ہماراکل اور آج
11 مئی 2018 2018-05-11

اکےسویں صدی کا انسان سائنسی ترقی کا غلام ہو چکا ہے ۔ اس کے پاس اپنے لیے بھی وقت نہیں ۔ مشینوں نے اسے جس قدر سہل پسند اور تن آسان بنایا وہ اسی قدر بے حد مصروف بھی ہو تا چلا جاتا ہے ۔ ٹھےک ہے، خوب سے خوب تر کی تلاش، انسانی فطرت کا خاصہ ہے لیکن اِسی خوب سے خوب تر کی تلاش نے انسان کوخود سے غافل کر دیا ہے۔ ہم لوگ اشیاءضرورےات کے عادی ہی نہیں غلام ہو گئے ہیں ۔۔۔۔سادگی اور قناعت سے بھی زندگی گزاری جاتی رہی ہے لیکن نت نئی خواہشات اور ” چسکوں“ نے ہمیں برباد کر دیا ہے ۔ سچ ہے آرزوﺅں کی کوئی انتہا نہیں ۔۔۔۔ گوےا
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے
سمجھ دار انسان اپنے حالات ، اپنی اوقات کے مطابق زندہ رہنے کی کوشش کر تا ہے ۔ سائنس نے جہاں ہمارے لیے آسائشوں کے ڈھےر لگائے ہیں انہی آسائشوں میں سے بعض انسان کے لیے مہلک تر ثابت ہو رہی ہیں ۔ اقبال نے کہا :
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
زندگی کی تےز رفتاری نے نئے دور کے انسان کو بھی ایک مشین بنا دیا ہے ۔ انٹر نیٹ اور موبائل نے ہمارے اعصاب چھلنی کر رکھے ہیں۔انسان محفل میں بھی اکیلا محسوس کرتا ہے۔ اگر صرف چالیس پچاس برس پہلے زندگی پر نگاہ ڈالی جائے تو احساس ہو تا ہے کہ بہت زیادہ سائنسی ترقی نہ ہو نے کے باوجود ، پچاس سال قبل انسان کے دکھ، اتنے نہیں تھے ، اتنی بیمارےاں نہیں تھےں ۔ لوگوں کی اوسط عمر کا تجزیہ کر لیا جائے تو یہ حقےقت کھل سکتی ہے کہ اُس وقت لوگ عموما۹۰ سے ۱۰۰ بر س کی عمر تک زندہ رہتے تھے اس کی وجہ؟
انسان ہاتھ سے کام کرتا تھا ۔ جسمانی مشقت کے ساتھ ساتھ سردی ،گرمی کی شدّتوں کو اپنے بدن پر سہتا تھا ۔ بھوک ننگ کے باوجود غذ ائیں خالص تھےں ۔۔۔۔ آج سائنس نے کھیتو ں کی پیدوار بڑھا دی ہے ۔ فصلوں کے لیے موسموں کی قید بھی ختم ہو رہی ہے ۔ سبزےاں پھل سٹو ر کر لیے جاتے ہیں ۔ اُس وقت ےہ سب کچھ نہیں تھا بلکہ تازہ پھل سبزیاں استعمال ہوتے تھے۔ یہ رنگا رنگ کے مشروبات ، مٹھائیاں بھی نہیں تھے ۔ پنکھے ،ائیر کنڈےشنڈ کیا، بجلی ہی نہیں تھی ۔ لوگ گرمیاں درختوں کی چھاﺅں میں گزارتے ۔ گھڑوں کا ٹھنڈا پانی پیتے ، گرمیوں میں ستو، شکر اور گڑ کا شربت پیا جاتا تھا ۔ گرمیوں میں رات کو کھُلے صحنوں اور چھتوں پرسونے کا رواج تھا ۔ زیادہ تر لوگ کھےتی باڑی یا تجارت کرتے تھے ۔۔۔ان کی تفرےحات بھی محدود تھیں، سرد راتوں کو چوپال جمتے تھے ۔ آگ جلا کر سردی کم کرنے کی کوشش کی جاتی ، صوفےانہ کلام ، مختلف منظوم قصے اور ڈھول ماہیے گا کر دل بہلاےا جاتا ، لوگوں مےں جلد سونے اور صبح جلد اٹھنے کی عادت تھی ۔ اب آج کی زندگی پر نگاہ ڈالیے:
آج رات اور دن کا تصّور ختم ہو رہا ہے ، سائنسی ترقی نے آسائشوں کے بازار سجا دئےے ہیں ۔ موبائل فون ، کمپیوٹر ، انٹرنےٹ ، ٹی وی ، ائیر کنڈیشنڈ اور نت نئی ایجادات نے انسان کو کس قدر ”مصروف “ اور کاہل کر دیا ہے ۔ آج ہماری زندگی کے معمولات تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں ۔ لوگ رات گئے تک، ٹی وی کے مختلف پروگرام موسیقی ، ڈارامے ،فلمیں اور حالات حاضرہ کے تبصروں سے محظوظ ہوتے ہیں ، رات گئے کھانے کی عادات بھی پختہ ہورہی ہیں ۔ لوگ صبح بمشکل اُٹھ پاتے ہیں ،را ت گئے تک مسلسل ٹی و ی دیکھنے سے ہماری بصارت پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔موبائل پر ہر لمحہ اپ ڈیٹ رہنے کی عادت نے ہماری زندگی اور خاص طور پر صحت تباہ کر دی ہے۔
کانوں میں مسلسل موسیقی ( وہ بھی جدید موسیقی ) کے شور نے ذہنوں کو بیمار کر دیا ہے ۔ فاسٹ فوڈ ز اور مشروبات نے رہی سہی کسر نکا ل دی ہے ۔ اس طرح انسانی صحت اور تندرستی غارت ہو چکی ہے اوپر سے مہنگائی، غربت اور معاشی مسائل نے لوگوں کو ذہنی دباﺅ کے امراض کا شکار کر رکھا ہے ۔ ہر شخص جدید دور کی ہر آسائش کا خواہش مند ہے ۔ سو معاشرے میں راتوں رات دولت مند بننے اور اپنی زندگی مزید پُر تعےّش بنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے ۔ اس سلسلے میں انسان ، انسان کو روندتاہوا آ گے بڑھنے میں مصروف ہے ۔ ےوں جعلی ادویات سے لے کر ملاوٹ شدہ غذاﺅں کی تجارت بھی اپنے تئیں جائز سمجھ لی گئی ہے ۔ معاشرے میں تن آسانی کا اضافہ ہو گےا ہے ، لوگ سہل پسند ہو گئے ہیں اور حصول ِزر کی آسان تراکیب پر عمل پےرا نظر آتے ہیں ۔لوگوں میں خلوص ، وفا ، پیار ، محبت ،ایثاراور ہمدردی کے جذبے ماند پڑ رہے ہیں ۔ بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے ، شدت پسندی بڑھ رہی ہے ۔ اسلحہ کے زور پر ،معاشرے کا امن وامان تباہ ہو چکا ہے، سماج میں ابتری پھیل رہی ہے ۔ اس حوالے سے اکےسویں صدی کے انسان کی زندگی پرانے دور کی زندگی سے کہےں زےادہ اجےرن ہو چکی ہے ۔ سو ا وسط عمر بھی پچاس ساٹھ برس رہ گئی ہے ۔ بچے اور جوانوں میں بلڈ پریشر ، شوگر ، دل ، جگر اور کئی خطرناک بیمارےاں جنم لے رہی ہیں ۔ غور کیجئے ہمارا گزرا کل اچھا تھا یا ہمارا آج آج کے دیگر مسائل پر بھی طائرانہ نظر ڈال لیجئے، ماحولیاتی آلودگی ،کیمیائی ہتھےار ، بدامنی ، مہنگائی ، بے روزگاری ، ، قتل و غارت اور بے حسی کے ”کینسر“ نے انسان کو لاچار کر دیا ہے ۔ ایسے لگتا ہے کہ انسان دھرتی پر چند برسوں کا مہمان ہے اور کچھ برسوں بعد :
ہماری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں


ای پیپر