سندھ ارسا سے مایوس
11 مئی 2018 2018-05-11

’’ ڈاکوؤں کے خلاف پولیس آپریشن ناکام کیوں ہوتے ہیں؟‘‘ کے عنوان سے روزنامہ ’’کاوش‘‘ لکھتا ہے کہ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ جب بھی انتخابات قریب ہوتے ہیں یا سیاسی افراتفری کا ماحول ہوتا ہے تو سندھ میں اغوا انڈسٹری سرگرم ہو جاتی ہے۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ صوبے میں اور خاص طور پر اس کے شمالی اضلاع میں متعدد افراد ڈاکوؤں کے پاس یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ ڈاکوؤں کے پاس راکٹ لانچر سے لے کر بھاری ہتھیار موجود ہیں۔ پولیس ان علاقوں میں مداخلت نہیں کرتی۔ گویا یہ علاقے جرائم کی سرپرستی کرنے والی اشرافیہ اور ان کی ’’ مجرم سپاہ ‘‘ کو مقاطع پر دیئے ہوئے ہوں۔ عوامی دباؤ کے تحت پولیس کبھی آپریشن کرتی بھی ہے تو وہ غلط منصوبہ بندی اور پولیس کی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کی وجہ سے ناکام ہو جاتا ہے۔ اور پولیس کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ایسا ہی ایک آپریشن تحصیل کندھکوٹ کے کچے کے علاقے میں درانی مہر پولیس کی حدود میں یرغمالیوں کو بازیاب کرانے کے لئے کیا گیا۔ اس آپریشن میں ضلع کے مختلف تھانوں کی پولیس اور چار اے ایس پیز نے بھی حصہ لیا۔ راکٹ لانچر کا گولہ لگنے سے کرمپور پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او علی حسن بکھرانی شہید ہو گئے۔ پولیس کی فائرنگ سے ایک مسلح ملزم لیاقت علی عرف اشرف جاگیرانی قتل ہو گیا۔ راکٹ لانچر کے فائر سے دو پولیس گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
اگرچہ سندھ میں جدید اور بھاری اسلحہ سازی کی کوئی فیکٹری نہیں۔ یہاں امن دشمن افراد کے پاس یہ بھاری اسلحہ کیسے پہنچتا ہے۔ جس کی وجہ سے امن دشمن افراد قانون کو یرغمال بنا ئے ہوئے ہیں۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جو جواب کا تقاضا کرتا ہے۔ دراصل جرائم سندھ کے بھوتاروں کی معیشت بنے ہوئے ہیں۔ جرم تب پروان چڑھتا ہے جب اس کی کسی نہ کسی سطح پر سرپرستی ہوتی ہے۔ سندھ میں جرائم جس سطح پر پہنچے ہوئے ہیں وہ کسی سرپرستی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ جہاں تک پولیس کا تعلق ہے، پولیس افسران کی تقرری اور تبادلے بھوتاروں کی مرضی سے ہوتی ہے۔ جو بھوتاروں کے پروٹوکول اور ان کی بادشاہی برقرار رکھنے میں مصروف رہتی ہے۔ جب ڈاکوؤں اور امن دشمن افراد کے پاس راکٹ لانچر اور جدید اسلحہ ہو، پولیس کے پاس بھی جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی ہونی چاہئے۔ لیکن پولیس اس سازو سامان سے محروم ہے۔ پولیس کو سیاسی مداخلت نے بھی تباہ کیا ہے۔ جب تک یہ سیاسی مداخلت ختم نہیں ہوگی تب تک پولیس تمام تر دباؤ سے آزاد ہو کر اپنی کارکردگی نہیں دکھا سکے گی۔
مسلح افراد کے خلاف پولیس کا یہ آپریشن ان لوگوں کو بازیاب کرانے کے لئے تھا جن کو زنانہ آواز میں ورغلا کر اغوا کیا گیا تھا۔ ان میں چار افراد ایک ماہ قبل کشمور سے اغوا ہوئے تھے۔ ان افراد کی بازیابی کے لئے صوبائی وزیرداخلہ اور آئی جی سندھ پولیس بھی واضح ہدایات جاری کر چکے تھے۔ پولیس نے معاملے کو اتنا طول دیا کہ ورثاء نے تنگ آکر مقامی سطح پر پنچایتوں کے ذریعے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی۔ پولیس نے معاملے کو اس وجہ سے بھی طول دیا کہ اغوا کاروں اور ورثاء کے درمیان ڈیل ہوتی ہے تو ان کا کام بھی سہل ہو جاتا ہے۔ وہ بااثر افراد جو یہ ڈیل کرانے میں مصروف ہیں ان کو گرفت میں کیوں نہیں لیا جاتا؟ دراصل یہ وہ لوگ ہیں جرم جن کی معیشت بنی ہوئی ہے۔ ان کی سرپرستی میں جرم پروان چڑھ رہے ہیں۔ پولیس کی صفوں میں کالی بھیڑوں کی موجودگی سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ محکمہ پولیس کو ان بھیڑوں سے بھی صاف کرنا ضروری ہے۔ افسوس سندھ کے لوگوں کی حالت پر ہوتا ہے جو اس حد تک اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہیں کہ ایک زنانہ آواز پر لالچ میں آکر اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن مہنگا سودا ہوتا ہے لہٰذا اس کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا ضروری ہوتا ہے۔ سندھ میں اسلحہ کی رسد کے تمام راستے بند ہونے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جرم کی سرپرستی کرنے والی اشرافیہ اور ان کی مجرم سپاہ میں بھی ہاتھ ڈالنا چاہئے۔
سندھ میں حالیہ دونوں زراعت کے لئے کیا پینے کے لئے بھی پانی کی قلت ہے۔ پانی کی صورت حال پر تمام اخبارات نے اداریے لکھے ہیں۔ اخبارات کا خیال ہے کہ 1991ء کے پانی کے معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا ہے۔ اور یہ بھی شکایت ہے کہ ارسا میں سندھ کے ساتھ انصاف نہیں کیا جارہا ہے۔
روزنامہ سندھ ایکسپریس لکھتا ہے کہ پانی سے متعلق سینیٹ کی کمیٹی کے اجلاس کی بعض رپورٹس سامنے آئی ہیں اس کے بعض پہلو نہایت ہی اہم ہیں۔ اس اجلاس میں ایک بار پھر ثابت ہوا کہ پنجاب 1991ء کے پانی کے معاہدے پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔مزید یہ کہ ارسا خواہ چاروں صوبوں کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے قائم کیا گیا ادارہ ہے لیکن اس ادارہ میں فیصلے ایک ہی صوبے یعنی پنجاب کی مرضی کے ہوتے ہیں۔ پانی کی حالیہ قلت کے دوران بھی ارسا نے پنجاب کے مفادات کے مطابق تقسیم کی۔ اس اجلاس کی تیسری اہم بات اس اہم ادارے میں موجود سندھ کے نمائندے اور حکومت سندھ کے کردار سے متعلق ہے۔ صوبے کو حصے کا پانی ہر حال میں ادا کرنا چاہئے تھا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس مرتبہ پانی کی تقسیم 1991ء کے معاہدے کے بجائے سہ رخی فارمولے کے تحت کی جارہی ہے۔ یہ اعتراف خو د ارسا نے کیا۔ آج سندھ بھر میں پینے کے پانی کی بھی شدید قلت ہے تب پنجاب کے چشمہ جہلم لنک کینال اور ٹی پی کینالوں میں پانی دیا جارہا ہے۔ سندھ کا مطالبہ ہے کہ موجود ہ صورت حال میں ان کینالوں میں پانی نہ چھوڑا جائے اور منگلا ڈیم بھرنے کے بجائے سندھ میں پانی کی قلت ختم کی جائے ۔ ارسا ہمیشہ یہی کہتا رہا ہے کہ پیرا 2 کے تحت پانی کی تقسیم اس لئے نہیں کی جاسکتی ، کیونکہ اس سے پنجاب کو نقصان ہے۔ اب جب سندھ کانقصان ہو رہا ہے، اس پر ارسا خاموش ہے اور معاہدے پر عمل کرانے سے گریزاں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ارسا سے پانی کی منصفانہ تقسیم کی توقع رکھنا فضول ہوگی۔ سندھ کو یہ معاملہ مشترکہ مفادات کی کونسل کے گزشتہ اجلاس میں رکھناتھا۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اگر ایسا کیا جاتا تو آج سندھ میں پانی کی یہ شدید قلت نہیں ہوتی۔ لوگ پینے کے پانی کے لئے پریشان ہیں۔ سندھ کو اپنے حصے کا پانی اتنی آسانی سے نہیں ملے گا، اس کے لئے قانونی، آئینی اور جدوجہد کے دوسرے طریقے اختیار کرنے ہوں گے۔


ای پیپر