گوجرانوالہ کے لرزتے سیاسی ستون اور تحریک انصاف

11 مئی 2018

راشد منظور

گوجرانوالہ کی سیاست آج کل ایک نئے موڑ میں داخل ہو رہی ہے۔ گوجرانوالہ کے مشہور و معروف سیاست دان اور حلقہ این اے 99 سے مسلسل پانچ دفعہ الیکشن جیتنے والے رانا نذیر احمد خان اور ان کے صاحبزادے رانا عمر نذیر پچھلے دنوں تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔دونوں باپ بیٹا بنی گالا میں عمران خان سے ملے اور اپنے گلے میں تحریک انصاف کا ’’جھنڈا‘‘ڈلوا لیا۔کہتے ہیں سیاست بڑی بے رحم چیز ہے لیکن شائد حلقہ این اے 99 کے سیاستدان ہمیشہ سے بے رحم رہے ہیں۔رانا نذیر کے ٹریک ریکارڈ کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے انہیں جیتتے دیکھا ہے لیکن مستقل مزاجی سے
کسی ایک پارٹی کے ساتھ وفاداری نبھاتے نہیں دیکھا۔1999 ء میں جب مسلم لیگ نون کی حکومت کا تختہ الٹایا گیا تو اس سے قبل رانا نذیر صاحب مسلم لیگی ایم این اے تھے اور نواز شریف کی دی ہوئی عزت کی بنا پر قومی اسمبلی میں پارلیمانی سیکرٹری بھی تھے۔اس کے بعد جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے سیاست کی باگ ڈور سنبھالی تو مسلم لیگ (ن) کی کوکھ سے ق لیگ نے جنم لیا۔ مسلم لیگ ق بنی تو یہی منظر نامہ تھا جو آج کل تحریک انصاف کے حوالے سے بنا ہوا ہے یعنی لوگ جوق در جوق اس میں شامل ہو رہے تھے۔مسلم لیگ ق کا تو طوطی بولتا تھا لیکن مسلم لیگ ن ان دنوں زیر عتاب تھی اور ان پہ احتساب اور انتقام کی تلوار لٹک رہی تھی۔اتنے کڑے وقت میں رانا صاحب نے تکلیف سہنا مناسب نہ سمجھا اور ق لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔بعد ازاں اقتدار کے مزے لوٹتے رہے اور بالآخر نواز شریف جلاوطنی کاٹ کر واپس آئے تو عوام کی ہمدردیاں اس قدر ان کے ساتھ تھیں کہ ہر طرف ایسا ہی محسوس ہوتا تھا کہ اس بار نون لیگ جیتے ہی جیتے لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کا واقعہ ہوا اور وفاق کی سطح پہ عوامی حمایت پیپلز پارٹی کو ملی البتہ پنجاب کی سطح پہ نون لیگ کو اکثریت حاصل تھی۔اس دور میں نون لیگ میں بڑے بڑے سیاستدان واپس آنے لگے جن میں رانا نذیر بھی نمایاں تھے لیکن میاں نواز شریف نے انہیں پارٹی میں لینے سے صاف انکار کر دیا کیونکہ شاید میاں نواز شریف ان کی فطرت کو بھانپ چکے تھے ۔اب درمیان میں رانا تنویر حسین کود پڑے اور اپنی برادری کی حمایت مین رانا نذیر کی نون لیگ میں واپسی کیلئے سر توڑ کوشش کی اور بالآخر رانا تنویر کی دیر پا رفاقت نے نون لیگی قیادت کو مجبور کر دیا اور رانا نذیر کی واپسی ہو گئی۔ 2008ء اور 2013ء کے 10سال اقتدار کا مزا لوٹنے کے بعد تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا رہی ہے لیکن اس دفعہ محسوس ایسا ہوتا ہے کہ جیت خود کو نہیں دہرائے گی۔حلقہ این اے 99 جو اب نئی حلقہ بندیوں کے بعد این اے 83 ہوچکا ہے۔ اس کی سیاست میں بہت بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ایک جانب رانا ساجد شوکت ہیں تو دوسری جانب چوہدری ظفراللہ چیمہ اور ڈاکٹر سہیل ظفر چیمہ،ایک طرف ذوالفقار بھنڈر ہیں تو دوسری طرف عاصم عبداللہ ورک لیکن نووارد تحریک انصاف کے رانا نذیر بھی عین وقت میں آن ٹپکے ہیں۔ تحریک انصاف کیلئے ایک کڑے امتحان کا وقت شروع ہوا چاہتا ہے۔کہنے والے کہتے ہیں کہ ڈاکٹر سہیل ظفر چیمہ چیئرمین تحریک انصاف کے قریب ہونے کی وجہ سے جس امیدوار پہ ہاتھ رکھیں گے اسے گوجرانوالہ میں ٹکٹ ملیں گے لیکن رانا نذیر اور رانا عمر نذیر کی بنی گالا میں عمران خان سے ملاقات اور پی ٹی آئی میں شمولیت کے حوالے سے چیمہ فیملی کا بظاہر اتنا عمل دخل نہیں نظر آرہا اور شائد کسی سطح پہ رضامندی کا فقدان بھی ہے۔اتنے پرانے اور مخلص امیدواروں کو چھوڑ کو اگر تحریک انصاف نے نووارد امیدوار رانا نذیر کو ٹکٹ دیا تو باقی تمام برادریاں اور امیدوار شدید مخالفت کریں گے جس کے نتیجے میں اس دفعہ رانا نذیر کا الیکشن جیتنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔واضح رہے رانا نذیر کو ہمیشہ الیکشن مین ایک بڑا مارجن تھانہ واہنڈو
کے ووٹرز کی طرف سے ملا ہے لیکن اس دفعہ واہنڈو کے لوگ بھی رانا صاحب سے کوئی خاص خوش نہیں کیونکہ اس علاقے میں ترقیاتی کام زیرو ہیں۔آج بھی کوٹ عبداللہ، گلوکی، کوٹلی مقبرہ، شادی متہ، دھرنگ،کالی صوبہ ،دندیاں اور اس طرح کے بڑے بڑے دیہات ٹوٹی پھوٹی سڑکوں،پینے کے صاف پانی، گیس سے محروم ہیں ۔رانا نذیر یا ان کا بیٹا اس بار الیکشن جیت جائیں تو یہ ایک چمتکار ہوگا کیونکہ اب علاقے کے عوام کی شعور کی سطح بلند ہو چکی ہے اور لوگ اچھی طرح جان چکے ہیں کہ بار بار پارٹیاں بدلنے والے سیاستدان صرف اور صرف اپنے ذاتی مفادات کی خاطر الیکشن لڑتے ہیں، عوام کا درد ان کے سینے میں کہیں بھی موجود نہیں ہوتا۔

مزیدخبریں