امریکہ اور ڈکٹیٹر مشرف کی پالیسیوں سے آزاد پاکستان
11 مئی 2018 2018-05-11

عرب نیوز کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اکتوبر2017ء میں کہا تھا کہ ’ وہ وقت گزر گیا جب پاکستان اپنی فوجی ضروریات پوری کرنے کے لئے امریکہ پر انحصار کرتا تھا، پاکستان نے چینی اور یورپی ہتھیار بھی اسلحہ خانے میں شامل کئے جبکہ حال ہی میں پہلی بار روسی جنگی ہیلی کاپٹر بیڑے میں شامل کئے گئے ہیں،ہمارے پاس چینی اور یورپی اسلحہ بھی ہے،ہماری فوج میں ہمارے پاس اہم امریکی اسلحہ کے نظام ہیں لیکن ہم لوگوں نے تنوع اختیار کیا ہے،ایک ذریعہ ختم ہو جائے تو دوسرے ذرائع کی جانب بڑھنے کے سوا چارہ نہیں ہوتا، اس میں زیادہ وسائل لگ سکتے ہیں لیکن ہمیں یہ جنگ لڑنی ہے اور اسی بات کے لیے ہم ان لوگوں پر زور دیتے ہیں ،جن سے ہم ملتے ہیں،دنیا کو پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو تسلیم کرنا ہوگا، پاکستان پر لگائی جانے والی ہر قسم کی پابندی نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متاثر کرے گی بلکہ اس سے خطے میں بھی عدم استحکام پیدا ہوگا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے معاملات میں بھارت کو شامل کرنے کی امریکی خواہش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے،ہم یہاں پر بھارت کا کردار نہیں دیکھتے، پاکستان امریکہ اور کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات یا شراکت چاہتا ہے، ہماری خواہش ہے کہ امریکہ کے ساتھ مل کر علاقائی اور عالمی مسائل کو حل کیا جائے‘۔
انہی دنوں سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اسلام آباد میں نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ’ امریکہ کو حقانی نیٹ ورک کے جتنے ٹھکانوں کا پتہ ہے، ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر ساتھ چلے، حقانی نیٹ ورک کی سرگرمیاں دکھائی دیں تو مل کر وہیں ملیامیٹ کر دیں گے، آرمی چیف نے کابل کے حالیہ دورے میں اشرف غنی کو یہی پیش کش کی تھی،
امریکی دباؤ آیا تو مشکل وقت میں چین، روس، ایران اور ترکی ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے، امریکہ سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے، اب ہم وہ کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں ہو گا، امریکہ جو چار آنے دے رہا ہے، بند کر دے تو بھی گزارا کر لیں گے، امریکہ کی افغان پالیسی ناقص ہے، امریکہ حقانی نیٹ ورک کی آڑ میں ہم پر دباؤ ڈالتا ہے، امریکہ پتہ لگائے ان کی موجودگی میں داعش افغانستان کیسے پہنچی، افغان مسئلے پر سول اور عسکری اداروں میں مکمل ہم آہنگی ہے‘۔
امریکیوں پر واضح ہوچکاہے کہ پاکستان ان کی غلام ریاست نہیں ۔ یہ ایک آزاد ، خودمختار ریاست ہے۔ اس کے اقتدار اعلیٰ اور قومی سلامتی کا تمام ممالک کو احترام کرنا چاہئے اور یہ حقیقت ان کے پیش نظر رہنا چاہئے کہ پاکستان کسی عالمی طاقت یا علاقائی طاقت کے لئے ترنوالہ بھی نہیں ہے بلکہ وہ دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی ریاست ہے۔ اس منظر نامے کو سامنے رکھتے ہوئے امریکی یہ نہ سمجھیں کہ پاکستان کو ان کی مالی یا اسلحی امداد کی محتاجی ہے۔ پاکستان اب محتاجی کی ان بیساکھیوں سے آزاد ہو چکا ہے۔ گزشتہ 4 برسوں میں حکومت پاکستان کی اقتصادی پالیسیوں نے ملک کو اس مقامِ تک پہنچا دیا ہے جہاں اب اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور داخلی معیشت کی مضبوطی اور استحکام کے لئے کسی بھی عالمی طاقت کی مدد کی ضرورت نہیں۔ امریکی جان لیں کہ پاکستان کو اپنے داخلی و خارجی استحکام و دفاع کے لئے امریکی مشروط امداد کی سرے سے کوئی ضرورت نہیں۔ چین، روس، ایران اور ترکی کی معاونت سے پاکستان کا داخلی و دفاعی نظام جہاں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے وہاں اس کے عوام کا مورال بھی بلند ہے۔ ہر ایک کے علم میں ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکہ نے بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے جو بیج 7 اکتوبر 2001ء کو افغانستان کے مختلف شہروں میں جدید میزائل اور بم پھینک کر بوئے تھے، آج ان زہریلے بیجوں کے تباہ کن اثزات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔ دہشت گردی کی یہ آگ پورے خطے میں بش کی ’’پیشگی حملے کی ڈاکٹرائن‘ اور امریکیوں کے توسیع پسندانہ ا عزائم نے بھڑکائی ہے۔ امریکہ اس جنگ پر ایک ہزار ستر ارب ڈالر خرچ کرنے کے بعد افغانستان میں قیام امن کو ممکن نہیں بنا سکا۔
حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی مسلط کردہ جنگ کے دوران ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی پالیسی کا مقصد پاکستان کے بہادر اور غیور شہریوں کو پست ہمت اور بزدل بنانا اور عالمی طاقت سے خائف کر کے ان پالیسیوں کے حق میں رائے ہموار کرنا تھا۔ مقام تشکر ہے کہ منتخب اور عوامی تائیدوحمایت کی حامل جمہوری حکومت ایسی پالیسیوں کو مسترد کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ امید ہے اب پاکستان امریکہ اور ڈکٹیٹر کی نقصان دہ پالیسیوں کی قید سے آزاد ہو چکا ہے۔ امریکی اقتصادی راہداری کے منصوبے پر جن تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں،وہ خلاف حقائق ہیں۔ پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام دینے والے امریکی حکام کو افغانستان میں موجود ہمارے مطلوبہ دہشت گردکیوں دکھائی نہیں دیتے، وہ کیوں افغان حکومت کو پابند نہیں کرتے کہ پاکستان کو مطلوبہ دہشت گرد اس کے حوالے کئے جائیں۔ یہ عجب مذاق ہے کہ دہشت گرد صرف وہی ہیں جو مبینہ طور پر پاکستان میں موجود ہیں لیکن افغانستان میں افغان حکومت کے زیر سایہ پاکستان کو مطلوب دہشت گرد جو وہاں بیٹھ کر پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی کے مرتکب ہو رہے ہیں، امن پسند ہیں۔ ان کے خلاف قرار واقعی کارروائی افغانستان میں موجود امریکی و نیٹو افواج کر رہی ہے اور نہ ہی افغان نیشنل فورسز۔


ای پیپر