اداروں کی غفلت یا کرپشن
11 مئی 2018 2018-05-11

جب ملک میں کرپشن عروج پر ہوتی ہے اورساتھ نظام کی خرابی انتہا تک پہنچ جائے تو عوام مسیحا کے منتظر ہو جاتے ہیں ۔ متحدہ مجلس عمل اور عوامی نیشنل پارٹی کی ناکام حکومت کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے تبدیلی کا نعرہ لگا کر عوام کو اپنی طرف متوجہ کیا اور خیبر پختونخواکی حکومت بنانے میں کامیاب ہو ئے چونکہ عمران خان نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کرپشن کا مرض پاکستان میں پھیل چکا ہے اور کرپشن کو ختم کرنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وعدے کیے تھے۔ اس لیے پاکستان تحریک انصاف کو کرپشن کے خاتمہ کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہیے تھے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا ۔اس کی زندہ مثال خیبر پختونخوا احتساب کمیشن کی ہے جب یہ ادارہ قائم کیا گیا اورKPK حکومت کے اپنے منسٹرز اور چیف منسٹر الزامات کی ذد میں آئے تو ادارے غیرفعال کر دیا گیا۔ اس سے صوبے میں کرپشن کے دروازے کھل گئے اور کرپشن کے سکینڈل سامنے آتے رہے ۔کبھی خیبر بینک تو کبھی معدنیات کی صورت میں اورکبھی کرک کے خام تیل کی غیر قانونی فروخت کی صورت میں ۔مگر ادارے نہ ہونے کی وجہ سے ان سکینڈلز پر تحقیقات نہ ہو سکیں جس کی بدولت آج صوبے بھر میں انتظامیہ کی غفلت اور کرپشن کے مختلف نوعیت کے سکینڈل منظر عام پر گردش کر رہے ہیں ۔جیسا کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے پنجاب حکومت سے انصاف فوڈ سکیورٹی پروگرام کے تحت دوسرے مرحلے میں 2285روپے فی بوری کے حساب سے گندم خریدی تھی اور صوبائی حکومت نے
لوکل منڈی سے بھی 2250روپے پر گندم خریدی۔دونوں کو ملا کر کل 175000بوریاں خریدی گئیں۔ صوبے کے 25اضلاع میں 7000 بوری فی ضلع کے حساب سے تقسیم ہونی تھی جس کی مالیت کم بیش 40کروڑ روپے بنتی ہے۔ اس گندم کو خریدے ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ خریدی ہوئی گندم کو محکمہ زراعت کے ضلعی دفاتر میں منتقل بھی کیا گیا ہے یعنی یہ گندم ضلعی دفاترکے سٹاک کی صورت میں موجود ہے لیکن صوبائی حکومت اور بیو روکریسی کے درمیان کشمکش نے غلے کو انسانوں کے کام آنے کے بجائے کیڑے مکوڑے کے حوالے کر دیا اور سٹاک شدہ غلہ کو پڑے پڑے کیڑا لگ گیا۔محکمہ زراعت کی جانب سے مختلف قسم کی ادویات کے استعمال کے باوجود کیڑے مکوڑوں کا خاتمہ ممکن نہ ہو سکا۔ صوبائی حکومت کی غفلت اور لاپروائی کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ جو غلہ عوام کے لیے خریداگیا تھاوہ مستحقین تک نہیں پہنچایا گیا اور کیڑے مکوڑوں کی نذر ہو گیا ۔جب ادرے کمزور ہوں اور نظام چلانے والے خود ہی بدنیت اور کام چور ہوں تو وہاں ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ۔ اسی طرح کا ایک اور کرپشن کا سکینڈل اربن پالیسی اینڈ پلاننگ یونٹ ( یو پی پی یو)میں منظر عام پر آیا ۔یو ایس ایڈ کے تعاون سے صوبے کے تین اضلاع پشاور،مالاکنڈ،اور ڈی آئی خان میں صفائی کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے یو پی پی یو کروڑوں روپے کا فنڈدیا گیاجس کا مقصد عوام کو صفائی کے متعلق شعور بیدار کرنا اور صفائی کی صورت کو بہتر بنانا تھا۔لیکن صوبے کے بیوروکریسی نے اشتہاروں کے نام پر کروڑوں اڑادیے ۔مگر نہ ہی عوام میں شعور بیدار کر سکے اور نہ ہی صوبے میں صفائی کی صورت حال بہتر بنا سکے۔صفائی کے حوالے سے میں یہ لکھتا چلوں کہ صفائی نصف ایمان ہے اس حوالے سے معاشرے میں رہنے والوں پر بھی اخلاقی فرض بنتا ہے کہ اپنے ارد گرد صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ رواج بن چکا ہوں کہ ہم اپنا فرض بھی حکومت کے کھاتے میں ڈال کر غفلت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ضلع کرک میں کروڈ آئل میں کرپشن کا کیس بھی ابھی تک التواء کا شکار ہے۔ادارے ریاست کے ستون ہوتے ہیں۔ ریاست اور معاشرے کے نظام کا دارومدار اداروں پر ہوتا ہے۔ اگر ادارے مضبو ط ہوں اور ایمانداری سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہوں۔ تو ریاست کانظام بھی بہترین طریقے سے چلتا ہے۔ اس سے جرائم اور کرپشن کا خاتمہ ہوتا ہے ۔لیکن اگر اداروں کو مفلوج کیا جائے یا اداروں کا خاتمہ کیا جائے تو اس سے کرپشن کے راستے کھل جاتے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت خیبر پختونخوا احتساب کمیشن کے نام پر اگر ایک آزاد ادارہ بناتے اور وزیر اعلیٰ اور وزراء جو الزامات کے زد میں آئے تھے ان کے خلاف ایک صاف اور شفاف کارروائی عمل میں لائی جاتی اور الزامات ثابت ہونے کی صورت میں سزاؤں کا تعین کیا جاتاتو کرپشن کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کو بھی خود احتسابی کی ضرورت ہے کہ کس حد تک وہ عوام کے ساتھ کرپشن کے خاتمہ کا کیا ہوا وعدہ وفا کر پائے ہیں یا نہیں اگر نہیں تو اس کے اسباب و وجوہات کیا ہیں اور کس طرح سے صوبے کو کرپشن سے پاک کیا جا سکتا ہے۔


ای پیپر