ابھی دیرنہیں ہوئی…
11 مارچ 2020 2020-03-11

آج سب کے ذہنوں میں ایک ہی سوال ہے جس کاجواب یہ قوم پچھلے 72سال سے تلاش کررہی ہے۔ لیکن لمحہ موجود تک اسے کوئی واضح اور حتمی جواب نہیں مل سکاہے۔وہ سوال ہے کہ ہماے انفرادی اور اجتماعی مسائل کاحل کیاہے۔ہماراالمیہ ہے کہ ہم آج تک اپنے مسائل اور ان کی وجوہات کاتعین نہیں کرسکے ہیں،،یقین رکھیے دنیامیں تشخیص سے پہلے کسی مرض کاعلاج ممکن نہیں ہے۔پاکستان کے مسائل کی جڑایک ہی ہے اور وہ خود کوعقل کُل اورملک وقوم کاواحدناخدا سمجھناہے۔یہی نہیں خودکورہبراودوسروں کورہزن ، اپنے سواسب کو چور، ڈاکو سمجھنااوراپنے مفاد کوہی قومی مفادسمجھنابھی ہمارے مسائل کی ایک وجہ ہے۔جب تک ہم خودپسندی کے اس خول سے باہر نہیں نکلتے مسائل کی دلدل میں دھنستے چلے جائیں گے جیساکہ پچھلے 72 سال سے ہوتاچلاآرہاہے۔ رہبری کادعویٰ لئے بہت سے حکمران آئے لیکن ہرایک نے اپناہی راگ الاپا،کسی نے مرض کاعلاج نہ کیابلکہ قوم کی مجبوریوں سے کھیلتارہا،یوں بار بارہمیں گھاؤلگتے رہے اس طرح ہربار مسئلہ پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوتاچلاگیا۔

اسکندر مرزا اور ایوب خان نے اپنے اقتدار کو بچانے اور اسے طول دینے کیلئے جوبیج بوئے اس نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان حائل جغرافیائی خلیج کونظریاتی خلیج میں تبدیل کردیا۔وہ قوم جس نے 1947میں دوقومی نظرئیے کی بنیادپرالگ وطن حاصل کیاتھاوہ لسانی بنیادوں پر اس بری طرح سے تقسیم ہوئی کہ اس کانتیجہ 1971میں بنگلہ دیش کی شکل میں ظہورپذیرہوا۔دونوں اپنے اقتدارکودائمی سمجھتے تھے لیکن یہ بھول گئے کہ یہ کب کسی کارہاہے،انہوں نے جو پالیسیاں بنائیں ان کامرکزومحور ان کی ذات اور اقتدار کا دوام رہاپھردونوں کوکس طرح سے اقتدارچھوڑناپڑایہ کوئی راز نہیں ہے۔ درمیان میں تھوڑے عرصہ کیلئے جمہوری دور بھی آیاجس میں زخم خوردہ قوم کومتفقہ آئین ملا۔ لیکن پھر ایک آمر ضیاالحق نے شب خون مارا۔ یہ ضیاالحق کے گیارہ سالہ دورکافیضان ہے کہ قوم مذہبی اور لسانی بنیادوں پرکئی خانوںمیں بٹ گئی۔ضیاالحق کے بعد جمہویت نے ملک کوپھر سے ٹریک پر لانے کی کوشش کی لیکن آمریت کی باقیات نے اسے باربارپٹری سے اتاردیا،،یہی نہیں انتہائی خوبصورتی سے تمام ترالزام سیاست دانوں پر دھردیا،،بدقسمتی سے سیاست دان بھی ان کے ہاتھوںمیں کھیلتے رہے،،اسی دورمیں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے اور معاشی محاذ پراڑان کی تیاری کرلی لیکن ٹیک آف سے پہلے ہی جمہوریت کے جہازکی

لینڈنگ کرادی گئی۔ پھر پرویز مشرف کاآمرانہ دورآیااس نے قوم کوروشن خیال اسلام کے پیچھے لگادیا،،،یوں پہلے سے کئی خانوں میں بٹی قوم ایک اور تقسیم کاشکار ہوگئی،،،یہی نہیں اس عرصہ میں معیشت کومصنوعی طریقہ سے چلایا گیا۔ آمرانہ دورکی غلط پالیسیوں کے باعث معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔یوں عارضی سہاروں پر کھڑی معیشت کوٹریک پرلانے کی ذمہ داری جمہویت کے کندھوں پرڈال دی گئی۔دوجمہوری ادوار میں سیاست دان تمام تررکاوٹوں اور مشکلات کے باوجودمعیشت کوایک بار پھر ٹریک پر لانے میں کامیاب ہوئے ،لیکن آمرانہ سوچ کے نمائندوں سے پاکستان کی ترقی ہضم نہ ہوئی اور نئے مہرے میدان اتار کرقوم کوتبدیلی کے سراب کے پیچھے لگادیا،،،لیکن پچھلے دوسال میں معیشت کابھٹھہ بیٹھ گیاہے،،،لیکن ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھاکے مصداق ،،،،ماضی کے حکمرانوں کے تمام ترخرابیوں کاذمہ دارٹھہرایاجارہاہے۔نادیدہ قوتوں کی جانب سے کمال خوبصورتی سے ایک بارپھر پس پردہ رہ کرسیاست دانوں کوسیاست دانوں کے ہاتھوں چور ،ڈاکواور کرپٹ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اقتدارکانشہ ہی ایساہے کہ بڑے سے بڑاکھلاڑی بھی خود کواس چوکھٹ تک لے جاتاہے جس کے طعنے وہ ماضی میں دوسروں کودیتارہاہے ۔اپنے نشے اور تسکین کیلئے ہم چاہتے ہیں شریک کی دیوار گرجائے چاہے اس میں ہماری اپنی ٹانگ ہی کیوں نہ ٹوٹ جائے،،اور یہی کچھ پچھلے 72سال سے ہمارے ساتھ ہورہاہے۔ ہم اپنی معیشت کی ٹانگیں تڑواکرخوش ہیںیہی وجہ کہ ہم مسائل کے گھن چکر سے باہر نہیں نکل پارہے۔۔

آج ہمارے معاشرے میں مساوات کی جگہ استحصال،اخوت کی جگہ منافرت اور صداقت کی جگہ منافقت نے لے لی ہے۔آگے بڑھنے کیلئے ہمیں اس جال سے نکلناہوگا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ آمریت کے خمیرسے پروان چڑھنے والی غیرجماعتی سیاست نے ہمارے بنیادی جمہوری ڈھانچے کوہلاکررکھ دیاہے۔غیرجماعتی سیاست ایساچور راستہ ہے جن نے بے اصولی کے نئے معیارمقررکردئیے ہیں کہ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے اسیرہیں۔آج ہمیں الیکٹبلزکاجوشور سنائی دیتاہے وہ اس کاخمیر بھی غیرجماعتی سیاست سے اٹھاہے۔یہ عوام سے لے کربادشاہ گروں تک سب کوشیشے میں اتارنے کافن جانتے ہیں۔انہیں موقع پرستی پر اس قدرملکہ حاصل ہے کہ جب یہ اپنے محسن کی پیٹھ میں چھراگھونپتے ہیں تواسے حیران ہونیکاموقع بھی نہیں دیتے۔یہ بہروپ بدلنے میں بھی ثانی نہیں رکھتے ،ان کی چہروں پر اتنے نقاب چڑھتے ہوتے ہیں کہ آپ لاکھ کوشش کے باوجودہربار ان کے جھانسے میں آجاتے ہیں ۔یہ سیاسی بہروپئیے ہواؤں کارخ دیکھ کراپنے گھونسلے بدلنے میں دیرنہیں لگاتے ۔یہ ہماری سیاست اور معاشرے پر آکاس بیل کی طرح پھیل چکے ہیں۔ان سے جان چھڑاناناممکن نہیں تومشکل ضرور ہوچکاہے۔ انہیں سیاسی بہروپیوں اور اقتدارکے پجاریوں سے متعلق جون ایلیاکاشعر حسب حال ہے۔

عشق اور دولت جب ہوں مقابل

حسن ہمیشہ دولت کاساتھ دیتاہے

اس حقیقت نے انکار یافرارممکن نہیں کہ قائداعظم کے بعد ذوالفقار علی بھٹووہ لیڈرتھے جنہوںنے عوام کوآوازدی،،،جس نے عام آدمی کورائے دہی کاحق دلوایا۔جس نے قائداعظم کے جمہوری پاکستان کے خواب کوتعبیر دی ،آپ کوذوالفقار علی بھٹوکے نظریات سے اختلاف ہوسکتاہے لیکن آپ حقیقت سے آنکھیں نہیں چراسکتے کہ اس نے قائدکے بچے کھچے پاکستان کوایک جمہوری اور متفقہ آئین دیا،جس کی وجہ سے تمام تراختلافات کے باوجودہم ایک اکائی کی صورت میں متحدہیں۔ملک کے طول وعرض سے اختلافات کوشورتواٹھتاہے لیکن وہ کبھی بھی جمہوری دائرے سے باہر نہیں نکلتا۔ذوالفقار علی بھٹوسے کسی نے پوچھاکہ کیاوجہ ہے کہ بھارت اپنے اندرپائے جانیوالے تمام ترمذہبی ،معاشرتی اور لسانی اختلافات کے باوجودقائم ہے لیکن پاکستان دولخت ہوگیا۔تب بھٹونے اس کاتاریخی جواب دیتے ہوئے کہایہ جمہوریت کاشور ہے جس نے بھارت کے وجود کوقائم رکھاہواہے۔یقینا جمہوریت سب کوکتھارسس کاموقع فراہم کرتی ہے،، جبکہ آمریت جذبات اور خیالات کودباکررکھنے میں اپنی میں اپنی بقاسمجھتی ہے جس کانتیجہ انتشار کوصورت نکلتاہے،، اس لئے کہتے ہیں کہ بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے ہزار گنابہترہے۔لیکن بھٹوکواپنے اس جرم کی پاداش میں سولی پرچڑھادیاگیا۔ذوالفقارعلی بھٹو کا تسلسل بے نظیربھٹوکی صورت میں سامنے آیا جو جمہویت کوبہترین انتقام سمجھتی تھیں ،،لیکن وہ خود اس بے رحم نظام کے انتقام کانشانہ بن گئیں۔قائداعظم اور ذوالفقار علی بھٹوکے بعد میاں نوازشریف حقیقی معنوںمیں عوامی لیڈرکے روپ میں سامنے آئے ہیں،آج یقیناوہ اپنی ماضی کی غلطیوں کاکفارہ اداکررہے ہیں ،،لیکن آمریت کے کل پرزے انہیں غدار قراردینے پرمصرہیں جیساکہ وہ ذوالفقار علی بھٹوکے معاملے میں آج تک کررہے ہیں۔آج بھی وقت ہے کہ ہم ان غلطیوں کونہ دہرائیں جن کی وجہ سے ہم ایک دوراہے پرکھڑے ہیں۔


ای پیپر