دو انتہائوں کے درمیان
11 مارچ 2020 2020-03-11

آٹھ مارچ کو پوری دنیا میں خواتین کے عالمی دن کے طور پر منا یا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس دن کو ہر سال منایا جاتا ہے۔ پچھلے سالوں کی طرح اس سال بھی اس دن کی مناسبت سے ملک کے بڑے بڑے شہروں میں بڑے بڑے اجتماعات ہوئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ لیکن اس بار اس دن کی اہمیت خواتین آزادی مارچ کی وجہ سے مزید بڑھ گئی۔ دارالحکومت اسلام آباد میں خواتین آزادی مارچ کے شرکاء مختلف بینرز اٹھائے دن کو مقررہ وقت کے مطابق جب سہ پہر تین بجے نیشنل پریس کلب کے سامنے داخل ہوئیں تو وہاں پر پہلے سے موجود حیا مارچ کے شرکاء ڈیرے جمائے اسلام میں خواتین کو دئے گئے اعلی ٰمقام پر شعلہ بیانی کررہے تھے۔ دو انتہاوئں کے درمیان ملک کا دارالحکومت ایک عجیب منظر پیش کررہاتھا۔ پریس کلب کے سامنے سڑک کے ایک طرف حیا مارچ کے شرکاء کی جانب سے نعرہ ہائے تکبیر بلند ہوتا رہا تو دوسری طرف ڈھول کی تاپ پر جھومتی حقوق خواتین کی علمبرداروں کی جانب سے میرا جسم میری مرضی جیسے نعرے مسلسل اٹھتے رہے۔حیا مارچ کے شرکاء نے آزادی مارچ کے شرکاء کویاد دلایا کہ اسلام نے عورت کو جومقام دیا ہے، تاریخ انسانی میں اسکی کوئی مثال نہیں ملتی۔یہ اگر ماں کی روپ میں ہے تو مجسم محبت ہے ۔ اسلام نے جنت کو لا کر ماں کے قدموں میں رکھ دی ہے۔ بیٹی کے روپ میں ہے تو عفت کی تصویر ہے، بہن کے روپ میں ہے تو شفقتوں اور محبتوں کا پیکر۔

اسلام نے ہی عورت کو معاشرے میں اس کا جائز مقام دلایا لیکن دوسری طرف خواتین مارچ کے شرکاء باپ، بھائی اور بیٹے سے مذکورہ آزادی چھیننے پر اڑے رہے اور پدر شاہی کے خلاف نعرے بلند کرتے رہے۔پدر شاہی کی گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکہ اور دو ، عورت آزاد ، سماج آزاد کے نعرے مسلسل یورپ زدہ نوجوان خواتین کے لہو کو گرماتے رہے۔ بہت سارے مطالبات میں سے ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ ایک عورت ایک مرد کے برابر سمجھی جائیں اور مرد اور عورت میں تفریق کو ختم کیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اختلاف رائے معاشرے کا خسن ہے لیکن اس اختلاف میں تعمیر کا پہلو نظر آنا چاہئے۔ اس میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں کہ ہمارے معاشرے میں عورت کو وہی مقام نہیں دیا جارہا جو اسلام نے دیا ہے۔ عورت کو وراثت میں اس کا جائز حق نہیں ملتا۔ عورت پر گھروں میں تشدد بھی کیا جاتاہے، کئی ایک معاشروں میں کاروکاری اور سورہ جیسی لعنت کی بھینٹ بھی چڑھ جاتی ہیں لیکن دوسری طرف خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنے والے اکثر اوقات انکے وہ باپ، بھائی اور بیٹے ہوتے ہیں جس سے آج آزادی مانگی جارہی ہے۔ مرد اگر عورت کے بغیر نامکمل ہے تو ایک عورت بھی مرد کے بغیر زندگی کی گاڑی کو آگے نہیں چلاسکتی۔ ان معاشرتی برائیوں کے خلاف بھرپور آواز ضرور اٹھانا چاہئے لیکن ان برائیوں کے خلاف لڑنے کی آڑ میں ایک اسلامی مملکت میں ایک مادر پدر آزاد معاشرے کی تشکیل کی قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مارچ کے شرکاء کی نعروں سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ بیک وقت صدیوں پرانی معاشرتی اقدار کے ساتھ ساتھ مذہبی اقدار کو بھی چیلنج کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف اگر وہ پدرشاہی سے آزاد ایک ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں جس میں مرد اور عورت کو ایک جیسا مقام حاصل ہو تو دوسری طرف تما م سماجی بندھنوں سے آزاد ایک ایسا ماحول چاہتے ہیں جس میںوہ اپنی مرضی کے مطابق اپنے جسم اور سوچ کا مکمل کنٹرول رکھتے ہوں۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ قانون، قاعدے، ضابطے، سماجی بندھنیں کسی بھی معاشرے کی قانونی، اخلاقی اور معاشرتی اقدار کا تعین کرتی ہیں اور ایک مادر پدر آزاد معاشرہ کسی بھی طرح سے مہذب معاشرہ نہیں کہلایا جا سکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے معاشرے میںمذہبی جنونیت نے پنجے گاڑھ دیئے ہیں اور مذہب کے نام پر خواتین کا استحصال کیا جارہا ہے لیکن دوسری طرف اعلیٰ تعلیم یافتہ آزاد خیال بنیاد پرست بھی ان مذہبی بنیاد پرستوں سے پیچھے نہیں ہے جس کا رول ماڈل زندگی کے ہر میدان میں یورپ زدہ تہذیب ہی رہی ہے۔ بنیاد پرست ہر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنی مرضی کو زبردستی دوسروں پر نافذ کرنے کی سعی کرتا ہے۔ہمیں ان دو انتہائوں سے نکل کر اعتدال کا راستہ اپنانا ہوگا۔ ایک دوسرے کیلئے برداشت کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا ہوگا۔اور اگر ہم میں نہ مانوں کے مصداق یوں ہی ایک دوسرے پر کیچڑاچھالتے رہے اور ایک دوسرے کیلئے یوں ہی عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے رہے تو ہماری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔


ای پیپر