افغان امن معاہدہ اور خدشات
11 مارچ 2020 2020-03-11

ایک طرف29فروی کودوحہ میں امن معاہدے پر دستخط ہورہے تھے اور طالبان وامریکہ ایک دوسرے کوصدقِ دل سے طے شدہ نکات پر عملدرآمدکا یقین دلا رہے تھے تو دوسری طرف واقفانِ راز دونوں فریقوں کی بدگمانیوں کے پیشِ نظرامن عمل کے بارے شکوک وشبہات ظاہر کر رہے تھے لیکن طالبان اور امریکہ کے عزم پر بات کی جائے تو بظاہردونوں فریقوں کی طرف سے ہونے والی پیش رفت مثبت ہے اور یہ کہ امن کے حوالے سے دونوں اپنے وعدے پورے کر رہے ہیں مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ افغانستا ن میں امن کا دارومدار صرف امریکہ اور طالبان پر ہی نہیں بلکہ کچھ متعلقہ اور کچھ غیرمتعلقہ عناصر ہیں جن کی کوشش ہے کہ کشت وخون میں کمی نہ آئے اور لڑائی کے سلسلے کو طول دیا جائے اِس لیے واقفانِ راز کے شکوک و شبہات بالکل غلط نہیں اُن میں کافی صداقت ہے واضح نظر آتا ہے کہ افغانستان میں جاری محاذ آرائی کے بڑے فریق امن کے حوالے سے یکسو ہیں چوکیوں کو نشانہ بنانے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ملا عبدالغنی برادر سے خود بات کرنا ظاہر کرتا ہے کہ متحارب فریق اب لڑائی کو طول دینے سے گریزاں ہیں اور قضیے کو ختم کرنے کے لیے پُر عزم ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو اکڑ وگھمنڈ کا شکارغصیلا ٹرمپ سلسلہ جنبانی کا آغاز کرنے کی زحمت بھلا کیوں کرتا؟۔

دیگر عناصر کی پوری کوشش ہے کہ افغانستان میں امن بحال نہ ہونے دیا جائے تاکہ پراکسی وار کے مواقع ملتے رہیں صدر اشرف غنی اورچیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ بھی امن معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیںاُنھیں بخوبی پتہ ہے کہ اگر امریکہ رختِ سفر باندھ لیتا ہے تو امداد کا سلسلہ منقطع ہوجائے گا کیونکہ افغانستان ہر حوالے سے امریکہ و دیگر امداد دینے والے ممالک کا دستِ نگر ہے اُس کے ذرائع آمدن اِتنے نہیں کہ ملکی اخراجات پورے ہو سکیں اِس لیے اُن کا مفاد اسی میں ہے کہ امریکہ کو لڑائی کے گرداب سے نہ نکلنے دیا جائے بلکہ الجھا یاجائے اِس طرح اقتدار میں رہنے کے نہ صرف مواقع ملتے رہیں گے بلکہ آمدنی کا سلسلہ بھی جاری رہے گالیکن فوجی انخلا کے بعد امریکہ کی کی کوئی دلچسپی نہیں رہے گی اِ س لیے اُسے پیسے دینے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ غیر مقبول کرداروں کو اقتدار میں رکھنے مقصدنہیں ہوگا۔

مسئلہ افغان کا بھارت بھی ایک فریق بن گیا ہے اُسے پاکستان کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے سازگار فضا کی ضرورت ہے اور بدامنی کا شکار افغانستان ہی اُس کی ضرورت پوری کرتا ہے مسئلہ افغانستان کے حل کی بجائے اقتدار اور پیسے کی ہوس کی شکار افغان قیادت میں وہ دلچسپی رکھتا ہے اِس لیے کوشاں ہے کہ امن عمل کی راہ میں روڑے اٹکائے جائیں جس کے لیے اربوں کی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور افغان اِداروں کی مفت تربیت کررہا ہے اِس بات میں کوئی شائبہ نہیں کہ نوازشات کی بنا پر اشرف غنی اب امریکہ کی بجائے بھارت کو خوش رکھنے کو اہم تصور کرتے ہیں

اورنوازشات کے بدلے اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے پر شاداں و فرحاں ہیں اسی بنا پر امن معاہدے کی حمایت کرنے کے بعد گرفتار طالبان کی رہائی میں رخنہ ڈال رہے ہیں بھارت اسی تگ ودو میں ہے کہ پاکستان کی طویل ترین شمال مغربی سرحد پر امن قائم نہ ہونے دیا جائے وہ پاکستان میں نسلی و لسانی فسادات کی آبیاری پر بے دریغ پیسہ خرچ کر رہا ہے اور اب اپنی سرمایہ کاری ضائع ہونے سے بچانے کے لیے اشرف غنی کی حمایت پر مجبور ہے باہمی مفادات مشترک ہونے پر اشرف غنی اور بھارت ایک پیج پرآگئے ہیں اور دونوں مل کر امریکہ کو افغان مسلہ میں الجھائے رکھنے میں مصروف ہیں۔

صدارتی انتخابی عمل کی غیر شفافیت کو خود افغان الیکشن کمیشن نے بھی تسلیم کیا ہے اور ہونے والی بے ضابطگیوں کا برملا اعتراف کیاہے لیکن اشرف غنی حلف برداری کے لیے ہلکان رہے بہتر تو یہ تھا کہ حلف برداری سے قبل عبداللہ عبداللہ سے اختلافی امور کا حل تلاش کرتے لیکن اب تک کے اقدامات اور حالات سے ظاہر ہوتا ہے اُنھیںاختلافی امور طے کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں شاید اُنھیں خدشہ ہے کہ ایسی صورت میں قصرِ صدارت سے ہاتھ دھونے کی نوبت آ سکتی ہے امن معاہدے کے لیے جاری طالبان و امریکہ مذاکرات کے دوران انتخاب کراکر انھوں نے صدارتی عہدے کے لیے بے چینی دکھائی حالانکہ عبداللہ عبداللہ نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا پھربھی سرعت سے حلف برداری کرانے کی کوشش کی امن معاہدے پر دستخط سے قبل ایسی حرکت پر امریکہ نے قدغن لگائی مگر اقتدار کی ہوس نے انھیں مسلسل بے چین رکھا اُن کی بے چینی نے انٹر افغان مذاکرات کے ساتھ امن عمل کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا ہے اشرف غنی کی طرف سے متنازعہ الیکشن کے باوجود حلف اُٹھانے پر عبداللہ عبداللہ نے بھی الگ تقریب میں صدرکا حلف اُٹھا لیا ہے اور متوازی حکومت بنانے کا اعلان کر دیا ہے جس سے مسئلہ افغانستان مزید گھمبیر ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں مگرآثا ر بتاتے ہیں کہ امریکہ کو افغانستان میں مزید قیام رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں لیکن دیر پا حل تلاش کیے بنا رختِ سفر باندھاجاتا ہے تو روس کے انخلا کے بعد والی صورتحال دوبارہ جنم لے سکتی ہے ۔

پاکستان نے مداخلت کی بجائے خود کو سہولت کار کی حد تک محدود کر لیا ہے تاکہ افغان عناصر کو مل بیٹھ کر حل تلاش کرنے کا موقع دیا جائے لیکن یہ عناصر کیسے امن کے مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں جب اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ جیسی کٹھ پُتلیاں اپنے سوا کسی کو اہمیت نہ دیں اور بھارتی مفاد کے تحفظ سے دستکش ہونے کوتیار نہ ہوں ۔

محسن داوڑ اور علی وزیر جیسے لوگوں کو حکومت کا خاص مہمان کا پروٹوکول دینا ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کے خلوص پر بھی افغان قیادت خوش نہیں پختون تحفظ موومنٹ کی سرپرستی کرنا اور بھارتی ایجنسیوں کو پاکستان کا امن تباہ کر نے میں اعانت کرنا حقِ ہمسائیگی اور دوستی کے منافی ہے مگر جو افغان قیادت اپنے ہم وطنوں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہ ہواُس سے کوئی اور بھلائی کی توقع کیسے ہو سکتی ہے؟ لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ اُٹھانے والا پاکستان احسان کے بدلے میں نقصان اُٹھا رہا ہے جس پر طالبان ،امریکہ اور پاکستان کو یکسو ہو کر سوچنے اور حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔

افغانستا ن سے انخلا امریکہ کی شدید خواہش ہے کیونکہ اسلحہ کی بند صنعت اب دھڑا دھڑ ہتھیار بنا رہی ہے گزشتہ پانچ برسوں میں امریکی ہتھیاروں کی فروخت میں 23 فیصد اضافہ ہو چکا ہے ایران و سعودیہ مناقشہ کو فروغ دینے سے امریکہ کو کئی فوائد ملے ہیں اول مسلم امہ میں منافرت کا مقصد پورا ہو گیا ہے دوم سعودیہ نے بے دریغ اسلحہ خرید کر ملک میں ہتھیاروں کے انبار لگا لیے ہیں اور وہ امریکی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار بن گیا ہے جس سے امریکہ نے یہ سبق لیا ہے کہ مزید محاذ کھولنے کی بجائے منافرت پھیلا کر مطلوبہ نتائج حاصل کیے جائیں امن عمل تکمیل کو نہیں بھی پہنچتا تو بھی امریکہ محفوظ اور باعزت انخلا ملنے پر جانے میں رتی بھر دیر نہیں لگائے گا لیکن سوال یہ ہے کہ بھارت افغانستان میں رہنے پر بضد ہے اُس کی ضد موجودہ حالات میں پوری نہیں ہو سکتی جو انتہا پسند ہندو قیادت کو قبول نہیں جس کی وجہ سے امن عمل ادھورا رہنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔


ای پیپر