اس بار میرے دیس کے مزدور مرے ہیں

11 مئی 2018

شکیل امجد صادق

وزیر خارجہ جناب احسن اقبال کو نارووال میں جلسہ کے اختتام پذیر ہوتے ہی عابد نامی نوجوان نے پستول کے فائر سے زخمی کر دیا۔ احسن اقبال مسلم لیگ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس وقت جب (ن) لیگ کڑے سیاسی اور احتسابی حالات سے گزر رہی ہے اور کئی رہنما (ن) لیگ سے کنارا کشی کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ احسن اقبال (ن) لیگ کے لیے ایک ستون کی سی حیثیت رکھتے ہیں ۔ دوسری اہم بات کہ احسن اقبال (ن) لیگ کے پرانے رہنما اور وفادار ساتھیوں کی لسٹ میں شمار کیے جاتے ہیں ۔ میں احسن اقبال کو آج سے پچیس برس پہلے کا جانتا ہوں۔ ایک وقت میں، میں احسن اقبال کا گرویدہ بھی ہو گیا تھا۔ جب انہوں نے 1996ء میں تعلیمی پالیسی مرتب کی تھی اور تعلیمی اصلاحات میں بہتری کا سوچا تھا۔ اس وقت احسن اقبال نے تعلیمی پالیسی کا از سر نو جائزہ لے کر 2010ء کا ٹاسک دیا تھا کہ 2010ء میں ملک کی تعلیمی حالت بہترین ہو جائے گی۔ اس وقت مجھے 2010ء بہت دور دکھائی دے رہا تھا مگر مجھے حوصلہ تھا کہ چلیں تعلیم میں بہتری آجائے گی۔ جب تعلیم میں بہتری آئے گی تو ملک بھی خود بخود بہتر ہو جائے گا کیونکہ میں فرسودہ نظام تعلیم اور پھٹیچر نصاب سے حد درجہ تنگ آ گیا تھا۔ میرے اندر خوشی کی حالت ایسی تھی جیسے سعادت حسن منٹو کے افسانہ ’’نیا قانون‘‘ میں تانگے والے استاد منگو کی تھی۔ خیر یہ ایک ثانوی بات تھی جوآپ سے شیئر کی جا رہی تھی۔ احسن اقبال کو گولی لگ گئی۔ تمام میڈیا پر شور مچ گیا اور کوریج کی انتہا ہو گئی۔ وزیراعلیٰ صاحب نے ایک منٹ کے اندر اندر ہیلی کاپٹر کو افراتفری ڈال دی کہ وزیر خارجہ کو لاہور کے سروسز ہسپتال میں ایڈمٹ کروایا جائے کیونکہ نارووال میں اچھا ہسپتال نہیں ہے۔ اللہ تیری شان ہے اور تو بے نیاز ہے۔ جس ہسپتال میں وزیر خارجہ کے پیٹ میں معمولی زخم کا علاج ممکن نہیں ہے وہ ہسپتال پورے نارووال کی عوام کا علاج کیسے کر سکتا ہو گا؟ اور دوسری بات کہ ہسپتال بنانے کس نے ہیں ؟ نارووال کا وزیر خارجہ بھی نارووال کے لیے یہ کام
سر انجام نہ دے سکا؟ دوسری بات سانحہ ماڈل ٹاؤن وزیر اعلیٰ کے گھر سے صرف ایک کلو میٹر کے فاصلے پر رونما ہوا؟ اور وزیر اعلیٰ کو یہ خبر گھنٹوں بعد ملی کہ ان کے پڑوس میں کیا ہوا ہے؟ ان کے لیے ایمولینس ، ان کے لیے اچھے ہسپتال کی آخر کیوں نہ آئی؟ کیا وہ بنی نوع انسان نہیں تھے؟ کیا وہ ہمارے مسلمان بھائی نہیں تھے؟ ان کے لہو کا قرض کن کے سر ہے؟ کیا وہ دہشت گردی نہیں تھی؟ چند دن پہلے میرے شہر اوکاڑا کے ، میری جنم بھومی کے ، میری ماں دھرتی کے چھ لوگوں کو بلوچستان کے لوگوں نے گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ یہ غریب مزدور مزدوری کی خاطر دیار وطن گئے تھے۔ یہ تو ایک پرائیویٹ فون کمپنی کا کھمبا نصب کر رہے تھے۔ ان کا تعلق نہ تو کسی دہشت گرد تنظیم سے تھا اور نہ ہی ان کی کسی سے کوئی سیاسی دشمنی اور سیاسی وابستگی تھی۔ یہ لوگ تو پیٹ کی دشمنی اور روٹی کی دشمنی میں مارے گئے۔ آخر ان کا قصور کیا تھا؟ صرف یہی قصور کہ یہ پنجابی تھے؟ ان کا تعلق پنجاب سے تھا؟ کیا پنجاب میں کوئی سندھی، کوئی بلوچی اور کوئی سرحدی موجود نہیں ہے؟ کیا پنجاب نے بھی کبھی تعصب سے کام لیا ہے؟ کیا پنجابیوں نے بھی کبھی سندھی، بلوچی، سرحدی اور مہاجر کو تعصب کی بناء پر گولیوں سے بھونا ہے؟ کیا یہ تعصب نہیں ہے؟ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟ کیا بلوچیوں کو سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں ؟ کیا بلوچستان کی دھرتی سونا اگلتی ہے؟ کیا ملکی معیشت بلوچستان کے سر ہے؟ کیا بلوچستان میں ڈیم زیادہ ہیں ؟ کیا بلوچستان میں بارشیں زیادہ ہوتی ہیں ؟ کیا بلوچستان میں کوئی اور آئین اور قانون ہے؟ کیا بلوچی مسلمان نہیں ہیں ؟ کیا بلوچی ایک خدا اور اس کی آخری کتاب کو نہیں مانتے ہیں ؟ کیا بلوچستان کا کوئی اور رسول ؐ ہے؟ کیا بلوچستان میں تعلیمی اداروں اور جدید یونیورسٹیوں کی بہتات ہے؟ کیا بلوچستان والے زیادہ گندم پیدا کرتے ہیں جو چھین کر پنجاب کو جاتی ہے؟ کیا وفاقی حکومت صرف بلوچستان کی اسمبلی سے بنتی ہے۔ ایسا کیا ہے بلوچستان میں جو آئے دن تعصب کی آگ جلا دیتے ہیں اور نہتے پنجابیوں کو جلا کر بھسم کر دیتے۔ ابھی چند ماہ پہلے بھی تو انہوں نے ایسا ہی کارنامہ سر انجام دیا تھا۔ اور اس پر بھی کوئی حکومتی کارروائی نہیں ہوئی اور نہ حکومت نے اس معاملے کو سنجیدہ لیا۔ ابھی ہم صوبہ سرائیکستان بنانے کی بات کرتے ہیں ۔ ابھی رات عمران نے شوشا چھوڑ دیا کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنا دیں گے۔ یہ تعصب نہیں تو اور کیا ہے؟ تعصب کی بنیاد تو اس وقت ہی رکھ دی گئی تھی جب ہم نے اس ملک عزیز کو چار صوبوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ سیاسی جماعت ایم کیو ایم کی بنیاد بھی اسی صوبے کے تعصب کا ایک شاخسانہ تھی۔ دیکھیے آج کوئی بھی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے آگے آنکھ اٹھا کر بات کرنے کی جرأت نہیں رکھتی۔ اب آپ صوبہ سرائیکستان اور جنوبی پنجاب کے صوبے کی بات کرتے ہیں ۔ تعصب وہ آگ ہے جو بلاوجہ اور بلا مفاد کے جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔ ابھی تو ہم ذات پات کے نظام سے ماورا نہیں ہوئے ہیں ۔ تعصب تو بہت بڑا زہر ہے۔ بلوچی تعصب کے کارنامے تو آپ کے سامنے ہیں بقول ناصر بشیر
ہم گھر میں، کبھی گھر سے بہت دور مرے ہیں
تقدیر کو جس طرح تھا منظور مرے ہیں
گولی نے کوئی فرق روا رکھا نہیں ہے
گم نام مرے ہیں کبھی مشہور مرے ہیں
یہ عہد ہوا، مرگ تبسم کا زمانہ
رنجور سدا کہ تھے جو رنجور مرے ہیں
بنیاد وطن میں ہے پسینہ بھی لہو بھی
اس بار میرے دیس کے مزدور مرے ہیں
انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ حالات ایک سے ہوں۔ جذبات ایک سے ہوں۔ انصار و مہاجر ایک ہوں۔ جہاں احسن اقبال کا علاج ہو وہاں عام ووٹر کے زخم بھی بھرے جائیں۔ نہ کوئی بلوچی اور نہ سندھی اور کوئی پنجابیوں پر چڑھ دوڑے اور نہ خیبر پختونخوا کی بات ہو۔ بات ہو تو فقط پاکستان کی بات ہو۔ بات ہو تو مسلمان کی بات ہو۔ اسلام ، دین ، مذہب کی بات ہو۔ نہ ہی اوکاڑا کے مزدور مارے جائیں اور نہ کسی اور شہر کی گود اجاڑی جائے۔ نہ ہی سانحہ ماڈل ٹاؤن کو دہرایا جائے اور نہ ہی سیاسی جلسے میں فائر کیا جائے مگر افسوس
حق تو یہ کہ حق ادا نہ ہوا

مزیدخبریں