کورونا وائرس سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے
11 مارچ 2020 2020-03-11

دنیا بھر میں کورونا کی وبا نے1 لاکھ 18ہزار سے زائد افراد کو متاثر کیا ہے۔چین سے شروع ہونے والے اس جان لیوا وائرس نے اب تک ساڑھے 3 ہزار سے زائد افراد کو لقمہ اجل بنا دیا ہے۔ چینی صدر نے وائرس کے مرکز ووہان کا دورہ کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ چین نے ایک حد تک اس وبا پر قابو پا لیا ہے لیکن دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی ہلاکتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اٹلی میں کورونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد 10 ہزار جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 631ہے۔ایران میں گزشتہ دو دن کے اندر ہلاکتوں کی تعداد 54 تک پہنچ گئی جبکہ یورپی ممالک میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 16 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔129سے زائد ممالک کو متاثر کرنے کے بعد یہ وائرس پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں بھی پہنچ چکا ہے۔ پاکستان میں تاحال کورونا وائرس کے 18 مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ" ٹیدروس ایڈہانوم گریبیس "نے اس مرض کے وبائی ہونے کی تصدیق کر دی ہے لیکن اچھی خبر یہ سنائی ہے کہ یہ تاریخ کی پہلی وبائی بیماری ہوگی جس پر قابو پایا جا سکے گا۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق پھیپھڑوں کے شدید عارضے میں مبتلا کرنے والا وائرس بظاہر بخارسے شروع ہوتا ہے ۔چند دن گزرنے کے بعد خشک کھانسی اور سانس لینے میں دشواری جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور پھر مریض کو اسپتال لے جانے کی ضرورت آن پڑتی ہے ۔عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس انفیکشن میں ناک بہنے اور چھینکنے کی علامات بہت کم ہیںجبکہ انفیکشن کے لاحق ہونے سے لے کر علامات ظاہر ہونے تک کا عرصہ 14 سے 24دنوں پر محیط ہے۔ڈبلیو ایچ اونے وائرس سے متاثر ہونے والے 44 ہزار مریضوں کے ڈیٹا کا جائزہ لے کر جو رپورٹ مرتب کی ہے اس کے مطابق 81 فیصد افراد میں کورونا وائرس کی ہلکی پھلکی جبکہ14 فیصد میں شدید علامات ظاہر ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق وائرس کا شکار ہونے والے پانچ فیصد لوگ شدید بیمار پڑ گئے۔ وائرس پر تحقیق کرنے والے ماہرین نے چند احتیاطی تدابیر کے ذریعے وائرس سے بچنے کا امکان ظاہر کیا ہے ۔ ماہرین مانتے ہیں کہ اگر ہم اپنے ہاتھ ایسے صابن یا ہینڈ واش سے دھوئیں جو وائرس کو مار سکتا ہو،کھانستے یا چھینکتے ہوئے اپنے منہ کو ڈھانپیں، ٹشو پیپر کا استعمال کریں ، کھانسی یا چھینک کے فوری بعد اپنے ہاتھ دھوئیں ،کسی بھی سطح کو چھونے کے بعد اپنی آنکھوں ، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کریں،ایسے لوگوں کے قریب مت جائیں جو کھانس رہے ہوں، چھینک رہے ہوں یا جنہیں بخار ہو، ایسے افراد سے کم از کم ایک میٹر یعنی تین فٹ کا فاصلہ رکھیں،اگر طبیعت خراب محسوس ہو تو گھر میں رہیںاور اگر بخار ہو، کھانسی یا سانس لینے میں دشواری تو فوری طبی مدد حاصل کریں توکورونا وائر س کا شکار ہونے کے امکانات کم کر سکتے ہیں ۔تجزیہ کار وں کا ماننا ہے کہ وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کے اعداد وشمار سرکاری سطح پر رپورٹ ہونے والے اعداد و شمار سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کوویڈ2019نامی وائرس کے بارے میںابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ وائرس نیا نہیں ہے بلکہ یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے ۔ چین کے شہر ووہان میںایک ایسی مارکیٹ موجود ہے جہاں زندہ جانوروں کاگوشت ملتا ہے ۔انفیکشن کی ابتداجنوبی چین میں واقع اسی ہول سیل مارکیٹ سے ہوئی جہاں زندہ جنگلی جانور بھی ملتے ہیں کورونا کے بارے میں ابتدائی تاثر یہ بھی ہے کہ لوگوں کے جانوروں سے قریب ہونے کے باعث یہ وائر س انسانوں میں منتقل ہوا اور چائنہ جیسے گنجان آباد شہروں کا مطلب ہے کہ یہ بیماریاں آسانی سے پھیل سکتی ہیں۔چائنہ میں اس سے قبل سارس نامی بیماری بھی کورونا وائرس سے ہی شروع ہوئی تھی۔ چمگادڑوں سے شروع ہونے والی سارس نامی وبا انسانوں تک پہنچی تو سال 2002 کے دوران8 ہزار سے زائد افراد متاثر جبکہ 774 افراد ہلاک ہوئے ۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وائرس کی ویکسین تیار کرنے کے لئے 18ماہ کا وقت لگ سکتا ہے جبکہ سائنس دان بھی ویکسین کی تیاری اس سال کے آخر تک کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں ۔یوں تو نزلہ زکام اس وائرس کی واضح علامات نہیں ہیں مگر انفلواینزاجیسے وائرس بھی ہر سال اربوں لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں اور سالانہ تقریباََ 3لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں لوگوں کی زندگیاں خطر ے میں ہیں وہاں ہی عالمی معشیت پر بھی گہرا ثر پڑ رہا ہے ۔عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہو رہی ہے ، چائنہ کی برآمدات میں کمی سے پاکستان سمیت دیگر ممالک پر بوجھ پڑے گا۔ موجودہ صورتحال میں تو نہیںمگر اگر کورونا نے پاکستان میں زیادہ سر اٹھایا تو عالمی معشیت کا پریشر پاکستانی معیشت پر بھی پڑے گا ۔اقوام متحدہ کی تجارت برائے ترقی (یو این سی ٹی اے ڈی) کے نمائندہ رچرڈ کوزول رائٹ نے واضح کیا کہ رواں برس عالمی معیشت کو 10 کھرب سے 20 کھرب ڈالر کے درمیان نقصان پہنچ سکتا ہے۔ان حالات میںجہاں عالمی طاقتیں اس وائرس سے بچنے کے طریقے تلاش کر رہی ہیں وہاں ہی حکومت پاکستان کو بھی اشتہاری یا آگاہی مہم سے آگے بڑھ کر اقدامات کی ضرورت ہے ۔ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یوں تو بڑی بڑی ایجادات کا کریڈٹ لیتے نظر آتے ہیں اب جب ضرورت آن پڑی ہے تو سائنسدانوں اور تحقیق کاروں کو اکٹھا کریں اور کرونا سے بچاؤ کی ویکسین نہ سہی مگر کوئی ایک آدھا مقالہ ہی پاکستان کے نام سے شائع کرا دیں ۔ دوسری اور اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ پاکستان آنے اور جانے والے مسافروں کے ساتھ ساتھ صوبوں کے درمیان نقل و حرکت پر بھی کڑی نظر رکھی جائے ۔


ای پیپر