو ’’گیم‘‘ والا اپنی مرضی سے اس کی Stages طے کرتا ہے وہ چاہے تو دو منٹ میں دس ہزار پوائنٹس کر ڈالے ۔۔۔؟ اور اگر اُس کی نیت خراب ہو تو مدتوں لگ جائیں اور راستہ سجھائی نہ دے ۔۔۔؟
’’جی جی ۔۔۔ انکل مجھے بھی اس Trick کا پتا چل گیا ہے اب میں محنت سے پڑھ رہا ہوں اور آپ مجھے کبھی نہیں دیکھیں گے اس ویڈیو کی دکان پر‘‘ ۔۔۔ میں ان کی چالبازیاں سمجھ چکا ہوں ۔۔۔
’’شکر ہے تم بات کی تہ تک پہنچ گئے، خوش رہو میرے پیارے بیٹے‘‘ ۔۔۔ میں چلنے لگا تو اُس نے مجھے روکا اور بولا ۔۔۔
انکل وہ ۔۔۔ بابا جی تھے ناں ۔۔۔ اُنہیں روز خواب میں گدھے فٹ بال کھیلتے دکھائی دیتے تھے ۔۔۔ بابا جی ڈاکٹر کے پاس گئے اور اپنا عجیب و غریب مرض بتایا تو ڈاکٹر نے دوا دے دی اور دعویٰ کیا کہ ایک خوراک کے بعد آپ کو خواب میں گدھے فٹ بال کھیلتے دکھائی نہیں دیں گے ۔۔۔؟
دو تین دن بعد ڈاکٹر صاحب کی بابا جی سے سڑک پر ملاقات ہوئی تو ڈاکٹر صاحب نے حال چال پوچھا ۔۔۔؟!!
ڈاکٹر ۔۔۔ میں آج تمہاری دی ہوئی دوا کھاؤں گا کیونکہ گزشتہ رات گدھوں نے میرے خواب میں فٹ بال کا فائنل کھیلنا تھا اور میں نہیں چاہتا تھا میں وہ فائنل میچ ’’Miss‘‘ کروں ۔۔۔
ہم دونوں قہقہے لگاتے اپنے اپنے راستے کی طرف چل پڑے ۔۔۔


ای پیپر