زینب الرٹ بل قومی اسمبلی سے بھی منظور
11 مارچ 2020 (20:05) 2020-03-11

اسلام آباد:سینیٹ کے بعدقومی اسمبلی سے دوبارہ بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سزا سے متعلق زینب الرٹ ،ردعمل اور بازیابی بل 2020 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ جماعت اسلامی نے بل میں بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے پر عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کا ایک بار پھر مطالبہ کیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے سینیٹ سے ترامیم کیساتھ منظور ہونے والا زینب الرٹ ،ردعمل اور بازیابی بل 2020 دوبارہ منظوری کیلئے پیش کیا اور کہا کہ قومی اسمبلی سے یہ بل ایک بار منظور ہو چکا ہے مگر اسکے بعد سینیٹ میں بل میں کچھ ترامیم کیساتھ منظور کیا گیا ہے،اسلئے اس کی دوبارہ منظوری ضروری ہے۔

                                                                                                                   

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ اسلام آباد کیلئے بل ہے، ہر ٹریفک سگنل پر 5سے 6سال کے بچے گاڑیاں صاف کر رہے ہیں، چند ماہ قبل بچوں کا بل پاس کیا تھا، بعض قانون سازی این جی اوز کیلئے کی جاتی ہے کیونکہ وہ فنڈنگ کرتے ہیں، پہلے جو بچوں کیلئے قانون سازی کی ہے، چوکوں پر اشاروں سے بچوں کو ہٹایا جائے، یہ ٹھیکیدار ہیں، والدین کو تھوڑے پیسے دے کر بچوں سے کام کرواتے ہیں، قانون سازی پر عمل نہیں ہوتا ہے۔

ڈاکٹر شیری مزاری نے کہا کہ یہ قوم کا مسئلہ ہے،بل پر اپوزیشن جماعتوں کی حمایت پر شکریہ ادا کرتی ہوں۔سپیکر قومی اسمبلی نے بل کی شق وار منظوری کے بعد کثرت رائے سے بل منظور کرلیا۔جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبر چترالی نے بل کی مخالفت کی۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدر مملکت داکٹر عارف علوی کے دستخطوں سے بل باقاعدہ قانون بن جائے گا۔ بل کے تحت بچوں کے خلاف جرائم پر زیادہ سے زیادہ 14سال اور کم سے کم 7سال قید کی سزا ہوگی۔ 

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدر مملکت داکٹر عارف علوی کے دستخطوں سے بل باقاعدہ قانون بن جائے گا۔بل کے تحت بچوں کے خلاف جرائم پر زیادہ سے زیادہ 14سال اور کم سے کم 7سال قید کی سزا ہوگی،بچوں کی گمشدگی پر پولیس2گھنٹے کے اندر مقدمہ درج کرنے کی پابند ہوگی،عدالتیں بچوں سے متعلق جرائم کے مقدمات کا 3ماہ کے اندر فیصلہ کریں گی،ڈائریکٹوریٹ جنرل زینب الرٹ ، رسپانس و ریکوری بچوں کے حوالے سے مانیٹرنگ کا کام کرے گا اور ہیلپ لائن 1099کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔


ای پیپر