کرونا سندھ میں اور بلاول پنجاب میں
11 مارچ 2020 2020-03-11

کرونا آج کی دنیا کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ پاکستان میں یہ وباء کس حد تک موجود ہے اور پھیل سکتی ہے اس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ اس مرحلے پر بھی پاکستان کے سیاسی ماحول میں ہیجان کی کیفیت ہے جس کی سب سے اہم صفت "پیشگوئی" بن چکی ہے۔ حزب اختلاف کا ہر سیاستدان آج کل جوتشی بن چکا ہے۔

ماضی قریب میں مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں مجمع لگانے کے بعد حکومت کے مارچ 2020 تک ختم کرنے کی پیشنگوئی کی۔ ایسا لگتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو کسی معالج کی ضرورت ہے۔ علاج نہ کروانے کی صورت میں یہ کیفیت شدت اختیار کر کے سیاسی سے زیادہ جسمانی اور ذہنی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

عوام نے یہ بھی دیکھا کہ کیسے قائد حزب اختلاف تین دفعہ کے بیمار وزیر اعظم کا ہاتھ پکڑ کر پتلی گلی سے براستہ لاہور ہائیکورٹ لندن پدھار گئے۔ دونوں بھائیوں کی غیر موجودگی اور مریم صاحبہ کے منہ پر پڑے تالوں نے پارٹی کی بنیادوں میں دراڑیں ڈالنا شروع کر دی ہیں۔ نون لیگ کی لندن، جیل اور رائیونڈ میں موجود قیادت کا واضح سیاسی موقف تو شاید عوام کو اب اگلے انتخابات تک پتہ نہ لگ سکے تاہم انہوں نے موجودہ نظام میں غیر دلچسپی کا مظاہرہ کرتے جلد انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی پس منظر میں ملک کی سب سے معتبر پارٹی کے اَن داتا جناب آصف علی زرداری بیمار بھی ہیں اور خاموش بھی۔ ان کے سپوت جناب بلاول بھٹو زرداری نے بے نظیر بھٹو کی برسی پر ہی یہ پیشنگوئی کر دی تھی کہ 2020 اس حکومت کا آخری سال ہے اور اس کے بعد عوامی یعنی انکی حکومت قائم ہو جائے گی۔ اسی سلسلے میں انہوں نے بیمار باپ اور کرونا وائرس کو چھوڑ کر لاہور میں ڈیرے لگا لیے ہیں۔

چاہے بلاول بھٹو ہو مریم نواز یا پھر حمزہ شہباز یہ پاکستانی سیاست کے وہ شہزادے اور شہزادی ہیں جو انوکھے بھی ہیں اور لاڈلے بھی۔ ان تینوں کو یہ پتہ ہے کہ عمران خان کو مینڈیٹ کس نے دیا اور اس کٹھ پتلی وزیراعظم کی ڈوریاں کون ہلاتا ہے؟ افسوس یہ ہے کہ حمزہ شہباز کو یہ پتہ نہیں ہے کہ اسکی ماں، بہنوں، بھائی اور بیویوں کے اکائونٹس میں پیسے کون بھجواتا تھا؟ مریم نواز بھی اپنے دادا، والد، حتیٰ کہ بھائیوں اور خاوند کے معاشی معاملات سے بالکل ناواقف ہیں تاہم وہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں سے فکری طور پر متفق ہیں۔ اسی طرع بلاول بھٹو یہ نہیں جانتے کہ فرضی اکائونٹس سے انکے ذاتی خرچے کیوں پورے ہوتے رہے تھے۔ جمہوری گھروں کے ان بچوں کی سادگی پر کیا کہنا۔

پاکستان پیپلز پارٹی میں زرداری صاحب کی سیاسی بصیرت کا عمل دخل کم ہوتا جا رہا ہے۔ ضمانت کے بعد جناب زرداری صاحب نے بلاول ہاؤس

سے زیادہ ضیا الدین ہسپتال میں قیام کو ترجیح دی ہے جہاں انہوں نے پہلے بھی کئی سال گزارے ہیں۔ ماضی کی اچھی یادوں کو شاید وہ اپنی بیماری کی وجہ سے تازہ تو نہ کر سکیں لیکن یہ ایک خاموش دور کا آغاز ہے۔ جس کا دورانیہ حالات, وقت اور زرداری صاحب کی صحت پر چھوڑ دینا بہتر ہو گا۔ بلاول نے ماضی قریب میں لاہور میں مٹھی بھر عورتوں اور بچوں سے خطاب بھی کیا تھا اور اسے ورکرز کنونشن کا نام دیا گیا۔ پھر بینظیر کی برسی پر پورے پنجاب سے عوام کو اکٹھا کیا گیا۔ بلاشبہ پاکستان میں جمہوری تاریخ کی سب سے بڑی اور معتبر پارٹی پنجاب میں اپنے وجود کی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے اور نہ صرف وہ اپنے آبائی صوبے تک محدود ہو چکی ہے بلکہ وہ سندھ میں کسی ممکنہ تبدیلی سے خوفزدہ بھی نظر آتی ہے۔

بلاول بھٹو لاہور میں ہیں اور انکی قربت میں جو حضرات موجود ہیں ان میں صرف ایک شخص قومی اسمبلی میں اپنی سیٹ رکھتا ہے۔ سینٹرل پنجاب کے صدر تک 2018 کے انتخابات میں شکست خوردہ ہیں:-

پنجاب ہوا کب کا انکاری

رت بدلی خیبر کی ساری

کمائی بلوچوں سے بھی خواری

باقی سندھ میں چند ہی ہاری

بلاول بھٹو زرداری ایک سیاسی المیے کی پیداوار ہیں۔ اگرچہ وہ بے نظیر کی وفات کے بعد بقول عمران خان حادثاتی طور پر پارٹی کے چیئرمین بن گئے مگر ساری طاقت اور اختیار جناب زرداری صاحب نے اپنے پاس ہی رکھے تھے ۔ انکے وفاقی دور اقتدار میں 18 ویں ترمیم کے باوجود طاقت کا سر چشمہ صدر ہاؤس تھا۔ اسی طرح آج بھی سندھ میں اصل کنڑول زرداری صاحب اور ان کی بہن کے پاس ہے۔

زرداری صاحب کے دور اقتدار میں سندھ میں پچھلے 12 سال کی کارکردگی کو دیکھیں تو بتانے کو کچھ نہیں ملتا۔ ذوالفقار علی بھٹو جب پنجاب کا رخ کرتے تھے تو کسان کوسوں میل دور سے پیدل چل کر ان کی ایک جھلک دیکھنے آیا کرتے تھے جبکہ آج انتخابی بینرز پر زرداری صاحب کی تصویر پنجاب میں شکست کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

بلاول بھٹو ظاہری خدوخال میں بھٹو اور بے نظیر کا حسین امتزاج ہیں تاہم ان ظاہری خدوخال کو بھٹو کے عملی اطوار سے مماثلت دینے کا عمل بڑا کٹھن ہے۔ اگرچہ بھٹو اور بلاول دونوں آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ، آزاد خیال اور خوش لباس شخصیات ہیں تاہم فی الحال دونوں شخصیات کا باہمی موازنہ صرف خیالی طور پر کیا جا سکتا ہے ورنہ ادب و احترام اور اخلاقیات کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔

ذوالفقار علی بھٹو عوام کی آنکھ کا تارا تھے۔ یہ مقام انہوں نے اپنی ذہانت اور عمل سے حاصل کیا تھا۔ اگرچہ بھٹو کی سیاسی وراثت کے لیے بلاول ایک فطری اور منطقی انتخاب ہیں تاہم انہیں اپنے اردگرد ہونے والی تبدیلیوں اور ان سے پیدا حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہیں اپنے عمل سے بھٹو کی روح اور اس کی مماثلت کو ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاول سے التجا ہے کہ خدارا پہلے بھٹو کو سندھ میں ایک سیاسی موت سے ہمکنار ہونے سے بچا لیں۔ اگلے تین سال اپنی سیاسی بصیرت کو سندھ کی عوام کے لئے وقف کردیں۔ کرونا سے اس مشکل سفر کا آغاز کریں۔ یہ سندھ کی دھرتی کا قرض بھی ہے جو انکے باپ نے چڑھایا ہے۔ بھٹو کا سیاسی وارث بننے کے لیے نا صرف ماضی کی کوتاہیوں اور غلطیوں کا ازالہ کرنا ہوگا بلکہ مستقبل کیلئے ایسا لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا جو پنجاب میں کھوئی سیاسی ساکھ کو واپس لا سکے۔ بلاول کو پنجاب میں ایک ایسی سیاسی تبدیلی لانی ہو گی جو نہ صرف ہونے والے نقصانات کے اثر کو کم کرے بلکہ مستقبل میں ایک سیاسی کامیابی کی ضمانت ہو۔

جب بنا نہیں تو اک اچھا کھلاڑی

کیوں مانگ رہا پھر قوم سے باری

قوم سے لے کر پہلے بھی اک باری

چٹ کر گیا زرداری ساری کی ساری

جیو بلاول جئے ہو زرداری


ای پیپر