سعودی عرب کی سیاسی واقتصادی فالٹ لائنز
11 مارچ 2020 2020-03-11

امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ عروج پر تھی تو عالمی تجزئیے یہ بتاتے تھے کہ 2050تک چائنا دینا کا سپر پاور ملک ہوگا مگر کسے خبر کہ چائنا کو ایک ایسے نادیدہ دشمن کا سامنا کرنا پڑے گا جو کسی سپر پاور کے بس میں نہیں کیونکہ قدرت کے ساتھ جنگ نا ممکن ہے۔ ان تباہ کن حالات کے دوسرے مرحلے میں کرونا وائرس نے ایران کا رخ کیا تو ایشیاء اور مشرق وسطیٰ میں کہرام برپاہوگیاکہ نادیدہ دشمن گھر کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے۔ اس کے کچھ ہی دنوں بعد دیکھتے ہی دیکھتے یہ وائرس ایران سے بحرین کے راستے سعودی عرب پہنچ چکاہے۔ وہی ہواجس کا ڈر تھا ۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ سعودی عرب پر خوف کے سائے ہیں اور اس بے یقینی نے وہاں ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں کی سعودی معیشت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ایک لمحے کیلئے فرض کریں کہ عمرہ زائرین کے سعودی عرب میں داخلے پر پابندی سے ملک کو روزانہ کروڑوں ریال کا نقصان ہورہاہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2018ء میں سعودی عرب کو حج اور عمرہ سے 12بلین ڈالر کا ریونیو حاصل ہوا یہ سادہ حساب سے اوسطاً ایک ارب ڈالر ماہانہ بنتاہے اور ہر سال اس میں 10سے 15فیصد اضافہ ہو رہا ہے مقامات مقدسہ کے توسیعی منصوبوں کی وجہ سے زائرین کی گنجائش میں بھی اسی حساب سے اضافہ جاری ہے مگر موجودہ حالات میں سعودی حکومت کو نقصان کا آغاز ہوچکا ہے اور اگر یہ سلسلہ درازہوا تورمضان اور حج کا سیزن جوسب سے زیادہ منافع بخش موقع ہے وہ ضائع ہو جائے گا۔ یہ آفت ایک ایسے موقع پر نازل ہوئی ہے جب سعودی عرب کا شاہی خاندان پہلے ہی گوناگو مشکلات کا شکار ہے۔ شاہ عبداللہ کی وفات اورموجودہ بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے اقتدار سے لے کراب تک سعودی عرب ہر سال کسی نئی مشکل میں گرفتار ہوجاتاہے۔

سعودی عرب کی مشکلات کا آغاز اس وقت ہوا جب 2015ء میںولی عہد محمد بن سلمان نے یمن میں جاری حکومت اور باغیوں کے درمیان خانہ جنگی میں حکومت کا ساتھ دے کر ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں پر ہوائی حملے شروع کر دئیے یہ سمجھتے تھے کہ چند ہفتوں میں جنگ جیت لی جائے گی مگر یہ سعودی عرب کیلئے ایک ایسی دلدل ثابت ہوئی جس کو 5سال ہونے والے ہیں مگر اس کے خاتمے کے آثار نہیں ہیں۔بھر شام میںسعودی نواز گروپوں کو ناکامی ہوئی اور بشار الاسد کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بھی ناکام ہوگیا ان دونوں ایڈونچرز پر سعودی عرب کو مالی نقصان اٹھانا پڑا ۔اور یہ سب ایک ایسے وقت پر ہوا جب عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں نچلی ترین سطح پر چلی گئیں ایک طرف سعودی جنگی اخراجات بڑھ رہے تھے جبکہ تیل کی آمدنی کم ہو رہی تھی۔ اسی اثناء میں 2017ء میں سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل نے پوری

دنیا کو ہلا کر رکھ دیا جس کے بارے میں امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ اس قتل کا حکم براہ راست سعودی ولی عہدمحمدبن سلمان نے دیا تھا۔ امریکہ کو راضی کرنے کیلئے سعودی عرب کو امریکہ سے 100 بلین ڈالر اسلحہ کی خریداری کے معاہدے کرنا پڑے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کے درمیان ایک ارب ڈالر کے ذاتی تحائف انہیں پیش کئے گئے جن میں ایک پر تعیش لانچ تھی جس کے اندر پورا محل تعمیر تھا۔ انہیں قیمتی سونے اور ہیرے جواہرات سے مزین تلواریں اور دیگر ذاتی تحائف دیئے گئے۔ اس دوران سعودی عرب اسلامی دنیا میں اس بناء پر غیر مقبول ہوا کہ انہوں نے اسرائیل سے خفیہ تعلقات استوار کیے۔

شاہ سلمان کی عمر 84 سال ہے ااور ان کی ذہنی صحت امور مملکت چلانے کے قابل نہیں اس لیے سعودی حکومت کی ساری کی ساری فیصلہ سازی ان کے بیٹے ولی عہد محمد بن سلمان کے ہاتھ میں ہے جو کسی بھی وقت اقتدار سنبھال سکتے ہیں محمد بن سلمان نے ملک میں سنیما کی اجازت دی ہے عورتوں کو ڈرائیونگ کرنے اور حجاب میں نرمی کے اقدامات کیے ہیں تا کہ امریکہ میں ان کو پذیرائی مل سکے مگر اس کے ساتھ ساتھ محمد بن سلمان نے غیر محسوس انداز میں سعودی شاہی خاندان کے اندر اپنے مخالفین کو ایک ایک کر کے کارنر کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ شاہ عبداللہ کے زمانے میں شہزادہ محمد بن نائف ولی عہد تھے جو ملک کے وزیر داخلہ بھی تھے وہ نہایت قابل منتظم تھے اور مستقبل کے بادشاہ بننے کی قطار میں پہلے نمبر پر تھے وہ امریکہ کے کافی قریب تھے اور امریکی ایجنسیوں میں ان کا ذاتی اثر و رسوخ بہت زیادہ تھا انہیں عہدے سے ہٹا کر محمد بن سلمان نے ان کے گھر میں نظر بند کر دیا۔

اب مغربی میڈیا میں خبریں آ رہی ہیں کہ چند دن پہلے یعنی جمعہ کے روز انہیں باقاعدہ حراست میں میں لے کر جیل بھیج دیا گیا ہے اور ان کو حکومت کا تختہ الٹنے اور غداری جیسے الزامات کا سامنا ہے جس میں انہیں عمر قید یا سزائے موت ہو سکتی ہے ان کے ساتھ ان کے سگے بھائی شہزادہ نواف بن نائف کو بھی گرفتار کیا گیا ہے اس کے علاوہ محمد بن سلمان کے چچا اور بادشاہ سلمان کے بھائی احمد بن عبدالعزیز السعود کو بھی اسی سلسلے میں انہی الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی اخبارات وال سٹریٹ جرنل اور نیو یارک ٹائمز جیسے معتبر اخبارات میں یہ خبر چھپ چکی ہے۔ اس بارے میں سعودی حکومت خاموش ہے۔ آپ کو یاد ہو گا 2017ء میں محمد بن سلمان نے شاہی خاندان کو 60کے قریب شہزادوں کو گرفتار کر کے کئی ماہ تک ایک ہوٹل میں رکھا اور ہر ایک کو انفرادی ڈیل کے بعد اربوں ڈالر کی ادائیگی کے بعد رہا کیا تھا جو دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

سعودی شاہی خاندان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ شاہ سلمان نے اپنا ولی عہد اپنے ہی بیٹے کو مقرر کیا اس سے پہلے انتقال اقتدار بادشاہ کے بھائی کو ہوتا تھا یہ پہلی بار ہو گا کہ شاہ سلمان کی وفات یا معزولی پر ان کا بیٹا حکمران بن جائے گا اور اس کے ساتھ ہی سعودی اقتدار عبدالعزیز خاندان سے منتقل ہو کر صرف شاہ سلمان کے خاندان میں چلا جائے گا جبکہ باقی تمام ورثاء بے دخل ہو جائیں گے یہ خاندانی امور بہت پیچیدہ ہے جس کے بارے میں چند سال پہلے تک کہا جاتا تھا کہ بڑی ہنگامہ خیزی ہو گی مگر ولی عہد محمد بن سلمان نے آہستہ آہستہ جس چالاکی سے ایک ایک کر کے اپنے راستے کے کانٹے ہٹائے میں اب لگتا یہ ہے کہ انتقال اقتدار بلا رکاوٹ اور خاموشی سے ہو جائے گا البتہ اس بات کا فیصلہ وقت کرے گا کہ محمد بن سلمان بادشاہ بن جانے کے بعد اپنا اقتدار کیسے قائم رکھتے ہیں اور ان کے مخالف شہزادوں کی حکمت عملی کیا ہے اب تک کی صورت حال سے تو لگتا ہے کہ انہیں کوئی خاص مزاحمت در پیش نہیں ہو گی۔ البتہ کرونا جیسے کسی ناگہانی واقعے کی بنیاد پر حالات ان کے قابو سے باہر ہو جائیں گے تو وہ ایک الگ بات ہے۔

محمد بن سلمان اس معاملے میں بہت محتاط ہیں وہ امریکہ کو کسی صورت ناراض نہیں کرنا چاہتے اور امریکی قیادت کو باور کرانے میں کامیاب ہو چکے ہیں کہ امریکہ کے لیے وہ سعودی عرب کے مناسب ترین حکمران ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکہ کا ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے سے منحرف ہونا اور دوبارہ اقتصادی پابندیاں لگا کر سعودی عرب کو فائدہ پہنچانا محمد بن سلمان کی سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔


ای پیپر