عورت مارچ سے حیامارچ تک
11 مارچ 2020 2020-03-11

ایک مرتبہ پھرعورت مارچ کے نام پروہی نعرے ،وہی پلے کارڈز،وہی بینرزاوروہی کتبے تھے ،بلکہ اس مرتبہ توپہلے سے بھی زیادہ بے ہودہ جملے دیکھنے اورسننے کوملے پہلے تومیراجسم میری مرضی تک بات تھی اس مرتبہ ایک سترسالہ بوڑھی کانپتے ہاتھوں کے ساتھ یہ پوسٹر اٹھائے ہوئے نظرآئی کہ،، میراجسم تمھاری مرضی ،اب خوش ہو،،اس کے علاوہ کچھ بینرز خواتین کی ماہواری سے متعلق تھے اور کچھ بچہ دانی کے حوالے سے، جن میں لکھا تھا کہ مرد بھی یہیں سے آئے ہیں،اس کے علاوہ کچھ پوسٹرزکی عبارت ایسی تھی کہ جنھیں یہاں درج نہیں کیاجاسکتاعدالت کی طرف سے اس مارچ کی مشروط اجازت دی گئی تھی مگرعدالتی احکامات کوہوامیں اڑا دیا گیا تھاجس سے ثابت ہوتاہے کہ یہ ،،مخلوق ،،توہین عدالت سے مبراہے ۔

عالمی یوم خواتین کے موقع پرنیشنل پریس کلب کے سامنے باڑھ لگاکردوریلیوں کوعلیحدہ علیحدہ انتظام کیا گیا تھا کچھ مقامات پرخاردارتاریں بھی لگائی گئی تھیں عورت مارچ میںیونیورسٹیوں کے نوجوان طلباء وطالبات، کہیں بزرگ، کچھ مڈل ایجڈ مرد خواتین شریک تھیںکچھ نے سرخ سرخ لباس بھی پہناہواتھا خواجہ سرابھی ان کے ہمراہ تھے پھر میری نظر ایک ایسے گروپ پر پڑی جس میں ایسی خواتین شامل تھیں جو یا تو گھروں میں کام کرتی ہیں یا بھٹوں پر ان کے ساتھ کچھ مرد بھی تھے اور یہ اپنے ہی نعروں کے ذریعے اپنا حق مانگ رہیں تھیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک دو نے انگریزی کے بینر اٹھا رکھے تھے جب ان سے ان پلے کارڈز کی تحریر کا مطلب پوچھا گیا تو جواب ملا ہمیں نہیں معلوم، ہم پڑھے لکھے نہیں،ہم باجی کے حکم پرآئی ہیں ۔

دوسری طرف حیامارچ میں باپردہ خواتین ،مدارس کے طلباء اورعوام النا س بڑی تعدادمیں شریک تھے، حیا مارچ اختتام پذیرہورہاتھا معروف عالم دین پیر عزیز الرحمن ہزاروی نے ایک دلسوزخطاب کیا اورخواتین کو دعوت دی کہ وہ گمراہی کی طرف نہ جائیں اسلام کی پناہ گاہ میں آجائیں وہ اختتامی دعاکروارہے تھے کہ جوں ہی پی ٹی ایم کے علی وزیراپنے ساتھیوںکے ہمراہ عورت مارچ میں پہنچے تواس کے شرکاء جذباتی ہوگئے ،اونچے میوزک کے ساتھ وکٹر ی کانشان بناکراشتعال انگیزنعرے لگانا شروع کردیئے۔

ایک نعرہ یہ سننے کوملاکہ یہ جوملاکی دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے اورساتھ ہی ایک خالی بوتل حیامارچ والوں کی طر ف اچھا ل دی،بوتل مافیاکی اس حرکت پر شدید نعرے بازی شروع ہو گئی یہی وہ موقع تھا جب عورت مارچ کی طرف سے پھینکاگیا ایک وزنی پتھرلگنے سے جے یوآئی کے کارکن عبدالظاہرکاکڑکا سرپھٹ گیا اس کے جواب میں حیامارچ والوں کی طرف سے بھی ڈنڈے اور جوتے پھینکے گئے۔ میں مولانا نذیر فاروقی اور مولانا ظہور احمد علوی ،مفتی عبداللہ ودیگرکے ہمراہ سٹیج سے یہ سارامنظردیکھ رہاتھا مگرہمارے میڈیانے جان بوجھ کرغلط رپورٹنگ کی یہ یوں ایک طے شدہ منصوبے کے تحت تصادم کاماحول بنایاگیا پچھلے کافی دنوں سے این جی اومافیاکی طرف سے اس طرح کاماحول بنانے کی کوشش کی جارہی تھی مگران کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئی تھیں ،کیوں کہ اگرمارچ پرامن ہو جاتا تو باہر سے آیا ہوا پیسہ کیسے ہضم ہوتا؟ علی وزیر اور اس کے

گماشتوں نے جوآگ لگائی تھی مفتی اویس عزیزاورعلامہ عبدالرحمن معاویہ ودیگرعلماء کرام اگراس کونہ بجھاتے توپھرعورت مارچ اورپی ٹی ایم والوں کی چیخیں دنیاسنتی ۔

اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی کہ جان بوجھ کرچنددن پہلے جامعہ حفصہ کے اطراف میں عورت مارچ کے متنازعہ پوسٹرآویزاں کیے گئے ان پرجب کسی نے سیاہی ملی تو شور مچایا گیا کہ مذہبی انتہاپسند ہمارے مارچ میں رکاوٹ ہیں، ان لبرلزکی تان ہمیشہ مذہبی جماعتوں کے خلاف ہی آکر ٹوٹتی ہے یہ جب تک علماء اور دینی جماعتوں کو گالیاں نہ دے لیں توروٹی ہضم نہیں ہوتی یہ ایساکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے کہ جس سے ملک اوراسلام کی بدنامی نہ ہو؟سول سوسائٹی کی ان آننٹیوں ماروی سرمد،گل بخاری ،گلالئی اسمعیل ،فرزانہ باری ،ثمرمن اللہ ودیگرکے غیرملکی میڈیاکودیئے گئے انٹرویوزاٹھاکردیکھ لیں ان کاٹارگٹ ریاست پاکستان اورمذہب ہے ۔

اب انہوں نے اس میں پی ٹی ایم کانیاتڑکالگایاہے کیوں کہ دونوں کے فنانسرایک ہیںاس سال پی ٹی ایم نے عورت مارچ میں کالج یونیورسٹیوں سے افرادی قوت فراہم کی ،معصوم طلباء وطالبات کوپختونوں کے حقوق کے نام پردھوکے سے مارچ میں لایاگیا اوراس قسم کے بینرزوپوسٹرزلائے گئے کہ جن میں سابقہ فاٹاکی گمشدہ خواتین کی بازیابی کے جھوٹے نعرے درج تھے پشتون تحفظ موومنت اس مظاہرے میں اپنارنگ دکھایا عورت مارچ میں شریک پی ٹی ایم کا ایک برقع پوش لڑکاگرفتارکی خبرکوہضم کردیاگیا حالانکہ یہ ہی برقع پوش حیامارچ سے پکڑاجاتاتواس وقت تک وہ خود کش بمبارکے طورپربریکنگ نیوزبن چکاہوتا۔

اسلام آبادپولیس بھی کسی دبائوکاشکارہے انہوں نے عورت مارچ اورریاست دشمن ایجنٹوں کے خلاف مقدمہ کرنے کی بجائے الٹا علمائے کرام پر پرچہ دے دیا اوراس میں ان علماء کوبھی نامزدکیاگیاجواس مارچ میں شریک ہی نہیں تھے اس سے بھی عجیب منطق ہے کہ سڑک کی ایک جانب دفعہ 144 کا نفاذ جبکہ دوسری جانب کھلی چھوٹ، ایک جانب ایمپلی فائر ایکٹ کی خلاف ورزی پرمقدمہ ہورہاہے تو دوسری جانب ہر طرح کی آزادی دی جارہی ہے ،جبکہ تھانہ کوہسارمیں ایک درخواست دودن سے پڑی ہوئی ہے جس میںکہاگیاہے کہ خواتین مارچ کے پر امن اختتام پر علی وزیر ایم این اے کی ہدایت پر پی ٹی ایم کے کارکنان نے گالیاں دینا شروع کیں اور اشتعال انگیزی کے ساتھ دیگر منتظمین مرد وخواتین ڈنڈوں سے ہم پرحملہ آورہوئے پتھرلگنے سے عبدالظاہرکاسرپھٹ گیا ،ریاستی اداروں کے خلاف برسر بیکار پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر ایم این اے ،و پی ٹی ایم کے نامعلوم کارکنان اور عصمت رضا شاہ جہاں ،طوبی سعید اور عمار رشید اور دیگر درجنوں نا معلوم مسلح مرد وخواتین کے خلاف فوری قانونی کاروائی کی جائے مگراسلام آبادپولیس کاروائی کرنے کی بجائے یہ درخواست واپس لینے پردبائوڈال رہی ہے ۔

عالمی یوم خواتین کے موقع پرنام نہادسول سوسائٹی اورمذہبی جماعتوں کی طرف سے ریلیاںاور کانفرنسیں منعقدکی گئیں مگران میں فرق صاف ظاہرتھا کہ کون عورت کے حقوق کی بات کررہاہے اورکون عورت کوجنس بازاربناناچاہتاہے ،مذہبی جماعتوں کی طرف سے تکریم نساء ، حیامارچ ،حقوق نسواں کے عنوان سے مظاہرے کیے گئے جواپنے نام سے سب واضح کر رہے تھے، ان مظاہروں میںکہاگیاکہ خواتین کو اسلام نے جو حقوق دیئے وہ ان کو ہر صورت ملنے چاہئیں، میراث کے حق سے عورتوں کو محروم کرنا، شادی بیاہ میں ان کی رائے کو نظر انداز کرنا، ونی کی رسم، بچیوں کی قرآن سے شادی جیسے مسائل خلاف اسلام ہیں، آج جوخواتین جو مادر پدر آزاد سماج کے قیام کی باتیں کررہی ہیں وہ اپنے حق کے حصول کے لیے نہیں بلکہ اپنے حق سے دستبرداری کا اعلان کررہی ہیں مغربی سماج خواتین کے حقوق کے نام پر خواتین کا استحصال کررہا ہے۔

عورت مارچ والوں کے دل میں واقعی خواتین کے حوالے سے کوئی دردہوتاتومقبوضہ کشمیرکی خواتین گزشتہ سات ماہ سے ایک جیل میں بندہیں بچوں کودودھ تک میسرنہیں ، مقبوضہ کشمیر کی خواتین اپنے بنیادی حق سے محروم ہیں،قابض بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ہزاروں خواتین کی آبروریزی ہوچکی ہے اور بھارتی جنرلز کھلے بندوں یہ اعلان کررہے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں لیکن ان جنگی جرائم پران لبرلزسمیت دنیاکا کوئی ادارہ بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ہوناتویہ چاہیے تھا کہ اس سال کاعالمی یوم خواتین ہم کشمیری خواتین کے نام کرتے مگر مادر پدر آزاد سماج کے قیام کی باتیں کرنے والوں کے نزدیک کشمیری عورتیں خواتین ہی نہیں اورنہ ہی اس کے لیے انہیں فنڈزملتے ہیں۔


ای پیپر