ایران اور ۔۔۔۔ نواءخوابیدہ و رنجیدہ
11 مئی 2018 2018-05-11

قائد اعظم ؒ، بانی پاکستان کے بارے میں سُنّی مسلک کے لوگ، اُنہیں سُنّی کہنے پہ بضد ہوتے ہیں، اور شیعہ مسلک والے اُنہیں شیعہ کہنے پر اِصرار کرتے ہیں،
مگر پاکستان بننے سے پہلے ، کسی شخص کو بھی اُنہیں متنازع بنانے کی جرا¿ت نہ ہوسکی۔ پاکستان بننے کے بعد جب اُن سے اُن کے مَسلک کے بارے میں سوال کیا گیا، تو اُنہوں نے فرمایا تھا کہ میرا مَسلک وہ ہے جو حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا، اور پھر اُنہوں نے سوال کرنے والے سے سوال کر دیا، اور کہا کہ آپ بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شیعہ تھے، یا سُنّی؟
جبکہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم لایعنی ، بحث و مباحثہ میں مصروف ہیں، صدیوں سے سعودی عرب کے مضافات ، اور خصوصاً ” ابہا“ کے پہاڑی مقام سے متصل علاقوں میں شیعوں کی کثیر تعداد مقیم ہے، اور ان کی شہریت بھی سعودیہ کی ہے ، مگر مقام افسوس ہے کہ کچھ عرصہ قبل دیکھتے ہی دیکھتے یہ تنازع شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اِس میں کوئی شک و شہبے کی گنجائش نہیں ہے کہ ایران افغانستان، شام ،یمن اور کسی حد تک پاکستان کے اندرونی معاملات میں ٹانگ اَڑاتا نظر آتا ہے، جو کہ کِسی بھی صورت قابل تعریف نہیں، کیونکہ اگر دونوں مسلک کے پیرو کار اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں ، تو اُنہیں کسی بھی صورت یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ احکامِ الٰہی اور فرمان رسول کی حکم عدولی کریں، اُن کا تو یہ فرمان ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کیلئے نہ صرف قابلِ احترام ہیں، بلکہ وہ ایک جسم کی مانند ہیں، اور جسم کے کِسی بھی حصے میں درد ہو تو انسان درد محسوس کرتا ہے،
سَپوتِ اسلام جنرل حمید گل صاحب کے خاندان سے ہمارے خاندانی مراسم ہیں، ایک دفعہ اُن کی بیٹی عظمیٰ گل کا فون آیا، میرا خیال ہے کہ اُس وقت جنرل صاحب، ابھی بقید حیات تھے۔ قارئین مجھے یاد آیا جنرل صاحب کی بیگم کو کینسر ہے اور بیٹی عظمیٰ گل بھی ہسپتال میں ہیں، ان کے لئے خصوصی دُعا کی درخواست ہے۔ کہنے لگیں، انکل میں عمرے پہ گئی ہوئی تھی۔ میں آپ سے ایک بات شیئر کرنا چاہتی ہوں، مملکت سعودیہ کو عازمینِ جج و عمرے سے اتنے بلین ڈالر زر مبادلہ ملتا ہے۔ اُن کے پاس باقاعدہ اعداد و شمار کی ماہ و سال کی طویل فہرست تھی، کہنے لگیں کیا اِس رقم پہ صِرف سعودیہ کا حق ہے؟۔ چونکہ حرمین شریفین پہ تو ہر مسلمان کا حق ہے۔ اِس لئے میرے خیال میں اِس رقم کو غریب مُسلمان ملکوں کو سہارا دینے، اور انہیں اپنے پاﺅں پہ کھڑا کرنے کے لئے اِستعمال کرنا چاہئے، اور اِس رقم کو کنسور شیم کی شکل دے دینی چاہئے،
اُن کی بات ، اُصولی اور ، اخلاقی ہی نہیں، عین مساداتِ اسلامی کے مُطابق تھی مگر سوال اُس وقت بھی یہی تھا، اور سوال اس وقت بھی یہی ہے، کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون ڈالے گا؟
غالباً ایران کا مطالبہ اور سوال بھی یہی ہے، مگر شاید اُس کا طریق کار غلط تھا، یا پھر اُس سے اختلاف کی گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے، مگر تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی تو ہے، کہ ایران کے پاس اُس کے سوا، اور کیا طریقہ تھا، ایران نے احتجاج کے لئے اپنے عازمین جج کو تیار کر کے بھیجا ، جنہوں نے اپنے گلے میں ، اپنے مطالبات لٹکا رکھے تھے، بلکہ اُن کے پاس بینرز بھی موجود تھے، جس کو باقاعدہ لہرا کر انہوں نے ، اُسے جلوس کی شکل بھی دے دی تھی، جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، احتجاج کی وجہ سے راستہ بند ہو جانے کی بنا پر عازمین جج کی ایک بہت بڑی تعداد موت کے منہ میں چلی گئی تھی، اور حج کی تاریخ میں ایک بہت بڑا سانحہ رونما ہوگیا تھا۔
قارئین، میں بات کرنا چاہ رہا تھا، ٹرمپ نے ایران سے جو، جوہری معاہدہ ختم کیا ہے اُس پہ، فوری طور پر اِس معاہدے کو ختم کرنے پہ جن ممالک نے خوشی کا اظہار کیا ہے، وہ اسرائیل اور سعودی عرب ہیں ، اسرائیل نے تو شام پہ حملہ کر کے دس پاسدارانِ انقلاب ایرانی شہید کر دیے ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے بیان دیا ہے، کہ سعودی استحکام کو کوئی گزید نہیں پہنچا سکتا،
آخر اِس بیان دینے کی نوبت کیوں آئی ہے؟ ایران کے شہنشاہ رضا شاہ پہلوی کی معزولی کے بعد اسلامی طرز حکومت کے بانی آیت اللہ خمینی کے حکومتی خدو خال انتہائی مناسب اور قابل تقلید تھے، مگر بتدریج آنے والی حکومتوں نے اِس میں ذاتیات کو شامل کر لیا، کیا آپ کو موجودہ ایرانی حکمران حسن روحانی کی دینی شکل و شباہت اور جُبہ وکلاہ دیکھ کر دِل و دماغ کے کسی گوشے سے یہ گمان ہوتا ہے، کہ اِن کے حکم سے اور اِن کے دیے ہوئے میزائیل اور اِمداد سے آئے دن ” حوثی قبائل“ سعودی عرب پہ راکٹ داغ دیتے ہیں، جنہیں سعودی ، امریکی اسلحے سے راستے ہی میں تباہ کر دیتے ہیں،
قائین کرام، میری بات پہ ٹھنڈے دِل سے غور کریں، سعودی دلی عہد ، شہزادہ محمد بن سلمان، اور خود شاہ سلمان ، شاید اِسی وجہ سے ٹرمپ کی گود میں جا گِرے ہیں کیونکہ وہ واحد طاقت ہے، جو سعودی عرب کو بچا سکتی ہے۔ سعودی عرب کا اپنی ” لائین“ سے ہٹ جانا ، اور ” جدیدیت “ کی راہ پہ چل پڑنے کے پیچھے بھی یہی راز مضمر ہے، کہ ایران سعودی عرب پہ قبضہ کرنے کی حکمت عملی میں شب و روز مصروف ہے، اب آئیں امریکہ اور ایران کے جوہری معاہدے پہ ایک نظر ڈال لیں ، جس کے ایک ایک لفظ اور ہر فقرے سے منافقت ٹپک رہی ہے۔ 2015 میں ایران ، امریکہ ، برطانیہ ، فرانس، جرمنی، رُوس اور چین کے درمیان یہ جوہری معاہدہ ہوا، اور ایران نے اِس بات پر اتفاق کیا تھا، کہ وہ ایٹمی ری ایکٹر میں بطور ایندھن، اور جوہری ہتھیار بنانے میں افزودہ یورینیم کے ذخائر کو پندرہ سال کیلئے محدود کر دے گا، اور وہ یورینیم افزودگی کیلئے سینٹری فیوجز کو بتدریج کم کر دے گا، اور برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایران نے اِس بات پر بھی اتفاق کر لیا تھا، کہ وہ بھاری پانی کو تبدیل کر دیگا، تا کہ وہ ایٹم بم نہ بناسکے۔
اب کوئی اِن ”پاگل کے پتروں“ سے پوچھے، کہ آخر وہ کون سا ایسا احمق ، بیوقوف ملک ہوگا، کہ وہ ایٹم بم بنانے کے تمام مراحل طے کرنے کے اور دس، پندرہ سالوں کے بعد اُس سے دستبردار ہو جائے گا۔
سابق امریکی صدر اوبامہ ، یورپی یونین ، اقوام متحدہ سمیت ، سبھی نے ٹرمپ کے یک طرفہ معاہدہ توڑنے کی شدید مخالفت کی ہے،
دَر اصل ٹرمپ اتنا بھولا بھالا نہیں ہے، وہ ایک وقت میں دُ و شکار کرنا چاہتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ ایران ایٹمی طاقت بھی بن جائے، اور سعودی عرب کو بھی یرغمال بنا کر اُس سے منہ مانگی قیمت وصول کرسکے، اگر اسرائیل کو پتا ہے کہ وہ کون سی پانچ جگہیں ہیں، جہاں ایران کا ایٹمی پروگرام اپنے ایٹمی مراحل طے کر رہا ہے، تو امریکہ کیسے اُس سے باخبر نہیں ہوسکتا، اسرائیل ایران کے ایٹمی سائنسدان کو شہید کر سکتا ہے۔۔۔ پاکستان کے جرنیل کو پردہ سکرین سے غائب کراسکتا ہے، تو امریکہ جو پاکستان کے حکمران بھی بدل دیتا ہے، یا جیل سے نکال کر سیدھا ایوان صدر میں بیٹھا دیتا ہے، وہ نہ تو پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے سے بے خبر تھا، اور نہ ہی ہندوستان و اسرائیل کے بارے میں اتنا ” یملہ “ ہے۔
اِس لمحے دِل و یران حضرت اقبال ؒ کو مستی ءاحوال و مستی ءگفتار اور اپنی نوا مُردہ و افسردہ و خوابیدہ و رنجیدہ و بے ذوق سنانے کی سعی کرتا ہے تو آمدِ اِلہام ہوتی ہے کہ بقول حضرت اقبال ؒ
وہ مَردِ مجاہد نظر آتا نہیں مُجھ کو !
ہو جس کے رگ و پے میں فقط مستی ءکردار


ای پیپر