Photo Credit Yahoo

ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ ۔۔۔اصل معمہ ہے کیا ؟
11 مئی 2018 (17:18) 2018-05-11

کوئٹہ : چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہحکومت ہزارہ برادری کو تحفظ نہےں دے سکتی تو جےنے کا راستہ تو دے، ہم نے ہزارہ برادری کے جان و مال کی حفاظت کرنی ہے ،سکےورٹی پلان 2013 ءکو بہتر بنا کر سختی سے عمل ہونا چاہےے، سےکےورٹی ادارے 15 روز مےں رپورٹ جمع کروا ئےں ،تمام ایجنسیاں رپورٹ دیں کس طرح یہ سب کچھ ہو رہا ہے ، آئی جی پولیس اور ایجنسیوں کو بتانا ہے کہ کیسے ہزارہ برادری کے تحفظ کے اقدامات کئے جائیں، میرے پاس الفاظ نہیں کہ ان بدقسمت واقعات کی مذمت کر سکیں، میرے نزدیک ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ نسل کشی ہے جس پر مجھے ازخود نوٹس لینا پڑا ،عدالت نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے حوالہ سے کےس کی مزےد سماعت عےد کے بعد تک ملتوی کر دی ،جبکہ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ جو ینگ ڈاکٹرز سیاست میں ملوث ہیں، انہیں فارغ کر دیں، ان کو کوئی وظیفہ نہ دیا جائے یہ بدمعاشی نہیں چلے گی، ینگ ڈاکٹرز پہلے جا کر کام کریں اور اپنی کارکردگی دکھائیں، پھر مراعات مانگیں جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کی ہڑتال دنیا میں صرف پاکستان میں ہوتی ہے ۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے امن و امان کی صورتحال، سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار، نجی میڈیکل کالجز میں داخلے، تعلیم کے حوالے سے پرائمری اور سیکنڈری سطح پر تعلیم کے شعبہ کی حالت زار، خاران واقعہ میں مزدوروں کی ٹارگٹ کلنگ ، کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ اور چرچ پر حملے میں ہلاک افراد کے لواحقین اور زخمیوں کو معاوضہ کی ادائیگی کے حوالے سے کیسز کی سماعت کی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت بلوچستان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں کی حالت کے حوالے سے آپ نے بھی سب کچھ دیکھا اور ہم نے بھی ہسپتالوں کے مسائل کے حل کے حوالے سے کیا ہوا۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت سے سوال کیا کہ 500 ڈاکٹروں کی عارضی بھرتی کے حوالے سے کیا ہوا۔

اس پر سیکرٹری صحت نے کہا کہ 500 عارضی ڈاکٹر بھرتی کئے جائیں گے اور جو بات ینگ ڈاکٹروں کے منہ سے نکلے وہ پوری نہیں ہوسکتی۔ اس پر چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ جا¶ جا کر ہڑتال کروا¶۔ ان کو کوئی وظیفہ نہ دیا جائے، بدمعاشی نہیں چلے گی۔ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کی ہڑتال دنیا میں صرف پاکستان میں ہوتی ہے جبکہ چیف سیکرٹری بلوچستان اورنگزیب حق نے عدالت کو بتایا کہ ہسپتالوں میں بہتری لانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کا مسئلہ حل کرا دیا ہے ، ینگ ڈاکٹرز سیاست میں ملوث ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جو سیاست میں ملوث ہیں انہیں فارغ کر دیں۔ ان کو کوئی وظیفہ نہ دیا جائے۔ بدمعاشی نہیں چلے گی۔ چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ ینگ ڈاکٹرز کے باقی مطالبات حل کریں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ینگ ڈاکٹرز جا کر کام کریں اور اپنی کارکردگی دکھائیں اس کے بعد مراعات مانگیں۔ صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ڈاکٹر عامر نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں 24 ہزار وظیفہ دیا جاتا ہے ۔ اس پر چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ چار ہزار روپے اضافہ ہے یہ وظیفہ 30 ہزار روپے ہو جائے گا چیف جسٹس کا کہنا تھا ینگ ڈاکٹرز کو صوبہ کے حالات کے مطابق وظیفہ دیا جاتا ہے جبکہ ہزارہ برادری کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے رپورٹ آئی جی بلوچستان پولیس معظم جاہ انصاری نے عدالت میں پیش کر دی۔

دوران سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میرے پاس الفاظ نہیں کہ ان بدقسمت واقعات کی مذمت کر سکیں میرے مطابق یہ نسل کشی ہے جس پر مجھے سوموٹو نوٹس لینا پڑا جبکہ ہزارہ قبیلے کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہمیں مالی اور جانی نقصان پہنچایا جا رہا ہے ۔ ہمارے لوگ مجبور ہو کر غیرممالک میں جا رہے ہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی جی ایف سی کہاں ہیں۔ اس پر ایف سی کی جانب سے پیش ہونے والے نمائندے نے بتایا کہ آئی جی ایف سی اسلام آباد میں ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم نے ہزارہ برادری کی جان و مال کی حفاظت کرنی ہے ۔ تمام ایجنسیاں رپورٹ دیں کس طرح یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔ وکیل ہزارہ برادری افتخار علی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ہمارا جانی اور مالی نقصان ہو رہا ہے ۔ ہمیں نوکریاں نہیں ملتیں۔

ہمیں تعلیمی اداروں مین داخلے نہیں مل رہے۔ بزنس کمیونٹی نے دکانیں فروخت کر دی ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئی جی پولیس اور ایجنسیوں کو یہ بتانا ہے کہ کیسے ان کے تحفظ کے اقدامات کئے جائیں۔ ہزارہ برادری کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہمارے 15 معتبرین سے سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے ۔ اس پر ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا تھا کہ ہم نے سکیورٹی واپس نہیں لی۔چےف جسٹس کا کہنا تھا کہ سےکےورٹی فورسز شہداءکا ہزارہ برادری کی شہادت سے کےا تعلق ہے ۔ اس پر آئی جی پولےس کا کہنا تھا کہ ہماری بہت محنت ہے جس وجہ سے اعداد و شمار مےں کمی آئی ۔

آئی جی پولےس کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی نے اغواءبرائے تاوان واقعات مےں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار کےا ۔چےف جسٹس کا کہنا تھا کہ حکومت ہزارہ برادری کو تحفظ نہےں دے سکتی تو جےنے کا راستہ تو دے ۔ سےکےورٹی پلان 2013 ءکو بہتر بنا کر سختی سے عمل ہونا چاہےے ۔ عدالت نے سےکےورٹی اداروں کو 15 روز مےں رپورٹ جمع کروانے کا حکم دےا ہے ۔ چےف جسٹس کا کہنا تھا کہ کمےٹی تشکےل دےں وہ معاملات دے گی ۔ عدالت نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے حوالہ سے کےس کی مزےد سماعت عےد کے بعد تک ملتوی کر دی ۔


ای پیپر